اپوزیشن کا پارلیمانی کمیٹی میں مساوی نمائندگی کا مطالبہ منظور
وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس کوئی لیڈر نہیں ، اپوزیشن جماعتوں کا ٹولہ ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف ہے جبکہ اپوزیشن کا پارلیمانی کمیٹی میں مساوی نمائندگی کا مطالبہ بھی منظور کر لیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ اپوزیشن ذاتی مفادات کی جنگ لڑ رہی ، ساری اپوزیشن تھکے ہوئے پہلوانوں کی ہے، کھڑے ہوتے ہیں تو دوبارہ گر جاتے ہیں ، بلاول بھٹو کو تو ابھی لاڑکانہ کا گلیوں کا بھی نہیں پتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم وفاق کے مفاد کو سامنے رکھتے ہیں، صوبائی اور فرقہ واریت کی بات نہیں کرتے ، اپوزیشن کو تحفظات ہیں تو اپنا متبادل بتائے ، اس کے لیے سپیکر اپوزیشن سے رابطے میں ہیں۔
پی ٹی آئی کورکمیٹی نے مختصرنوٹس پر عدالت پیشی پر وزیراعظم کی پذیرائی بھی کی ، سابق وزیراعظم نوازشریف کو عدالت نے بلایا تو وہ جتھہ لیکر پہنچ گئے جبکہ ہم الیکشن کمیشن کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اجلاس کا سب سے اہم ایجنڈا پر قابو پانا تھا، پوری دنیا میں مہنگائی کی لہر ہے، مہنگائی کی وجہ سے امریکا جیسا ملک بھی شدید دباؤ میں ہے ،دیگر ملکوں کے برعکس پاکستان کی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے ، کئی شعبوں کی آمدن میں خاطرخواہ اضافہ ہوا۔
فواد چودھری نے کہا کہ بجلی مہنگی ہو گئی لیکن اس کی کھپت میں اضافہ ہوا ، پٹرول مہنگا ہوا لیکن اس کی کھپت 26فیصد بڑھی ، قیمتوں میں اضافے کے باوجود گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی فروخت بڑھ گئی۔
کور کمیٹی اجلاس کے دوران الیکشن کمیشن کے اراکین کی تعیناتی کے معاملے پر حکومت نے پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کو مساوی نمائندگی دینے پر رضا مندی کا اظہار کر دیا ، حکومت اور اپوزیشن سے 6-6 نمائندے کمیٹی کا حصہ ہوں گے ، نظرثانی شدہ پارلمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس 15 نومبر کو طلب کر لیا گیا ہے۔
