پاکستان میں نئی گاڑی کی خریداری اب بھی عوام کی پہنچ سے باہر کیوں؟

پاکستان کی آٹو انڈسٹری ایک بار پھر تیزی سے بحالی کی جانب گامزن دکھائی دے رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں 39 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ موٹر سائیکلوں، رکشوں، جیپوں، پک اپس، ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں بھی خاطر خواہ بہتری سامنے آئی۔ شرح سود میں کمی، بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں آسانی اور نئی گاڑیوں کے ماڈلز کی آمد نے مارکیٹ میں سرگرمی تو بڑھا دی، مگر اصل سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا اس تیزی سے عام پاکستانی کو بھی فائدہ پہنچا ہے؟ یا نئی گاڑی آج بھی صرف محدود آمدنی رکھنے والے خوشحال طبقے کی دسترس میں ہے؟ یہی وہ حقیقت ہے جو آٹو انڈسٹری کی بحالی کے دعوؤں کے ساتھ ایک بڑا سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتی ہے۔
پاکستان کی آٹو انڈسٹری کئی برسوں کی شدید مشکلات کے بعد دوبارہ سنبھلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں گاڑیوں کی فروخت 39 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 55 ہزار 631 یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔صرف کاروں ہی نہیں بلکہ جیپوں اور پک اپ گاڑیوں کی فروخت میں 41 فیصد، ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں 67 فیصد جبکہ رکشوں کی فروخت میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی مجموعی فروخت بھی 30 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 20 لاکھ یونٹس کے قریب پہنچ گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مجموعی سرگرمی تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بہتری کی بنیادی وجوہات میں شرح سود میں کمی، بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں نرمی، درآمدی پابندیوں میں نسبتاً آسانی، نئی گاڑیوں کے ماڈلز کی مارکیٹ میں آمد اور پیداوار کا معمول پر آنا شامل ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ڈالر کی بلند قیمت، خام مال کی قلت، درآمدی رکاوٹوں اور پیداواری مسائل نے آٹو انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچایا تھا، جس کے باعث کئی پلانٹس بند ہوئے اور گاڑیوں کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں۔
اگرچہ مارکیٹ میں فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نئی گاڑی عام آدمی کی پہنچ میں آچکی ہے۔ آج بھی پاکستان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیاں نسبتاً کم قیمت ماڈلز ہیں، جن میں سوزوکی آلٹو سرفہرست ہے۔ اس کے بعد سوزوکی کلٹس، سوزوکی سوئفٹ، ٹویوٹا یارس اور ہونڈا سٹی کی طلب برقرار ہے، تاہم ان گاڑیوں کی قیمتیں بھی متوسط طبقے کے لیے خاصی بھاری ثابت ہو رہی ہیں، جبکہ ہونڈا سوک، ایس یو ویز اور دیگر جدید گاڑیاں ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد قیمت کے باعث عام خریدار کی پہنچ سے باہر ہیں۔
مارکیٹ سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ خریدار وہ ہیں جو بینک فنانسنگ کے ذریعے قسطوں پر گاڑیاں خرید رہے ہیں۔ شرح سود میں کمی کے بعد بینکوں نے دوبارہ آٹو قرضے دینا شروع کیے ہیں، جس سے مارکیٹ میں خریداروں کی واپسی ہوئی ہے۔ تاہم استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ میں نقد خریداری کا رجحان بھی بدستور مضبوط ہے۔
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق فروخت میں اضافے کو ملک گیر معاشی خوشحالی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ نئی گاڑی خریدنے کی استطاعت آج بھی محدود طبقے کے پاس ہے۔ کاروباری افراد، بہتر آمدنی رکھنے والے صارفین اور بینک فنانسنگ سے فائدہ اٹھانے والے خریدار ہی اس اضافے کا بڑا سبب بن رہے ہیں، جبکہ متوسط طبقہ اب بھی سستی گاڑیوں تک محدود ہے۔
دوسری جانب موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں شہری اب بھی دو پہیوں والی سواری کو ہی سب سے قابلِ استطاعت ذریعہ آمدورفت سمجھتے ہیں۔ اسی طرح رکشوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کو روزگار کے نئے مواقع سے بھی جوڑا جا رہا ہے، کیونکہ مہنگی گاڑیوں کے مقابلے میں رکشہ اور موٹر سائیکل کم سرمایہ کاری کے ساتھ آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آئندہ مہینوں میں شرح سود مزید کم ہوئی، روپے کی قدر مستحکم رہی، آٹو فنانسنگ جاری رہی اور حکومت ٹیکسوں میں مزید کمی لانے میں کامیاب ہوئی تو آٹو مارکیٹ کی موجودہ رفتار برقرار رہ سکتی ہے۔ تاہم اصل کامیابی اسی وقت تصور کی جائے گی جب پاکستان میں تیار ہونے والی نئی گاڑیاں واقعی متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی دسترس میں آ سکیں۔ اس وقت تک فروخت کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کے باوجود نئی گاڑی عام آدمی کے لیے اب بھی ایک مہنگا خواب ہی دکھائی دیتی ہے۔
