شیخ رشید کا وزیر داخلہ بننا پاکستان کے لیے خطرہ کیسے بن گیا؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شیخ رشید احمد کی بطور وزیر داخلہ تعیناتی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے بڑے مسائل پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے جس کی بنیادی وجہ فرزند راولپنڈی پر لگنے والا یہ الزام ہے کہ وہ ماضی میں جہاد کشمیر سے وابستہ مجاہدین کے لئے ایک ٹریننگ کیمپ چلاتے رہے ہیں جو کہ راولپنڈی کے علاقے فتح جنگ میں ان کے سینکڑوں ہر پھیلے فارم ہاؤس میں واقع تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد میں موجود سفارتی ذرائع شیخ رشید احمد کی بطور وزیر داخلہ تعیناتی کے بعد سے ان کے ماضی کے حوالے سے معلومات اکٹھا کرکے اپنے ملکوں کو بھجوا رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں کو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کی میرٹ ہوٹل اسلام آباد میں کی جانے والی وہ تقریر نہیں بھولی جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ماضی میں شیخ رشید کے راولپنڈی والے ٹریننگ کیمپ میں مہمان بن کر ٹھہرتے رہے ہیں جہاں پر کشمیری مجاہدین کو عسکری تربیت دی جاتی تھی۔
اسی پس منظر میں 27 جون 2012 کو شیخ رشید احمد کو امیگریشن سٹاف نے امریکہ کے ھیوسٹن ایئرپورٹ پر روک لیا تھا۔ ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ راولپنڈی میں مجاہدین کا ایک تربیتی مرکز چلاتے رہے ہیں۔ شیخ رشید سے چھ گھنٹے تفتیش کی گئی اور انکے دونوں موبائل فون قبضے میں لے کر ان کا ڈیٹا بھی کاپی کر لیا گیا۔ بالآخر تب واشنگٹن میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان کی مداخلت پر انہیں دبئی جانے کی اجازت دی گئی۔ شیخ رشید احمد کو امریکہ کا ملٹی پل اینٹری ویزہ ہونے کے باوجود ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ امریکی حکام جانتے تھے کہ وہ مشرف دور میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات رہ چکے ہیں۔
تاہم امریکی حکام یہ بھی جانتے تھے کہ شیخ رشید احمد اس زمانے میں آئی ایس آئی کے ایما پر بنائی گئی مذہبی اور جہادی گروپوں پر مبنی تنظیم، دفاع پاکستان کونسل، کے جلسوں میں بڑھ چڑھ کر امریکہ کے خلاف تقریریں کرتے ہیں اور جہاد کا درس دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ دفاع پاکستان کونسل کی رکن جماعتوں میں حافظ سعید کی جماعت الدعوہ اور مولانا سمیع الحق کی جمیعت علماء اسلام بھی شامل تھیں۔ جہاں حافظ سعید کشمیر جہاد کی داعی تھے تو مولانا سمیع الحق جہاد افغانستان کے داعی تھے۔ اور شیخ رشید پر یہ الزام تھا کہ وہ راولپنڈی کے علاقے فتح جنگ میں جو فریڈم ہاوس نامی ٹریننگ کیمپ چلاتے تھے وہاں کشمیری مجاہدین کی تربیت کی جاتی تھی۔
اس واقعہ کے بعد پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزااسلم بیگ نے بھی بی بی سی کو بتایا تھا کہ شیخ رشید اسلام آباد کے نزدیک ایک جہادی ٹریننگ کیمپ چلاتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1999 میں جب وہ پاک فوج کے سربراہ تھے تو انھیں اطلاعات ملی تھیں کہ اسلام آباد سے بیس کلومیٹر دور فتح جنگ روڈ پر شیخ رشید کا ٹریننگ کیمپ تھا جس میں مجاہدین کو تربیت دی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے علم میں جب یہ بات لائی گئی تو انہوں نے یہ کیمپ بند کروا دیا۔ جنرل اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ ان کے اس دعویٰ کی گواہی سابق وزیر اعظم دے سکتے ہیں۔ جنرل اسلم بیگ نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کو غیر ضروری قرار دیا جس میں دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ وفاقی وزیر شیخ رشید کو اس معاملے میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جنرل مرزا اسلم بیگ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کے میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں دیے گئے اس بیان پر تبصرہ کر رہے تھے جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ شیخ صاحب کے ٹریننگ کیمپ پر ساڑھے تین ہزار سے زائد کشمیری مجاہدین کو تربیت دی گئی۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس ٹریننگ کیمپ کی بنیاد سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے رکھی اور فریڈم ہاوس کا انچارج کمانڈر کشمیری مجاہد اشفاق مجید وانی تھا۔ یاسین ملک کے اس بیان نے پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر مسائل کھڑے کر دیے چوں کہ بھارت نے اس کو ایک بڑا ایشو بنا لیا تھا اور پاکستان کے خلاف استعمال کرنے لگا تھا۔
