ضیاء کے سامنے ڈٹ جانے والا بڑا آدمی کمال احمد رضوی

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ معروف ڈراما نگار، مصنف اور اداکار کمال احمد رضوی نے مارشل لا دور میں ضیاءالحق کو ایک غلیظ ڈکٹیٹر قرار دے کر اس سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کمال احمد رضوی ایک ترقی پسند اور جمہوریت پسند لکھاری تھے جو آخر وقت تک آمریت کے مخالف رہے۔ ضیاء الحق کے دور میں جب ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومت کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس دینے کا اعلان ہوا تو پتہ چلا کہ تقریب کا مہمان خصوصی ضیا الحق ہے، چنانچہ کمال احمد رضوی نے یہ کہہ کر ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ اس غلیظ ہاتھ سے ایوارڈ وصول نہیں کریں جو آئین شکنی کا مرتکب ہوا ہو۔
کمال احمد رضوی کا شمار پاکستان کے لیجنڈ اداکاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے سٹیج سے اپنے کیئرئر کا آغاز کیا اور بعد میں انھیں پاکستان ٹیلی ویژن سے بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ انھوں نے طنز ومزاح پر مبنی اپنی تحریروں اور بے ساختہ اداکاری سے نہ صرف لوگوں کے لئے دلچسی کا سامان فراہم کیا بلکہ بہت سارے سماجی مسائل پر خاص وعام کو سوچنے پر مائیل کیا، ان کی نہایت سادہ اور سلیس تحریروں میں روزہ مرہ کے مسائل پر طنز کے جو نشتر ہوتے تھے انھیں نہ صرف تعلیم یافتہ لوگ بلکہ عام ناضرین بھی محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے، انھوں نے عوامی اور نہایت حساس موضوعات پر بھی لکھتے ہوئے کبھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
کمال احمد رضوی یکم مئی 1930ء کو پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پولیس افسر تھے لیکن ادبی ذوق کے حامل تھے۔ ان کے گھر کا ماحول ادبی تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے گھر میں مذہبی اقدار کا بڑا خیال رکھا جاتا تھا۔ جب کمال احمد رضوی نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو انہوں نے اپنے گھر میں کتابوں کا ایک بڑا خزانہ پایا۔ وہ بڑے حساس شخص تھے اور ان کی والدہ کی وفات کے بعد وہ اور بھی حساس ہو گئے۔ جب وہ آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے تو انہوں نے اُردو کے کلاسیکی ادب کا مطالعہ شروع کیا۔ وہ کہا کرتے تھے میں ڈرامہ پڑھا کرتا تھا اور اس کے مکالمے اتنے جاندار ہوتے تھے کہ میں اکثر اوقات وہ مکالمے بولا کرتا تھا۔ رضوی صاحب نے اپنے والد کی وجہ سے تھیڑ میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ ان کے والد اگرچہ ایک مذہبی آدمی تھے لیکن سٹیج ڈرامہ بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ وہ اپنے بیٹے کمال احمد رضوی کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔
کمال احمد رضوی نے پٹنہ یونیورسٹی سے نفسیات میں گریجویشن کی اور پھر 1951ء میں کراچی آ گئے۔ تب ان کی عمر 21 برس تھی۔ یہاں وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے لیکن پھر کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر کراچی سے لاہور آ گئے، لاہور میں انہوں نے محسوس کیا کہ یہ شہر ان کے فنکارانہ مزاج کے لئے بہت موزوں ہے۔
انہوں نے لکشمی مینشن میں رہائش اختیار کرلی اور اس طرح وہ سعادت حسن منٹو کے ہمسائے بن گئے۔ انہوں نے لاہور میں اپنے تھیڑ کے کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا ڈرامہ منٹو کے افسانے ’’بادشاہت کا خاتمہ‘‘ سے ماخوذ تھا۔ اس کے بعد کمال احمد رضوی نے مُڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ انہوں نے مشہور ناولوں کے بڑے شاندار تراجم کئے۔ انہوں نے ٹالسٹائی، دوستو وسکی، چیخوف اور کئی دوسرے نامور ادیبوں کے ناولز اور کہانیوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے کئی جرائد کی ادارت کے فرائض سرانجام دیئے۔
ان میں ’’تہذیب‘‘،’’ آئینہ‘‘،’’پھلواری ‘‘،’’شمع ’’اور ’’بچوں کی دنیا‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ کمال احمد رضوی کا ایک بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے جنوبی ایشیا کے مشہور ڈرامہ نویسوں کے ڈراموں کا انتخاب کیا جنہیں نیشنل بک فائونڈیشن نے شائع کیا۔ اس کتاب کا عنوان تھا ’’منتخب ڈرامے‘‘۔ انہوں نے سٹیج ڈرامہ نویس، ہدایتکار اور اداکار کے طور پر خود کو منوایا۔ کمال رضوی کی مشہور سیریلز میں ’’الف نون، ’’مسٹر شیطان‘‘، ’’چیلنج ویکلی‘‘ ، ’’نیا سبق‘‘، ’’بانوکے میاں‘‘،’’ ڈرتا ہوں آئینے سے‘‘،’’ آئو نوکری کریں‘‘، ’’چور دروازہ‘‘،’’ آپ کا مخلص‘‘، ’ہم سب پاگل ہیں‘‘،’’ باتیں کمال کی‘‘ اور’’صاحب بی بی اورغلام‘‘ کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ چار طویل دورانیے کے ڈرامے بھی شامل تھے جن میں’’کھویا ہوا آدمی‘‘،’’ مائی کا مریڈ‘‘،’’ میرے ہمدم میرے دوست‘‘،’’ چور مچائے شور ‘‘اور ’’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘‘ شامل ہیں۔
چار دہائیوں پر پھیلے ’’الف نون‘‘ کا کریڈٹ صرف اور صرف کمال رضوی کو ہی جاتا ہے۔ اس سیریل میں سماجی برائیوں اور منافقت کو بڑی جرأت سے بے نقاب کیا گیا، بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ’’الف نون‘‘ کے پہلے پروڈیوسر آغا ناصر تھے۔ ’’الف نون‘‘ کے مزاح کی بنیاد عام لوگوں کے ان تجربات پر رکھی جاتی تھی جن کا سامنا انہیں روزانہ ہوتا تھا۔ نامور ڈرامہ نویس منّو بھائی نے کہا تھا کہ جتنی مقبولیت ’’الف نون‘‘ کو حاصل ہوئی وہ حیران کن ہے۔ کوئی ڈرامہ سیریل اتنی قسطوں میں پیش نہیں کی گئی جتنی کہ اس ڈرامے کی قسطیں تھیں۔ کمال احمد رضوی کی سعادت حسن منٹو سے دوستی تھی اور وہ ان سے بہت متاثر تھے۔ روسی اور فرانسیسی ادب نے ان کے ذہن پر بڑے گہرے نقوش چھوڑے تھے۔ اس میں کیا شک ہے کہ وہ ایک کثیر الجہات شخصیت تھے۔ انہوں نے اتنا زیادہ کام کیا جو نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ناقابل یقین ہے۔ جو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ انھوں نے ضیا دور میں ٹھکرایا تھا وہ بالآخر انہیں بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں 1989 میں ملا۔ انہوں نے تین شادیاں کی تھیں اور ان کی ایک بیٹی ہے۔ 17 دسمبر 2015 کو یہ نابغۂ روزگار 85 برس کی عمر میں اس عالم ناپائیدار سے رخصت ہو گیا۔
