عمران کا توشہ خانہ کی دلدل سے نکلنا ممکن کیوں نہیں؟

توشہ خانہ گھڑی سکینڈل میں بری طرح پھنس جانے والے سابق وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز، اس کے اینکر شاہزیب خانزادہ اور بزنس مین عمر فاروق ظہور کے خلاف متحدہ عرب امارات کی عدالت میں ہتک عزت کا کیس دائر کرنے کا دعوی تو کر دیا ہے لیکن وہ توشہ خانہ کی دلدل میں گھٹنوں گھٹنوں دھنس چکے ہیں جس سے ان کا نکلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ ریفرنس میں عمران کی نااہلی یقینی ہے چاہے وہ عدالتوں میں ہتک عزت کے جتنے مرضی دعوے دائر کرتے رہیں۔ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں عمران خان نے لکھا کہ متحدہ عرب امارات میں ان کے وکیل حسن شاد نے کیس فائل کر دیا یے اور ان پر جھوٹے الزامات لگا کر ان کی شہرت خراب کرنے کے الزام میں ہرجانہ طلب کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ نومبر میں دبئی میں مقیم پاکستانی نژاد 47 سالہ تاجر عمر فاروق نے جیو ٹی وی پر اینکر شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے فرح خان گوگی سے کچھ بیش قیمت اشیا خریدیں، جو سعودی فرمانروا محمد بن سلمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کو بطور تحفہ دی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ فرح گوگی خود ان کے پاس یہ قیمتی اشیاء لے کر آئیں جن میں سے ایک گھڑی کی قیمت انہوں نے 28 کروڑ پاکستانی روپے ادا کی۔ عمر فاروق نے بتایا کہ اب اس گھڑی کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک ارب روپے سے زائد ہے۔ تاہم عمران خان نے اس الزام کی تردید کی تھی کہ انہوں نے محمد بن سلمان والی گھڑی دبئی میں کسی کو فروخت کی۔ ان کا موقف تھا کہ شہزادہ سلمان والی گھڑی انہوں نے اسلام آباد کے ایک دکاندار کو 5 کروڑ روپے میں فروخت کی تھی۔ تاہم عمران خان کا یہ جھوٹ تب پکڑا گیا جب شفیق نامی دکان دار نے ایک حلفیہ ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کبھی عمران خان سے کوئی گھڑی نہیں خریدی اور اس حوالے سے انکا دعوی جھوٹ پر مبنی ہے۔ شفیق نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان کی دکان کے لیٹر ہیڈ پر گھڑی کی فروخت کی جعلی رسید تیار کی گئی ہے۔ تاہم عمران خان نے ان الزامات کا جواب نہیں دیا اور اب یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دبئی میں جیو نیوز اور شاہ زیب خانزادہ کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے دور اقتدار میں غیر سربراہان مملکت سے ملنے والے تحائف کا معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بھی زیر سماعت ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی اس حوالے سے کیس زیر سماعت ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے انہیں 9 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں فوجداری کارروائی 22 نومبر کو شروع ہوئی تھی۔

الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ دینے کے بعد فوجداری کاروائی کے لیے معاملہ اسلام آباد کی سیشن کورٹ کو بھیجا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے عدالت کے سامنے میں موقف اپنایا تھا کہ کیس گھڑی کے بارے میں نہیں، بلکہ جواب دہندہ کی جانب سے جمع کروائے گئے اثاثہ جات سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے تین سال کے دوران توشہ خانہ سے 58 تحائف حاصل کیے جن کی مجموعی مالیت مالیت 14 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ سعد حسن نے اپنے دلائل میں مزید کہا تھا کہ عمران کو اپنے تمام اثاثے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر کرنا چاہیے تھے، عمران خان نے توشہ خانہ سے جیولری بھی لی تھی لیکن ظاہر نہیں کی۔‘ وکیل کا کہنا تھا: ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی تحفہ یا آئٹم توشہ خانہ سے ملکیت بنایا جائے اور ظاہر نہ کیا جائے۔

عمران کے خلاف فوجداری کارروائی کے ریفرنس میں الیکشن کمیشن نے عدالت کو شکایت منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف کرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرنے اور انہیں سزا دینے کی استدعا کی ہے۔ اس۔الزام کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں تین سال جیل اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس سے پہلے الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے 21 اکتوبر کو عمران کے خلاف توشہ خانہ نااہلی ریفرنس کا فیصلہ سنایا تھا، جس میں کہا گیا کہ چیئرمین تحریک انصاف نے جان بوجھ کر الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے عمران کو جھوٹا بیان جمع کرانے پر آرٹیکل 63 (ون) (پی) کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔ ریفرنس میں سرکاری تخائف کو بیرون ملک بیچنے کا الزام بھی لگایا گیا تھا، جبکہ تمام دستاویزی ثبوت بھی ریفرنس کے ہمراہ جمع کرائے گئے تھے۔

Back to top button