شیخ رشید کی نازیبا تصاویر نے ایک لڑکی کی زندگی کیسے برباد کی؟


حالیہ دنوں شیخ رشید احمد کی ایک نوجوان لڑکی کی ساتھ نامناسب تصاویر کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد رنگین مزاج وفاقی وزیر پر تو تنقید ہوئی ہی لیکن متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ فوٹو شاپڈ تصاویر کی وجہ سے ہر کوئی اس پر تھو تھو کررہا ہے اور وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔
خاتون کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی نازیبا تصاویر نے میری زندگی تباہ کردی ہے نہ کہ میں ایک نہایت شریف اور سادہ سی گھریلو لڑکی ہوں۔ تصاویر میں نظر آنے والی لڑکی نے منظر عام پر آتے ہوئے وزیر داخلہ کے ساتھ سلفیاں بنانےکا اعتراف تو کیا لیکن اس کا موقف ہے کہ وہ نوکری کے لیے شیخ صاحب سے ملاقات کرنے گئی تھی۔ ایک انٹرویو میں لڑکی نے کہا کہ جب سے یہ سکینڈل منظر عام پر آیا ہے میری زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ لڑکی کے بقول جب میں نے وہ تصویریں دیکھیں تو مجھے جھٹکا لگا کہ یہ بے بنیاد سکینڈل کسی نے کیوں بنایا۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید احمد ملک کے بڑے سیاستدان اور مشہور شخصیت ہیں اور کوئی بھی جب ان سے ملاقات کرے گا تو سیلفی بنانے کی خواہش ضرور ظاہر کرے گا۔ اسکا کہنا یے کہ میں بھی جب شیخ ضاحب کو ملنے گئی تو ان کے ساتھ کچھ سیلفیاں بنائیں ۔تاہم جو عریاں اور گندی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں وہ سب فوٹوشاپ کی گئی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس نے کہا کہ یہ تصاویر شیخ رشید کیساتھ ساتھ میری زندگی بھی برباد کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ ایک سوال پر متاثرہ لڑکی نے کہا کہ سکینڈل کے بعد سے اسکا شیخ صاحب سے کوئی رابطہ نہیں ہوا لیکن میرے دوست اور جاننے والے پوچھ رہے ہیں کہ یہ سب کیا ہے جس پر مجھے شرمندگی ہورہی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ میرا شیخ رشید احمد صاحب کے ساتھ کوئی غلط تعلق نہیں ہے اور نہ ہی میرا شیخ صاحب کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ میں نے صرف شیخ صاحب کیساتھ ایک ملاقات کے دوران تصویریں بنوائی تھیں جنہیں غلط انداز میں فوٹو شاپ کیا گیا۔
تاہم پھر متاثرہ لڑکی نے یہ کہہ دیا کہ یہ تصاویر تب کی ہیں جب شیخ رشید ریلوے کے وزیر تھے۔ لیکن جب وہ وزیر ریلوے تھے تب یہ تصاویر شیئر کیوں نہیں کی گئیں اور اب جب وہ وفاقی وزیر داخلہ بنے ہیں تو ان تصاویر کو فوٹو شاپ کرکے سوشل میڈیا پر کیوں اور کس نے شیئر کیا گیا ؟ اس نے کہا کہ یہ سمجھے اور سوچنے والی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو شیخ رشید کا وزیرداخلہ بننا ہضم نہیں ہورہا اس وجہ سے وہ انہیں بدنام کرنا چاہتے ہیں ۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ لوگ ان جعلی تصاویر کی وجہ سے میری عزت پر کیچڑ اچھا ل رہے ہیں اور میرے اپنے بھی مجھ پر تھو تھو کررہے ہیں۔ میں نے سب کو یقینی دہانیاں کرائیں کہ یہ تصاویر جعلی ہیں مگر پھر بھی لوگ میرا یقین نہیں کررہے ہیںجس سے میری زندگی تباہ ہو گی۔انہوں نے کہاکہ شیخ رشید احمد کیساتھ جو لڑکی کرسی پر بیٹھی ہے وہ میں ہوں لیکن جو بیڈ پر ان کیساتھ لیٹی ہے وہ میں نہیں بلکہ اس لڑکی کے دھڑ پر فوٹو شاپ کرکے میرا سر لگایا گیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں جاب کے سلسلے میں شیخ رشید احمد سے ملی تھی ۔اس کے بعد سے اب آج تک کبھی ان سے نہیں ملی ہوں۔ میرا جاب کے حوالے سے شیخ رشید سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا اور نہ ہی میں نے ایسی گھٹیا حرکت کرسکتی ہوں۔ لڑکی نے مزید بتایا کہ ان کے والد ریلوے میں ملازم ہیں اور کچھ برس قبل شیخ رشید نے اس کے بھائی کو بھی ریلوے میں ملازمت دے دی تھی۔
خیال رہے کہ مذکورہ لڑکی نے کچھ روز پہلے اپنی صفائی دینے کے لئے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ پریس کانفرنس منسوخ کردی گئی جس کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ اوپر سے لڑکی پر دباؤ آیا کہ معاملہ خود ہی ٹھنڈا پڑ جائے گا لہذا اب وہ خاموشی اختیار کرلے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس واقعے نے لڑکی کی عزت پر جو داغ لگایا ہے وہ شاید کبھی صاف نہ ہوسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button