علیمہ خان نے پی ٹی آئی پر قبضے کی کوششیں مزید تیز کر دیں

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی پارٹی قیادت پر کھلی تنقید، سٹریٹ موومنٹ سے متعلق سوالات اور کارکنوں سے مسلسل رابطوں کے بعد پی ٹی آئی کے اندر قیادت، اختیارات اور مستقبل کی حکمت عملی پر اختلافات مزید نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا علیمہ خان صرف اپنے بھائی کی رہائی کی جدوجہد کر رہی ہیں یا پی ٹی آئی پر قبضے اور پارٹی سیاست میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر اندرونی اختلافات اور قیادت سے متعلق بحث کی زد میں آ گئی ہے۔ اس مرتبہ وجہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا چترال کا دورہ بنا، جو ابتدا میں خاندانی اور نجی نوعیت کا بتایا گیا، لیکن خیبرپختونخوا میں داخل ہوتے ہی سیاسی سرگرمیوں میں تبدیل ہوتا دکھائی دیا۔جہاں مختلف مقامات پر کارکنوں کے استقبال، نعروں اور خطابات نے پارٹی کے اندر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ علیمہ خان اور ان کے قریبی ساتھی اس سفر کو خاندانی اور غیر سیاسی قرار دے رہے ہیں،تاہم سفر کے دوران مختلف شہروں اور مقامات پر کارکنوں نے علیمہ خان کا استقبال کیا، نعرے لگائے اور وہ کئی جگہوں پر گاڑی سے اتر کر کارکنوں سے خطاب بھی کرتی رہیں۔ ان خطابات میں انہوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے پارٹی کی موجودہ قیادت اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے بھی قیادت سے وضاحت طلب کی۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پوتے پوتیوں سے ملنے چترال جا رہی تھیں اور کارکنوں کی جانب سے استقبال کے باعث انہیں مختلف مقامات پر رکنا پڑا۔ ان کے ساتھ موجود سابق معاون خصوصی ڈاکٹر شفقات ایاز نے بھی اس دورے کو مکمل طور پر غیر سیاسی قرار دیا، تاہم سیاسی بیانات نے اس مؤقف پر سوالات کھڑے کر دیے۔

پارٹی کے اندر بھی اس دورے پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔ رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے سوشل میڈیا پر موروثی سیاست کے خلاف بیان دیا، جسے ابتدا میں علیمہ خان سے جوڑا گیا، تاہم بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ کسی مخصوص شخصیت کی طرف نہیں تھا۔

پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران خان کی بہنوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں پر پارٹی کے مختلف حلقوں میں تحفظات موجود ہیں۔ بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ سیاسی فیصلے پارٹی کی منتخب قیادت کو کرنے چاہئیں، جبکہ بعض کارکن اور رہنما علیمہ خان کو عمران خان کی رہائی کی مہم میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

پارٹی کے بعض رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ علیمہ خان موجودہ قیادت سے مطمئن نہیں اور وہ رہائی مہم کو زیادہ جارحانہ انداز میں چلانے کی حامی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ پارٹی کی سیاسی حکمت عملی میں ان کی رائے کو زیادہ اہمیت دی جائے، تاہم موجودہ قیادت اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بہنیں کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے متحرک ہوئی ہیں، اس لیے ان کی سرگرمیوں کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال پی ٹی آئی کے اندر قیادت کے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے نزدیک عمران خان کی طویل غیر موجودگی کے باعث پارٹی میں مختلف گروپ متحرک ہیں اور ہر حلقہ مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کی عوامی رابطہ مہم اور کارکنوں سے براہ راست ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنا چاہتی ہیں، جبکہ ناقدین اسے پارٹی کے اندر متوازی سیاسی کردار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ادھر بعض صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی میں اس وقت واضح قیادت کا فقدان دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث اختلافات زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر پارٹی کے اندر سیاسی فیصلوں، تنظیمی ڈھانچے اور رہائی مہم سے متعلق اختلافات برقرار رہے تو آنے والے دنوں میں یہ کشمکش مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

فی الحال علیمہ خان اپنے دورے کو غیر سیاسی قرار دے رہی ہیں، جبکہ ان کے ناقدین اسے عملی سیاست میں بڑھتے ہوئے کردار کا اظہار قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ یہ سرگرمیاں صرف عمران خان کی رہائی کی مہم تک محدود رہتی ہیں یا پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست میں کسی نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہوتی ہیں۔

Back to top button