غیر قانونی افغانوں کو پاکستانی شہری بنانے والا بڑا نادرا مافیا بے نقاب

ملک کے قومی شناختی نظام سے متعلق ایک انتہائی حساس اور تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں افغان شہریوں کو مبینہ طور پر جعلی خاندانی ریکارڈ، قومی شناختی کارڈ اور بعد ازاں پاکستانی پاسپورٹ دلانے والے منظم نیٹ ورک کی تحقیقات میں نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کرپٹ اہلکاروں، ایجنٹوں اور سہولت کاروں پر مشتمل اس مبینہ نیٹ ورک نے نہ صرف نادرا کی "پاک آئی ڈی ایپ” کے ذریعے شناختی کارڈز جاری کرانے کا راستہ نکالا بلکہ غیر ملکی شہریوں کو مکمل پاکستانی شناخت فراہم کر کے بیرون ملک بھیجنے تک کا بندوبست کیا۔ ایف آئی اے کا انسداد دہشت گردی ونگ اس معاملے کو صرف جعل سازی نہیں بلکہ قومی سلامتی، امیگریشن کنٹرول اور ریاستی شناختی نظام سے جڑا انتہائی حساس کیس قرار دے کر تحقیقات آگے بڑھا رہا ہے، تاہم ان تمام دعوؤں کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغان شہریوں کو مبینہ طور پر پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دلانے کے ایک بڑے نیٹ ورک کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کا انسداد دہشت گردی ونگ اس مقدمے کو قومی سلامتی سے متعلق انتہائی حساس کیس قرار دیتے ہوئے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے، کیونکہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو اس سے قومی شناختی نظام، امیگریشن کنٹرول اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ایک منظم نیٹ ورک کئی برسوں سے مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی خاندانوں کے خاندانی ریکارڈ میں شامل کروانے، قومی شناختی کارڈ بنوانے، پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے اور بعد ازاں دیگر سرکاری دستاویزات تک رسائی دلانے میں سرگرم تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس پورے عمل کے دوران مختلف ایجنٹ، سہولت کار اور بعض مبینہ کرپٹ اہلکار مختلف مراحل پر اپنا کردار ادا کرتے رہے۔

تفتیشی معلومات کے مطابق نیٹ ورک کا طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے ایسے پاکستانی خاندان تلاش کیے جاتے جو مالی فائدے کے عوض کسی غیر ملکی کو اپنے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ میں شامل کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ اس کے بعد نادرا کی "پاک آئی ڈی ایپ” کے ذریعے آن لائن درخواستیں جمع کرائی جاتیں اور مبینہ طور پر جعلی یا مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر قومی شناختی کارڈ حاصل کیا جاتا۔ بعد ازاں اسی شناخت کو استعمال کرتے ہوئے پاسپورٹ، تعلیمی اسناد، بینک اکاؤنٹس، موبائل سمز، ورک ویزا اور دیگر سرکاری دستاویزات بھی حاصل کی جاتیں۔

ذرائع کے مطابق ایک غیر ملکی شہری کو مکمل پاکستانی شناخت فراہم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 25 سے 30 لاکھ روپے تک وصول کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ صرف قومی شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے ہی لاکھوں روپے وصول کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

تحقیقات کے دوران کراچی سے دو مبینہ ایجنٹوں کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے متعدد افغان شہریوں کو مختلف پاکستانی خاندانوں کے خاندانی ریکارڈ میں شامل کروانے میں کردار ادا کیا۔ ایف آئی اے کے مطابق ان افراد کے ذریعے بننے والی شناخت کی بنیاد پر بعد میں دیگر سرکاری دستاویزات بھی حاصل کی گئیں۔

اس مقدمے کا سب سے اہم پہلو نادرا کے ڈیجیٹل نظام سے متعلق اٹھنے والے سوالات ہیں۔ تحقیقاتی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر متعدد مشکوک درخواستیں ایک ہی موبائل نمبر، ایک ہی آئی پی ایڈریس یا ایک ہی ڈیوائس سے جمع کرائی گئیں تو نادرا کے خودکار رسک مینجمنٹ سسٹم نے بروقت الرٹ کیوں جاری نہیں کیا۔ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا یہ معاملہ صرف تکنیکی خامی کا نتیجہ تھا یا کسی سطح پر مبینہ اندرونی سہولت کاری بھی موجود تھی۔

ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کو ابتدائی طور پر ہزاروں ایسے مشتبہ کیسز کی جانچ سونپی ہے جن میں غیر ملکی شہریوں کو مبینہ طور پر پاکستانی شناختی کارڈ اور بعد ازاں پاکستانی پاسپورٹ جاری کیے گئے۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ افغان شہریوں کی وطن واپسی کی حکومتی مہم کے دوران بھی بعض افراد نے مبینہ طور پر آن لائن نظام کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کیے۔

تحقیقات میں ایک اور مسئلہ نادرا سے مطلوبہ ڈیجیٹل ریکارڈ کے حصول میں قانونی پیچیدگیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق ڈیجیٹل جرائم میں بروقت شواہد تک رسائی انتہائی اہم ہوتی ہے کیونکہ تاخیر کی صورت میں ریکارڈ میں تبدیلی، شواہد کے ضائع ہونے یا دیگر ملزمان کے فرار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ایف آئی اے اب مشکوک شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور فیملی رجسٹریشن ریکارڈ کا فرانزک جائزہ لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ موبائل نمبرز، آئی پی ایڈریسز، استعمال ہونے والی ڈیوائسز اور آن لائن درخواستوں کے مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ کی بھی جانچ کی جائے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مبینہ نیٹ ورک کس حد تک فعال تھا اور آیا اس میں مزید افراد یا ادارہ جاتی سہولت کاری بھی شامل تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ الزامات تحقیقات میں ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ صرف جعلی شناختی کارڈز کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے قومی شناختی نظام، امیگریشن، بینکاری، پاسپورٹ سکیورٹی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر تمام دعوے تحقیقات کا حصہ ہیں اور حتمی ذمہ داری کا تعین عدالتی اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

Back to top button