صدر آصف علی زرداری مفاہمت کے بادشاہ کیسے بنے؟

سینئر سیاسی تجزیہ نگار محمد بلال غوری نے کہا ھے کہ لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ پیپلز پارٹی جو مزاحمتی مزاج کی حامل سیاسی جماعت تھی ،آصف زرداری نے اسے مفاہمتی جماعت کیوں بنادیا ہے؟ اس لئے کہ آصف زردای کی سوچ اور حکمت عملی حقیقت پسندانہ ہے۔ انہوں نے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا ہے ،وہ کسی بات کو انا کا مسئلہ نہیں بناتے۔وہ ڈٹ کر کھڑے رہنے اور شہید ہونے کے بجائے وقتی طور پر ایک قدم پیچھے ہٹ جانے کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور موقع ملتے ہی پیشقدمی کرنے میں دیر نہیں کرتے.
بلال غوری بتاتے ہیں کہ نومبر 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی تو آصف زرداری کو گرفتار کرلیا گیا۔ پہلے بدعنوانی کے مقدمات میں زیر حراست رہے پھر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس اور جسٹس نظام قتل کیس میں گرفتاری ڈال دی گئی۔ اس دوران جیل میں تشدد ہوا، زبان کاٹنےکی کوشش کی گئی۔ منصوبہ یہ تھا کہ آصف زرداری کو قتل کرکے خودکشی کا رنگ دیدیا جائے۔ مسلسل 8سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد دسمبر 2004ء میں آصف زرداری ضمانت پر رہا ہوئے، پاسپورٹ واپس ملا، ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکال دیا گیا تو وہ اپنی شریک حیات اور بچوں سے ملنے کیلئے دبئی چلے گئے۔ نئی اُفتاد یہ آن پڑی کہ انکے پاسپورٹ زائد المیعاد ہوگئے اور سفارتخانے کا عملہ تجدید کرنے سے انکاری تھا۔ کچھ عرصہ بعد ہی جنرل پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو کے تعاون کی ضرورت پڑ گئی۔ جنرل پرویز مشرف کی پاکستان میں اقتدار پر گرفت کمزور ہو رہی تھی۔ امریکی حکام کی طرف سے دبائو ڈالا جارہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں، صدارت کے منصب پر موجود رہیں اور پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیکر بینظیر بھٹو کو وزیراعظم بنا دیا جائے۔۔ بلال غوری کہتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ اور امریکی سفیر اس حوالے سے جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو دونوں سے رابطے میں تھے۔ بیک ڈو رابطوں کا سلسلہ تو جاری تھا مگرجنرل پرویز مشرف چاہتے تھے کہ انکی بینظیر بھٹو سے براہ راست ملاقات ہو اور آمنے سامنے بیٹھ کر معاملات طے کئے جائیں۔ مگر بینظیر بھٹو جنرل پرویز مشرف کیساتھ بیٹھنے سے گریز کر رہی تھیں کیونکہ ایسی صورت میں انکی ساکھ خراب ہوجاتی اور فوجی حکومت سے ڈیل کا تاثر اُبھرتا۔ یہ وہی دن تھے جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے۔جنرل پرویز مشرف نے موجودہ گورنر سندھ اور اس وقت کی ایک بڑی کاروباری شخصیت کامران ٹیسوری کو یہ ٹاسک دیا ۔ چنانچہ بینظیر بھٹو کی جنرل پرویز مشرف سے پہلی ملاقات اسی کاروباری شخصیت کے گھر پر ہوئی۔بات چیت کا سلسلہ چل نکلا تو قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی NROپر اتفاق رائے ہوا۔ سب معاملات طے پاگئے مگر بینظیر بھٹو نے پاکستان واپس آنے میں جلدی کی۔ اکتوبر 2007ء میں کارساز کے مقام پر خود کش حملہ ہوا اور پھر دسمبر 2007ء میں بینظیر بھٹو کو راولپنڈی لیاقت باغ میں شہید کردیا گیا۔ اگر بی بی کو قتل نہ کر دیا جاتا تو یوسف رضا گیلانی کے بجائے وہ وزیراعظم بنتیں اور آصف زرداری چپ چاپ کسی کونے میں بیٹھے دہی کھاتے رہتے مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ بلال غوری بتاتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری نے ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا اور بادشاہ گر بن گئے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جنرل پرویز مشرف مستعفی ہوجائیں گے۔آصف زرداری جو کبھی کونسلر کا الیکشن نہیں جیتے تھے،صدر مملکت منتخب ہوگئے۔کئی بار یوں لگا جیسے انہیں ایوان صدر سے اُٹھا کر باہر پھینک دیا جائے گا مگر مفاہمت کے بادشاہ نے پانچ سال پورے کئے اور اب مارچ2024ء میں دوسری بار صدر مملکت منتخب ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

Back to top button