صحافیوں پر حملے کرنے والے نامعلوم افرد تگڑے نکلے

ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ پاکستان میں طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کے دوہرے معیار ہیں اور سچ بولنے والے صحافیوں پر قاتلانہ حملے کرنے والے نامعلوم افراد سب اداروں سے تگڑے اور ناقابل گرفت ہیں۔
یہ تاثر 12 نومبر کو تب مزید پختہ ہوا جب اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق اسلام آباد کے محتلف تھانوں میں درج کیے گئے مقدمات کی تفتیش میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں سپریم کورٹ کو ایک رپورٹ جمع کروائی۔ رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا لیکن پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم اور بلاگر اسد طور پر حملہ کرنے والے ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں صحافیوں پر حملہ کرنے والوں کی ویڈیو فوٹیجز موجود ہیں جن میں ان کے چہرے بھی صاف نظر آ رہے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 16 مقدمات درج کیے گئے جبکہ جن افراد کو نامزد کیا گیا ان میں سے 32 کو گرفتار کر کے ان کے خلاف تحقیقات مکمل کر کے چالان متعلقہ عدالتوں میں پہنچا دیے گے ہیں۔
اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں یہ مقدمات 13 ستمبر سنہ 2020 سے 12 ستمبر سنہ 2021 کے درمیان درج ہوئے تھے۔ اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے یہ رپورٹ عدالت عظمیٰ کی طرف سے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق لیے گئے از خود نوٹس پر جمع کروائی۔ اس سے پہلے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کے حوالے سے بھی اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ میں ایسی ہی ایک کھسی پورٹ جمع کرائی تھی جس کا مقصد گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔
یاد رہے کہ لاہور میں ایف آئی اے کی جانب سے دو سینئر صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے عامر میر اور عمران شفقت کی گرفتاری کا وٹس لیتے ہوئے اپنی سربراہی میں ایک بنچ بنا دیا تھا اور حکومتی افسران کو طلب کرلیا تھا۔ تاہم تب کے قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کسی سخت فیصلے کے پیش نظر فائز عیسیٰ کا بنچ ختم کر کے جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ تشکیل دے دیا تھا۔
لیکن عامر میر اور عمران شفقت نے سپریم کورٹ کے اس بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا تھا۔ عامر میر نے اس حوالے سے تحریری طور پر لکھا تھا کہ سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاستی ادارے عدلیہ سے زیادہ تگڑے ہیں لہذا انہیں انصاف کی امید نہیں۔
دوسری جانب اسی کیس میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق صحافیوں پر حملوں کے 16 میں سے 12 مقدمات کے چالان عدالتوں میں بھجوا دیے گئے ہیں۔ ان 16 مقدمات میں سے آٹھ مقدمات سٹی سرکل، چھ مقدمات رورول سرکل جبکہ دو مقدمات صدر سرکل کے مختلف تھانوں میں درج کیے گئے ہیں۔ لیکن اس رپورٹ کے مطابق معروف صحافی ابصار عالم اور بلاگر اسد طور پر حملہ کرنے والے ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو چند ہفتوں میں گرفتار کیا جائے گا۔ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں ابصار عالم اور اسد طور کے مقدمات کی تفتیش میں نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کی رپورٹ کا بھی ذکر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ابصار اور اسد پر جہاں حملے کیے گے وہاں سے سی سی ٹی وی فوٹیجز تو حاصل کی گئی تھیں لیکن ان کی کوالٹی بہتر نہیں تھی جس وجہ سے حملوں میں ملوث افراد کی شناخت نہیں ہو سکی۔ یہ دونوں مقدمات ابھی تک زیر تفتیش ہیں اور ایس پی صدر سرکل کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی ہے تاہم مہینوں گزرنے کے باوجود ابھی تک ان مقدمات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔
پولیس نے ابصار عالم پر حملہ کرنے کے مقدمے میں 22 افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں جبکہ اسد طور پر حملے کے مقدمے میں 30 عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جب مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا تھا تب بھی سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے اس واقعے میں ملوث ملزمان کے بارے میں رپورٹ مانگی تھی۔ اس رپورٹ میں بھی پولیس حکام کی طرف سے یہ بتایا گیا تھا کہ جس گاڑی میں صحافی کو اغوا کر کے لے جایا گیا تھا اس کا ریکارڈ سیف سٹی کیمروں میں نہیں آیا جس وجہ سے نہ ہی گاڑی اور نہ ہی ملزموں کا کوئی سراغ مل سکا ہے۔
