صدارتی خطاب پر حکومت اور ایوان صدر میں پھڈے کا امکان

قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس کے آغاز سے پہلے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے ہونے والے صدارتی خطاب پر وفاقی حکومت اور ایوان صدر کے مابین پھڈا پڑنے کا امکان ہے۔ روایت کے مطابق صدر مملکت کو عموماً وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ متن سے تقریر کرنا ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ موجودہ صدر عارف علوی کا تعلق تحریک انصاف سے ہے اور وہ عمران حکومت کے خاتمے کے بعد سے ایک عمرانڈو صدر کا کردار ادا کر رہے ہیں اس لئے قوی امکان ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تقریر نہیں کریں گے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر صدارتی خطاب کے دوران عمرانڈو صدر ہونے کے ناطے عارف علوی اپنے گمرانڈو قائد عمران خان کی تشہیر کا چانس ضائع نہیں کریں گے، اور ہو سکتا ہے کہ وہ خان صاحب کا اقبال بلند کرنے کے لیے شہباز حکومت کو چارج شیٹ ہی کر دیں۔ ایسی صورتحال وفاقی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی چونکہ ہر برس ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدارتی خطاب سننے کے لیے تمام ملکوں کے سفیر اور فوجی قیادت بھی موجود ہوتی ہے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ اگر صدر عارف علوی نے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی صدارتی تقریر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو حکمران اتحاد کے ارکان کے پاس خاموشی سے واک آؤٹ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس صورت حال سے ایوان میں کورم کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ ماضی کے مقابلے میں چھوٹی ہو جانے والی اپوزیشن ہنگامہ آرائی نہیں کرسکے گی اس لیے اسپیکر3 راجہ پرویز اشرف کو اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ پھر صدر بھی اپنا خطاب جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
لیکن ذرائع نے یاد دلایا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کا انعقاد آئین کے آرٹیکل 56 کے تحت حکومت کی مجبوری ہوگی۔ ذرائع نے یاد دلایاکہ قومی اسمبلی کا پارلیمانی سال 13 اگست کو ڈائمنڈ جوبلی اجلاس کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے بتایا کہ حکمران اتحاد آئندہ ہفتے مشترکہ اجلاس کے شیڈول پر بات کرے گا، اس سلسلے میں تجاویز اتحادیوں کو بھجوا دی گئی ہیں، حکومت قومی اسمبلی کا اجلاس 19 ستمبر کو طلب کرنے پر غور کر رہی ہے اور آئین کے مطابق اس سے پہلے مشترکہ اجلاس ہونا ہے، صدارتی خطاب کے لیے مشترکہ اجلاس خاص طور پر بلانا ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ پہلے اجلاس 22 جولائی تک کیلئے ملتوی کیا گیا تھا لیکن پھر اسے 22 اگست تک ملتوی کر دیا گیا۔ اب پھر مشترکہ اجلاس کو 22 ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ تکنیکی طور پر مشترکہ اجلاس جاری ہے لیکن صدر عارف علوی جاری اجلاس میں اپنا خطاب نہیں کر سکتے۔
