صدر ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور شروع کردیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

امریکی اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزائر پر قبضے کا آپشن بھی زیرِ غور ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو جلد شکست دی جائے گی۔ایران ملاقات کا خواہاں ہے اور معاملہ طے کرنا چاہتا ہے،تاہم یہ دیکھا جائے گاکہ آیا اس کے ساتھ کوئی سمجھوتا کیا جاتا ہے یا نہیں۔
قبل ازیں ایرانی پلوں پر حملوں کی ممکنہ ڈیڈ لائن سے متعلق صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہاکہ انہیں کسی قسم کی ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اپنا رویہ بہتر بنانا چاہیے کیوں کہ اسے موجودہ صورت حال کا مکمل ادراک ہے۔
ایران سے مذاکرات کے دوران مالی فائدے اٹھانے والی امریکی شخصیات کون؟
یاد رہے کہ امریکی فوج نے ایران پر پھر حملہ کردیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہےکہ ہدف ایران کی ہرمز سے گزرنےوالے جہازوں کےلیے خطرے کی فوجی صلاحیت ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سیریک،اہواز،چابہار اور بندر عباس میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،جب کہ حالیہ امریکی حملوں میں 7 ایرانی فوجیوں اور 30 عام شہریوں کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیاگیا ہے۔
