کیا نئی حکومت پیٹرول سستا کر کے عوام کو ریلیف دیگی؟

نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کی تاریخ بھی سر پر ہے، عوام کی اکثریت ریلیف کے لیے نئی حکومت پر نظریں جمائے بیٹھی ہے، اب دیکھنا ہوگا کہ نومنتخب حکومت عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب رہتی ہے یا پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ برقرار رہے گا۔شہباز شریف حکومت سے عوام کو توقعات ہیں کہ وہ آتے ہی عوام کو ریلیف دے گی۔ اب 15 مارچ کو وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ کرنا ہے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت اور ڈالر کی قدر کو دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی نہیں کی جا سکتی، تاہم ہو سکتا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دے۔گزشتہ برس، ہر ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ یا کمی ہوتی رہی ہے تاہم رواں سال کے آغاز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا۔ اب 15 مارچ سے بھی پیٹرول کی قیمتیں برقرار رکھے جانے کی امید کی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ حکومت نے پچھلی بار 29 فروری کو جب پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 13 پیسے کا اضافہ کیا تھا، اس وقت انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 279 روپے تھی، جو اب بھی 279 روپے ہی ہے۔ اسی طرح، خام تیل کی قیمت اس وقت 81 ڈالر فی بیرل تھی جوکہ اب بھی 81 ڈالر ہی ہے۔گزشتہ برس کے اختتام پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 73 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔ اس سے قبل اکتوبر میں خام تیل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ گزشتہ ایک ماہ سے خام تیل کی قیمت مستحکم ہے اور اس وقت خام تیل کی قیمت 81 ڈالر فی بیرل ہے۔پاکستان میں ڈالر کی قیمت گزشتہ ایک ماہ سے 279 روپے تک مستحکم ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل اور ڈالر کی قیمت میں استحکام کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل نہیں کیا جائے گا تاہم قیمتوں کا حتمی فیصلہ وزارت خزانہ 15 مارچ کی شب اوگرا کی سمری کی روشنی میں کرے گی۔فروری کے اوآخر میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے 13 پیسے کا اضافہ کیا گیا، 31 جنوری کو برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھنے کے باعث پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 55 پیسے اضافہ کیا گیا۔ اس سے قبل، حکومت نے عوامی اُمیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہوئے 15 جنوری کو پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، جنوری میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا، گزشتہ سال ستمبر سے پاکستان میں روپے کی قدر مستحکم اور ڈالر سستا ہو رہا تھا، انٹربینک میں ڈالر307 روپے سے کم ہو کر 23 اکتوبر کو 275 روپے کا ہو گیا، رواں برس کے آغاز سے ایک مرتبہ پھر ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، جو 289 روپے سے کم ہو کر اس وقت 279 روپے کا ہو گیا ہے۔
