ایران سے مذاکرات کے دوران مالی فائدے اٹھانے والی امریکی شخصیات کون؟

ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے پس پردہ سفارتی رابطوں سے متعلق ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ نے نئی سفارتی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم نے نجی ملاقاتوں کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو آگاہ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور مذاکراتی عمل سے وابستہ بعض شخصیات مبینہ طور پر سفارتی پیش رفت کے بجائے مالی مفادات کے حصول میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے مذاکراتی عمل میں بعض افراد کے کردار، حساس معلومات کے مبینہ افشا اور مالی بے ضابطگیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا، تاہم وائٹ ہاؤس نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ایرانی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سامنے مذاکراتی عمل سے متعلق متعدد تحفظات کا اظہار کیا۔ امریکی ویب سائٹ کے مطابق یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے پس پردہ مذاکرات کے دوران ہوئی، جہاں ایران نے بعض امریکی شخصیات کے کردار پر سوالات اٹھائے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے بارے میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موجودگی کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے، کیونکہ ان کی توجہ مبینہ طور پر سفارتی مقاصد کے بجائے مالی مفادات پر مرکوز ہے۔رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران وٹکوف اور کشنر کے کردار پر اپنے تحفظات ضرور سامنے رکھے تھے۔ تاہم ذرائع نے ان دیگر الزامات یا مالی بے ضابطگیوں کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
امریکی ویب سائٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ متعلقہ شخصیات مبینہ طور پر مالیاتی منڈیوں سے اربوں ڈالر کے فوائد حاصل کرنے میں ملوث تھیں، تاہم اس حوالے سے کوئی عدالتی، سرکاری یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد پیش نہیں کیے گئے۔رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ مذاکرات سے متعلق حساس معلومات مسلسل اسرائیلی قیادت تک پہنچائی جا رہی تھیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ مذاکرات کے آغاز سے ہی امریکی مذاکراتی ٹیم کے بعض ارکان اسرائیلی وزیراعظم اور موساد کی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہے، جس پر ایران نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل بھی ایرانی حکام نے ثالثوں کے ذریعے صدر ٹرمپ کو ایک تحریری پیغام بھجوایا، جس میں ان کے بعض قریبی ساتھیوں پر مالی منڈیوں میں مبینہ مداخلت کے الزامات لگائے گئے تھے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے رپورٹ کو ایرانی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کیے گئے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کا مؤقف تھا کہ عمان اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی مؤقف، خصوصاً یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر، امریکی صدر تک مکمل اور درست انداز میں نہیں پہنچایا گیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ اسی تناظر میں ایران نے مذاکراتی ٹیم کو مزید وسعت دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
خیال رہے کہ مذکورہ رپورٹ میں شامل الزامات کی کسی آزاد ذریعے، امریکی حکومت یا بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے نے تاحال تصدیق نہیں کی، جبکہ متعلقہ امریکی حکام کی جانب سے بھی ان الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ اس لیے ان دعوؤں کو حتمی حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ اور اس پر مبنی متضاد مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
