ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر میں لانگ مارچ روکنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری سیاسی اور عوامی کشیدگی کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ متعدد ہلاکتوں، سینکڑوں گرفتاریوں، مسلسل دھرنوں، انٹرنیٹ کی بندش اور سکیورٹی فورسز و مظاہرین کے درمیان خونریز تصادم کے بعد کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 15 جولائی کا مجوزہ لانگ مارچ روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم کالعدم کمیٹی کی جانب سے احتجاجی دھرنے بدستور جاری رکھنے کے فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ بحران ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ معاملات اب مذاکرات اور سیاسی حل کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومت ریاستی رٹ کے قیام پر زور دے رہی ہے تاہم انتخابات کی آمد نے اس پورے بحران کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی تحریک، سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب 15 جولائی کو ہونے والا لانگ مارچ روکنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم راولاکوٹ، ہجیرہ، عباس پور اور دیگر علاقوں میں جاری دھرنے بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 13 جولائی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا گیا تھا، جس میں پانچ جون کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، احتجاجی تحریک اور مطالبات سے آگاہ کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی گئی۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس خط کے جواب میں فیلڈ مارشل نے چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن سید قمر رضا کو اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کیا، جنہوں نے بدھ کے روز ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے۔ کمیٹی کے مطابق نمائندہ خصوصی نے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے لانگ مارچ روکنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم احتجاجی دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے۔ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار عمر نذیر نے راولاکوٹ کے دریک عیدگاہ گراؤنڈ میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ بعض مطالبات پر پیش رفت کے لیے مزید وقت درکار ہے، اس لیے مارچ کو وقتی طور پر روکا گیا ہے، لیکن احتجاجی کیمپ اور دھرنے حسبِ سابق جاری رہیں گے۔
خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں میں متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ ضلع سدھنوتی، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں ہونے والے تصادم نے خطے کی صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا تھا، جس کے بعد سیاسی اور انتظامی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز ہوئیں۔
واضح رہے کہ یہ احتجاجی تحریک گزشتہ تین برس سے بنیادی عوامی، معاشی اور انتظامی حقوق کے مطالبات کے گرد گھوم رہی ہے۔ ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ حکومت نے اکتوبر 2025 میں کیے گئے معاہدے کے تحت طے شدہ 38 نکات پر عمل درآمد نہیں کیا، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران بعض عناصر ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔
جون کے آغاز میں حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے سیکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں کے نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول فور میں شامل کیے تھے۔ اس کے بعد متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں، جبکہ ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ کئی افراد اب بھی حراست میں ہیں اور بعض گرفتار شدگان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب حکومت اور سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ احتجاج کی آڑ میں بعض شرپسند عناصر ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں اور پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ بعض مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں پر مسلح حملے کیے گئے، جبکہ خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اسی طرح پولیس نے ایک اہلکار پر مبینہ تشدد اور اس سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ویڈیو کے حوالے سے بھی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی امن و امان کی بحالی کے لیے مزید اقدامات کرنے کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کو مزید خونریزی سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت امن کے قیام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔
یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ جاری کشیدگی، دھرنوں، انٹرنیٹ کی مسلسل بندش، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں مشکلات کے باعث انتخابی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما انتخابی مہم کے لیے خطے کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کو احتجاجی مقامات تک پہنچنے سے بھی روک دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لانگ مارچ کا رک جانا اگرچہ فوری کشیدگی میں کمی کا اشارہ ہے، لیکن دھرنوں کا برقرار رہنا اس بات کی علامت ہے کہ بحران ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ آئندہ چند دنوں میں مذاکرات کی کامیابی، حکومت کے عملی اقدامات اور انتخابی عمل کی شفافیت ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام بحال ہوتا ہے یا احتجاج کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کرتا ہے۔
