نوابشاہ: صحافی عزیز میمن کے قاتل گرفتار، اعتراف جرم کر لیا

سینئر صحافی عزیز میمن کے قاتلوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے. صحافی عزیز میمن کے قتل کے حوالے سے قائم جے آئی ٹی کے سربراہ اورایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ پولیس اے آئی جی غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ گرفتار ملزموں نے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ واردات میں آٹھ افراد ملوث تھے۔ غلام نبی میمن نے انکشاف کیا ہے کہ تفتیش کے دوران اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صحافی عزیز میمن کو قتل کیا گیا، ان کی موت طبعی نہیں تھی، عزیز میمن کے قتل کا ماسٹر مائنڈ مشتاق سہتو ہے، گرفتار نذیر سہتو نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
نوابشاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے آئی جی غلام نبی میمن نے کہا کہ ملزمان نے خود کوچھپانے کی بہت کوشش کی لیکن قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے، تفتیش کےدوران تمام اداروں نے مکمل تعاون کیا، قتل کیس میں اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، مزید پانچ کو گرفتار کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اعترافی بیان کے بعد ملزم نذیر سہتو کو جوڈیشل اور دیگر دو ملزمان کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 11مارچ کو صحافی عزیز میمن کی میت کا دوبارہ پوسٹمارٹم کرنے کا فیصلہ کیا، اس میں سارے اداروں نے تعاون کیا ، جس سے مثبت نتائج آئے ہیں۔صرف چار دنوں میں 15مارچ تک ہم نے میت کا دوبارہ پوسٹمارٹم کروایا۔ جس سے مقتول کا فارن ڈی این اے ہوا، جس سے مشتبہ افراد اور رشتہ داروں کا ڈی این اے کرنے میں مدد ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ 81 لوگوں کا ڈی این اے کیا۔ ملزمان نے خود کو چھپانے کی بڑی کوشش کی، لیکن پولیس ملزمان تک پہنچ گئی۔ ملزم نذیر پہلے مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ ہم نے اس کو پکڑ کر تفتیش کی۔ تو اس نے اپنے جرم کا اقرارکر لیا. کیس میں ابھی تک تین ملزمان نذیر،فرحان اور امیرکو گرفتار کرچکے ہیں، مزید پانچ ملزمان کو گرفتار کرنا باقی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عزیز میمن کا 16فروری کو جب قتل ہوا۔ اس سے پہلے انہوں نے قتل کی منصوبہ بندی کررکھی تھی۔ملزم نے بتایا کہ عزیز میمن کو منہ پر کپڑا ڈال کر قتل کیا گیا۔مشتاق نے کپڑامنہ پر رکھ کر سانس بند کی۔ اس کے بعد لاش نہر میں بہا دی۔
اے آئی جی سندھ نے بتایا کہ صحافی عزیزمیمن کو قتل کیا گیا، موت طبعی نہیں تھی، عزیز میمن کو دشمنی پرقتل کیا گیا، ملزم نذیر سہتو کا ڈی این اے میچ کر گیا، نذیر نے تفتیش کے دوران مزید ملزمان کےنام بھی بتائے اور عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی ملزم کا نام مشتاق سہتو ہےجو قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا، ان کا مزید کہنا تھا کہ میں کوئی غیرمصدقہ بات نہیں کروں گا، عزیز میمن کو دشمنی کی بنا پر قتل کیا گیا، مزیدتحقیقات جاری ہے۔
مقتول صحافی کے بھائی عبدالحفیظ میمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عزیز میمن کے قتل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔عبدالحفیظ میمن نے کہا کہ کیس میں 200 افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ کی گئی، اب تک کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔
خیال رہے کہ عزیز میمن کی لاش 16 فروری کو محراب پور کے قریب نہر سے ملی تھی۔ پولیس نے 19 فروری کو عزیز میمن کے کیمرہ مین سمیت 4 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقتول صحافی عزیز میمن کو گزشتہ سال بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ کے دوران اس وقت شہرت ملی تھی جب انہوں نے ٹرین مارچ میں 200 روپے لے کر آنے والی خواتین کی اسٹوری کی تھی۔ خبر کے بعد مقتول صحافی عزیز میمن کو دھمکیاں مل رہی تھیں جس کا اظہار انہوں نے کئی بار کیا بھی تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button