طالبان سے امریکی انتقام کا نزلہ پاکستان پر کیسے گرے گا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں اپنی شکست کا بدلہ افغان عوام پر اقتصادی پابندیاں لگا کر لے رہا ہے جس کے اثرات بالواسطہ طور پر ہمسایہ ملک پاکستان کو بھی بھگتنا ہوں گے۔
 
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں امریکہ افغانسان میں جو مقاصد فوجی طاقت کے ذریعے حاصل نہ کر سکا، اب وہ افغانستان کو اقتصادی تباہی اور انارکی سے دوچار کرکے حاصل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے ابھی تک افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور افغانستان کے تمام مالی اثاثے اور اکاؤنٹس ضبط کر رکھے ہیں جس سے ملک میں شدید معاشی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ صافی کے بقول، امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے پاکستان، چین اور روس افغانستان کے اثاثے واپس کرنے کی جو اپیلیں کررہے ہیں، ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ امریکہ اب طالبان حکومت کو ناکام ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔

صافی کے بقول، میں شروع دن سے یہ دہائی دے رہا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج تو نکلی ہے لیکن امریکہ نہیں نکلا۔ اس نے حکمت عملی تبدیل کردی ہے اور اس کی نئی پلان کے تحت اب افغانستان اور علاقے کے لئے پہلے سے زیادہ خطرناک ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان سے اپنی افواج نکال دیں۔ دوسری طرف ان کا اتحادی اشرف غنی اچانک اور پراسرار طور پر کابل چھوڑ کر چلا گیا۔ چنانچہ طالبان کو اپنے منصوبے سے پانچ ماہ قبل کابل میں داخل ہونا پڑا۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ پیسے اور روزگار کا آگیا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ہر سال اربوں ڈالر افغانستان میں خرچ کررہے تھے۔ بے شک ان کا بڑا حصہ جنگ اور کرپشن کی نذر ہوتا تھا لیکن وہ پیسہ کسی نہ کسی شکل میں افغان مارکیٹ میں گردش کررہا تھا اور گزشتہ سال کے دوران بھی افغانستان کے افراط زر اور جی ڈی پی کے انڈیکیٹرز پاکستان سے بہتر تھے۔

صافی بتاتے ہیں کی امریکہ اور نیٹو کے انخلا سے وہ پیسہ افغان مارکیٹ میں آنا بند ہوگیا۔ دوسری طرف بیشتر پیسے والے لوگوں، جن میں زیادہ تر کرزئی اور اشرف غنی دور کے حکمران تھے، نے بھی اپنا پیسہ بیرون ملک منتقل کر کیا۔ طالبان نے اب کی بار عام معافی دینے کی پالیسی اپنائی لیکن ان کے ماضی کے خوف کی وجہ سے ذہانت اور فن کے حامل پروفیشنلز کی بڑی تعدادبھی افغانستان سے نکل گئی۔ ابتدا میں طالبان کو بینک بھی بند کرنے پڑے اور کئی دن تک سرکاری دفاتر میں بھی کام نہ ہوسکا، جس کی وجہ سے معیشت کا پہیہ جام ہوگیا۔

گزشتہ برسوں میں امریکی، افغان حکومت کے ایک ملین سے زائد سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرتے تھے لیکن طالبان کے آتے ہی انہوں نےوہ سلسلہ بند کردیا بلکہ افغان حکومت کے اثاثے بھی منجمد کردیے جس کی وجہ سے طالبان حکومت دنیا کے ساتھ اس طرح تجارت بھی نہیں کرسکتی جس طرح کہ غنی حکومت کیا کرتی تھی۔ چنانچہ افغانستان میں بدترین معاشی بحران اور انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔

عملاً سب ممالک بشمول امریکہ، چین اور روس کے رابطے میں ہیں لیکن باقاعدہ طور پر اب تک کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ امریکہ کی زیرِقیادت دنیا کا مطالبہ ہے کہ طالبان سب دھڑوں پر مشتمل جمہوری حکومت قائم کریں، خواتین کے حقوق کو یقینی بنائیں وغیرہ لیکن دوسری طرف طالبان کا اصرار ہے کہ وہ یہ تمام تقاضے پورے کررہے ہیں۔ دوسری جانب افغان طاکبان کا اصرار ہے کہ وہ عالمی برادری کے تمام تقاضے پورے کرچکے ہیں لیکن امریکہ اور مغربی دنیا مفروضوں کی بنیاد پر ان کی حکومت سے تعاون نہیں کر رہی۔

صافی کا کہنا ہے کہ باقی باتیں اپنی جگہ لیکن افغان طالبان کی اس دلیل سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی اصولوں اور قوانین کے تحت عوام اور حکومت کو الگ الگ رکھا جاتا ہے لیکن طالبان کی حکومت آنے کے بعد انسانی بنیادوں پر جو امداد افغانستان کو مل رہی تھی، اسے بھی معطل کردیا گیا ہے، جس وجہ سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ یعنی امریکہ جو کام فوجی طاقت کے ذریعے نہ کروا سکا، اب وہ افغانستان کو اقتصادی تباہی اور انارکی سے دوچار کرکے حاصل کرے گا جس کے اثرات بالواسطہ پاکستان کو بھی بھگتنا ہوں گے۔

Back to top button