تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست اب کیسے ناکام بنائی جاۓ گی؟

سینئر صحافی وسعت الله خان نے کہا ہے کہ جمعے کے جمعے پی ٹی آئی کے حامیوں کے پشاور، لاہور، کراچی میں دھاندلی کے خلاف مظاہرے رمضان میں بھی بھلے جاری رہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ اس لمحے مملکتی ویگن کے تمام گیئرز پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت بظاہر مضبوط ہے۔ فارم 45 اور 47 پر ہائے واویلا اپنی جگہ، اس بابت عدالتی پیٹیشنز اور اسٹے آرڈرز سر آنکھوں پر لیکن پی ٹی آئی کی دال گلنے کے لیے جو تحریکی آنچ چاہیے اس کی تپش شاہراہوں کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ تپش زیادہ بڑھی تو سوشل میڈیا کا سوئچ کچھ اور سختی سے مروڑ دیا جائے گا۔تحریک انصاف کیا اس حالت میں ہے کہ اپنے ووٹروں کے غصے کی گرمی دھیمی نہ ہونے دے اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر، عدالتی ایوانوں اور سڑک پر معاملہ گرم رکھ سکے؟ بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ اپنی ایک تحریر میں وسعت الله خان لکھتے ہیں کہ مارچ 1977 میں اس سے بہت کم انتخابی بے قاعدگی پر سوشل میڈیا نہ ہونے کے باوجود روز مرہ زندگی ڈھائی ماہ کے لیے رک سی گئی تھی۔ تب کی فوجی قیادت نیوٹرل سے جانبداری کی جانب مرحلہ وار گئی ۔اسی لیے حکومت آسانی سے بدل گئی۔ آج بیشتر بے قاعدگیوں کے دستاویزی ثبوت سوشل میڈیا کے سمندر میں تیر رہے ہیں مگر تحریکِ انصاف پی این اے نہیں ہے اور فوج کا سپاہ سالار ضیا الحق نہیں ہے۔ تب فوج اور حزبِ اختلاف ایک پیج پر تھی ۔آج فوج اور نومنتخب حزبِ اقتدار جولائی 2018 کی نوٹ بک کے پیج پر ہیں. جب آپ سیاسی بیابان میں تنہا ہوں اور کوئی بھی قابلِ ذکر جماعت ساتھ نہ کھڑی ہو۔ خود پارٹی کا اپنا رویہ بھی ہمیشہ کی طرح غیر لچک دار ہو۔ اگر کوئی ہاتھ بڑھانا بھی چاہے تو وہ بھی کنفیوژ ہو کہ جس سے مصافحہ کر رہا ہے خود پارٹی کے اندر اس کا اپنا وزن کتنا ہے؟ وہ بطور پارٹی نمائندہ بات کر رہا ہے یا اپنے ذاتی اخلاص میں بات کر رہا ہے یا قیدی نمبر 804 کے خیالات کی نمائندگی کر رہا ہے۔ وسعت الله خان کے مطابق یقیناً 9 مئی کے بعد سے پنڈتوں کی تمام تر توقعات کے برعکس پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں نے پر کٹنے کے باوجود نہ صرف ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا بلکہ انتخابی قوانین و رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھرپور سوشل میڈیا مہم کے ذریعے اپنا ووٹر پولنگ اسٹیشن تک پہنچا کے ثابت کیا کہ وہ آج بھی سب سے مقبول جماعت ہے۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ پیالے اور لبوں کے درمیان کئی نشیب و فراز ہوتے ہیں۔ یہ گیم ہے اسٹیمنے کی۔ طاقت کا سرچشمہ سمجھے جانے والے ریاستی ادارے سنہ 2011 سے سنہ 2021 تک پی ٹی آئی پر جتنے ریشہ ختمی تھے آج ان کا 180 ڈگری پر گھوما رویہ اتنا ہی کسیلا، غصیلا اور سبق سکھانے کے موڈ والا ہے۔ بنیادی وجہ ایک ہی ہے ’ہماری بلی اور ہمیں کو میاؤں‘۔ لہذا پی ٹی آئی کے ساتھ جو بھی ہو رہا ہے اس سے جو پیغام دینا مقصود ہے وہ سب کے لیے ہے اور پیغام یہی ہے کہ مستقبلِ قریب میں جراتِ پرواز آزمانے کا شوق کسی اور گروہ یا جماعت کے دل میں مچل رہا ہو تو اسے 10 بار سوچنا چاہیے۔ پی ٹی آئی آزمائش کی کٹھالی میں ڈالی جانے والی نہ تو پہلی جماعت ہے اور نہ ہی آخری۔ اگر کسی کو بنایا جاسکتا ہے تو بگاڑا بھی جا سکتا ہے اور کس بل نکال کے پھر سے سنوارا بھی جا سکتا ہے۔
وسعت الله خان کہتے ہیں کہ تاریخ کا اپنا مزاج اور رفتار ہے۔ وہ کوئی زیادہ پرانا زمانہ بھی نہیں تھا جب بہت سی مقدس گائیں جس کھیت میں چاہتیں چر لیتی تھیں اور لوگ باگ بھی نسبتاً بامروت و تمیز دار ہوا کرتے تھے اور راستہ بدل لیتے تھے۔ آج بس ایک یا 2 مقدس گائیں ہی بچی ہیں اور وہ بھی اس منہ پھٹ بدتمیز پود کی زد میں ہیں جس نے 21 ویں صدی میں آنکھ کھولی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے سے زیادہ اور قسم ہا قسم دباؤ کے باوجود مقدسین کا دبدبہ عام آدمی پر کم ہوا ہے۔ اسی لیے پچھلے 10 برس میں بار بار تمیز تہذیب کا ماحول بحال کرنے کی کوشش میں سائبر قوانین سمیت متعدد تادیبی قوانین نافذ کرنے پڑ گئے۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ شرافت کی تو حدود و قیود ہوتی ہیں ، بدتمیزی لامحدود ہو سکتی ہے۔ اس وقت بظاہر سکون ہے اور معاملات قابو میں ہیں۔ سب اہم عہدوں پر جہاں دیدہ دیدہ کی اطمینان بخش تقرریاں ہو چکی ہیں۔ مگر جو سکونی مہلت ملی ہے وہ مختصر بھی تو ہو سکتی ہے۔ اس قیمتی وقفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر بنیادی آزادیوں اور آئین کی تقدیس کی بحالی اور پریشر کوکر میں بننے والی بھاپ بنانے والی آنچ کو صلح جوئی و مفاہمت کی نئیت سے دھیما نہ کیا گیا تو اگلی لہر اور بڑا طوفان اٹھا سکتی ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہمارے پالیسی ساز نیوٹن سر پر گرنے والے تازہ سیب کو پہلے کی طرح دھو کے کھانے کے بجائے سنجیدگی سے غور کریں کہ سیب اوپر کیوں نہیں جاتا۔ ہمیشہ نیچے ہی کیوں آتا ہے؟ آپ بھلے اس مسئلے پر دھیان دیں یا نہ دیں۔ کششِ ثقل تو رکنے سے رہی

Back to top button