عمران خان کی ناکامیوں کا سلسلہ روکنے والا کیوں نہیں؟

اپریل میں ایک تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں برطرف ہونے کے بعد سے عمران خان کو ہے در ہے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی ناکامیوں کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی فہد حسین اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ گزشتہ سات ماہ میں عمران خان نے عسکری اصطلاح میں زمین کو جلا کر راکھ کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ وہ اپنی منزل حاصل کرنے کیلئے کوئی بھی قدم اٹھانے پر کمر بستہ ہیں چاہے اس کی کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ لیکن افسوس کہ اب تک ان کے مس ایڈونچر کی تمام تر قیمت پاکستان نے گندی سیاست، خستہ حال معیشت، اخلاق اور کردار کی پامالی اور اداروں کی توہین کی صورت میں ادا کی یے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ لانگ مارچ کی ناکامی کی وجہ سے عمران فوری انتخابات کروانے میں ناکام رہے۔ نہ وہ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹوا پائے اور نہ ہی اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوا پائے، چنانچہ اب ہر محاذ پر ناکامی کے بعد آج وہ زمان پارک میں تمام اختیارات سے محروم، تمام تصورات سے عاری بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ فہد حسین کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے اقتدار کی راہداریوں سے نکل کر گلیوں میں بکھر جانے کے 32 ہفتوں کے بعد کھیل کا پہلا رائونڈ تمام ہوا۔ سکور کارڈ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت ٹاپ پر ہے جب کہ عمران خان امکانات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اب جب کہ دوسرا رائونڈ شروع ہوا چاہتا ہے، یہ دیکھنا ہوگا کہ اس وقت ہم کہاں کھڑے ہیں! اب تک حکومت عمران کی جانب سے دیے گے چیلنج سے نمٹنے میں کامیاب رہی ہے اور اب اپنی آئینی مدت مکمل کرنے جارہی ہے۔ اس مرحلے تک کا سفر خاصا ناہموار رہا ہے لیکن پی ڈی ایم کی سیاسی حکمت عملی توانا اتفاق رائے کی لڑی پرونے میں کامیاب رہی۔ دوسری طرف عمران کی سیاسی حکمت عملی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ پہلے رائونڈ کے اختتام پر ممکن ہے کہ وہ گزشتہ سات ماہ کے دوران کی گئی فیصلہ سازی کے نتائج کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ان سے کہیں، کیوں اور کس طرح حساب کتاب کی غلطی ہوگئی۔

فہد حسین پی ٹی آئی کے سربراہ کی جانب سے کی گئی کچھ بڑی غلطیاں گنواتے ہوئے کہتے ہیں کہ پہلی غلطی قومی اسمبلی سے مستعفی ہونا اور حکمران اتحاد کے لئے میدان کھلا چھوڑ دینا تھی۔ عمران کے حساب کے برعکس اس اقدام نے حکومت کو تازہ انتخابات کرانے پر مجبور نہیں کیا۔ دوسری غلطی ایک فرضی امریکی سازش کی دیومالائی کہانی کو تحریک انصاف کی حکومت کا تختہ الٹنے کا باعث قرار دینا اور سیاسی اور عسکری قیادت کو نیچا دکھانے کے لئے تباہ کن جذباتی جنونیت کی نفرت انگیز لہر ابھارنا تھی۔ سات ماہ بعد عمران ان الزامات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوچکے ہیں تاہم شرمناک پسپائی اس کے اس نقصان کا مداوا نہیں کر سکتی جو اس مہم کے نتیجے میں ہو چکا ہے۔ عمران کی تیسری غلطی مئی میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کو اپنی حکمت عملی کی فیصلہ کن یلغار قرار دینا تھا کیونکہ یہ بھی دھوئیں میں تحلیل ہو گیا۔ خان کے نام نہاد مارچ کا حکومت پر قطعاً کوئی اثر نہیں ہوا۔ خان کی چوتھی غلطی سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کے لئے عوامی جلسوں میں فوجی افسران کے نام لے کر تضحیک آمیز نعرے لگانا تھی تا کہ عسکری قیادت خائف ہو جائے اور گھبراہٹ کے مارے تازہ انتخابات کا اعلان کروا دے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہو پایا لہذا عمران کو تمام محاذوں پر مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

Back to top button