مودی کو گجرات کا قصائی کہنے پر بلاول کی واہ واہ

وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو کی جانب سے انڈین وزیرِ اعظم مودی کو ’گجرات کا قصائی‘ کہنے پر بھارت میں تو غصے کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن پاکستان میں بلاول کی واہ واہ ہو گئی ہے اور انکا موازنہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کیا جا رہا ہے جنہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ بلاول بھٹو کے بیان کی انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سخت مذمت کی جا رہی ہے اور ملک گیر احتجاج کی کال بھی دے دی گئی ہے۔ بی جے پی کے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بلاول بھٹو کا بیان 16 دسمبر کو آیا جب پاکستانی فوج کو ڈھاکہ میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ شاید انہوں نے 16 دسمبر کے سانحے کی خوار نکالی ہے۔ خیال رہے کہ بلاول کا بیان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران انڈین وزیرِ خارجہ جے ایس شنکر کی جانب سے پاکستان کو ’دہشتگردی کا مرکز‘ اور ’القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا میزبان قرار‘ دی ے کا ردِ عمل تھا۔ بلاول نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسامہ بن لادن مر چکا ہے لیکن گجرات کا قصائی آج انڈیا کا وزیر اعظم ہے جس پر وزیر اعظم بننے سے پہلے امریکہ میں بھی داخلے پر پابندی تھی۔
بلاول بھٹو کے اس بیان پر جہاں بی جے پی کی جانب سے باضابط مذمتی بیان جاری کیا گیا وہیں سوشل میڈیا پر دونوں ممالک میں اس بارے میں گرما گرم بحث جاری ہے اور صارفین اپنے اپنے اندازمیں اس بارے میں ردِ عمل دے رہے ہیں۔ بلاول نے انڈیا کے وزیرِ خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ان کو یاد کروانا چاہتا ہوں کہ اسامہ بن لادن مر چکا ہے لیکن گجرات کا قصائی زندہ ہے اور وہ انڈیا کا وزیرِ اعظم ہے۔ ’اس پر وزیرِ اعظم بننے سے پہلے تک امریکہ میں داخلے پر بھی پابندی تھی۔ وہ آر ایس ایس کے وزیرِ اعظم ہیں اور آپ آر ایس ایس کے وزیرِ خارجہ۔‘ بلاول بھٹو نے آر ایس ایس کے حوالے سے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تنظیم ہٹلر کی ایس ایس سے رہنمائی لیتی ہے۔ بلاول نے کہا کہ میں گذشتہ روز انڈیا کے وزیرِ خارجہ کو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ مل کر گاندھی کے مجسمے کا افتتاح کرتا دیکھ رہا تھا۔ اگر انڈیا کے وزیرِ خارجہ کو بھی اتنا ہی معلوم ہے جتنا مجھے ہے تو انھیں معلوم ہو گا کہ آر ایس ایس گاندھی، ان کے نظریہ اور ان کے منشور پر یقین نہیں رکھتی۔‘ بلاول کا مزید کہنا تھا کہ ’آر ایس ایس گاندھی کو انڈیا کا بانی نہیں سمجھتی، وہ ایک ایسے دہشتگرد کو ہیرو سمجھتے ہیں جس نے گاندھی کو قتل کیا تھا۔ بلاول نے کہا انڈیا کے اندر کون دہشتگردی کو فروغ دیتا ہے، کیا پاکستان ایسا کرتا ہے؟ اس بارے میں آپ گجرات کے لوگوں سے پوچھیں وہ کہیں گے کہ ایسا ہمارے وزیرِ اعظم کرتے ہیں۔ کشمیر کے لوگوں سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ گجرات کا قصائی اب کشمیر کا قصائی بھی ہے۔
سوشل میڈیا پر پاکستان میں بلاول بھٹو کے اس بیان کے لیے ’دلیر‘ اور دبنگ‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں اور اکثر سوشل میڈیا صارفین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آج بلاول نے صحیح معنوں میں اپنے نانا کی یاد تازہ کر دی۔ دوسری جانب انڈیا میں اس حوالے سے بی جے پی کے مداحوں کی جانب سے برہمی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور جہاں دارالحکومت نئی دہلی میں بلاول کے خلاف مظاہرہ کیا گیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی بلاول اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
وسیم حیدر نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’بلاول نے نہ صرف پاکستانیوں، کشمیریوں بلکہ انڈین مسلمانوں اور سیکولر افراد کے دل بھی جیت لیے ہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک انڈین صارف اتجیت نے لکھا کہ ’بلاول بھٹو نے ایسے بیان دے کر پاکستان میں سیاسی دکان چلانی ہے، لیکن وہ نریندر مودی کو بالکل بھی متاثر نہیں کر سکتے، جے شنگر ہی ان کا جواب دینے کے لیے کافی ہیں۔‘ اسی طرح جہاں پاکستان میں ایک صارف نے لکھا کہ ’واہ کیا بات ہے، بی بی کا بیٹا ہے بہادر تو ہو گا‘ وہیں ابوبکر نامی صارف نے لکھا کہ ’آج مجھے بلاول نے ان کے نانا کی یاد دلا دی۔
کچھ پاکستان صارفین نے یہ بھی کہا کہ اب ان کے ووٹ بلاول کے لیے ہیں۔ اسی طرح صارف شاہد بشیر نے کہا کہ ’یہ شخص پاکستان کے لیے ایک بڑا اثاثہ ثابت ہو رہا ہے۔ انتہائی پرسکون، منجھے ہوئے، بردبار اور بہترین انداز۔ میں نے برطانیہ اور امریکہ میں بھی کسی وزیرِ خارجہ کی الفاظ پر اتنی گرفت نہیں دیکھی۔