لہذا جب پاکستان پر دباؤ بڑھا تو یاسین ملک نے اپنے بیان کی تردید کرتے ہوئے یہ موقف اپنا لیا کہ انہوں نے شیخ رشید کے فارم ہاؤس پر مجاہدین کی گوریلا تربیت کا ذکر نہیں کیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ وہاں پر جموں کشمیر سے جان بچا کر پاکستان آنے والے کشمیریوں کو پناہ دی جاتی تھی۔ شیخ رشید احمد بھی موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اپنے جہادی بیانیہ سے پیچھے ہٹ گئے اور موقف اختیار کیا کہ وہ ایک سیاستدان ہیں، کوئی جہادی نہیں اور نہ ہی ان کے فارم ہاؤس پر کسی قسم کی کوئی جہادی تربیت دی جاتی ہے۔
اسکے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی یہ بیان دے دیا کہ شیخ رشید کے بارے میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر رپورٹ کیا گیا۔ اس سے پہلے ہندوستانی وزارت خارجہ نے ان خبروں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کشمیری شدت پسندوں کے لیے مبینہ طور پر تربیتی کیمپ قائم کئے تھے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق یہ اطلاعات پاکستان کے اس دعوے کے برعکس ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین سے کسی طرح کی شدت پسند سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا۔
تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جنرل اسلم بیگ نے کہا تھا کہ یہ کیمپ بند ہونے کے باوجود اب بھی ایک فارم ہاؤس کے طور پر فتح جنگ روڈ پر موجود ہے جس کا ’فریڈم ہاؤس’ کے نام سے بورڈ اب بھی روڈ پر لگا ہوا ہے اور یہ شیخ رشید کے قبضے میں ہے۔ اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کو یا حکومت کو اب یہ بات چھپانے کی ضرورت اس لیے نہیں کیونکہ یہ پندرہ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ خیال رہے کہ یاسین ملک نے بتایا تھا کہ 1988 سے 1991 تک شیخ صاحب خے کیمپ میں 3500 کشمیری حریت پسندوں کو جہادی تربیت دی گئی۔ یاسین ملک تو کشمیری جہاد میں شیخ رشید احمد کا روشن کردار بیان کر رہے تھے لیکن وہ شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے اس بیان کا کیا ردعمل آئے گا۔ یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد سے بھارتی حکومت نے کبھی بھی شیخ رشید احمد کو بھارت یا جموں کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔
لاہور کے ایک معروف صحافی نجم ولی خان بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے شیخ رشید احمد کا فتح جنگ میں فریڈم ہاوس دیکھا تو انکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ نجم خان اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ میں نے دیکھا وہاں ہرن دوڑ رہے ہیں، مور ناچ رہے ہیں، گائیوں بھینسوں کا باڑہ الگ ہے اور خرگوش ، بطخیں وغیرہ اپنی جگہ پر، فارم ہاوس کے بیچوں بیچ ایک جھیل جس کے ارد گرد سرخ رنگ کے خصوصی پھولوں کی مہک، فارم ہاوس کی اپنی عمارت اور زرعی رقبہ دوسری طرف اور وہاں چین سے منگوائے گئے بنے بنائے گھر بھی موجود تھے، ہر گھر کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔ نجم ولی کے مطابق شیخ صاحب کے فارم ہاوس ایک طویل لمبی غار بھی ہے جس کے اندر بجلی کے قمقموں سے جگمگاتے کمرے اور طویل راہدارایاں ہی نہیں بلکہ قیمتی لوازمات سے سجے باتھ روم تک بنے ہوئے ہیں۔ اس غارکو ٹھنڈا رکھنے کے لئے اس کے اوپر آبشاریں گرتی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اتنا خوبصورت فارم ہاوس شاید ہی میں نے کبھی کہیں دیکھا ہو۔
نجم ولی خان طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے انکے فارم ہاوس کا نام بہت خوبصورت لگا، فریڈم ہاوس یعنی ہمارے عوامی سیاستدان شیخ رشید احمد کو غربت سے آزادی دلانے والا گھر۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ شیخ رشید نے اپنی اس قیمتی جائیداد کو نہ صرف اپنے گوشواروں میں ظاہر کیا ہوگا بلکہ اس کی خریداری اور تعمیر میں صرف ہونے والی رقم اور اس پر ادا کئے گئے ٹیکس کو بھی ظاہر کیا ہوگا، ورنہ ایک مڈل کلاس سیاستدان ایسے لگژری فریڈم ہاوس کا مالک کیسے بن سکتا ہے؟
