طالبان سے مذاکرات پر پیپلزپارٹی کے تحفظات

 
پیپلز پارٹی کی قیادت نے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ پاکستانی حکام کے امن مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے کیونکہ وہ پارٹی کی اجازت کے بغیر مذاکراتی عمل کا حصہ بنے۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ تحریک طالبان نے ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم ہے جسکے ہاتھ ہزاروں پاکستانی سویلینز اور فوجی جوانوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں لہذا اس سے کسی قسم کے مذاکرات ریاست کی رٹ سے مذاق کے مترادف ہوں گے۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوجی حکام کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی زیر قیادت پچھلے کئی ماہ سے کابل میں تحریک طالبان کی لیڈر شپ سے مذاکرات میں مصروف ہیں ہیں جن میں افغانستان کی طالبان حکومت ضامن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اقتدار سے رخصتی کے بعد ان مذاکرات کے حوالے سے عسکری حکام نے اب تک حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس مذاکراتی عمل پر اب تک کوئی ردعمل نہیں دیا لیکن پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پارلیمینت کو اعتماد میں لیے بغیر اس عمل کی مخالف ہے۔
چنانچہ پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی ساجد حسین کو تحریک طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہونے پر شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے اور اس معاملے پر 11 جون کو پارٹی کے خصوصی اجلاس کی صدارت سابق صدر آصف زرداری کریں گے۔ پیپلز پارٹی اور پارلیمان کے علم میں لائے بغیر کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے امن جرگہ اور اس میں سابق قبائلی ضلع سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایم این اے کی شرکت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پارٹی نے اس معاملے پر گفتگو کیلئے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔

دوسری جانب تحریک طالبان اور پاکستانی عسکری حکام کے مابین مذاکرات اور غیر معینہ مدت تک جنگ بندی کے اعلان کے باوجود وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے اور طالبان کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں، لہذا سوال یہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود بھی یہ کارروائیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ اس بارے میں ٹی ٹی پی ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ پاکستانی فوجی دستوں پر حملہ کرنے والے لوگ کون ہیں لیکن وہ اتنا جانتے ہیں کہ ان کا تعلق ان کی تنظیم سے نہیں۔ اس بارے میں سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان شدت پسندوں کا تعلق طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ سے ہے جسے شوریٰ مجاہدین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں متحرک بیشتر گروپ ٹی ٹی پی میں ضم ہو چکے ہیں لیکن چند ایک گروپ اب بھی ٹی ٹی پی کی چھتری کے نیچے نہیں آئے، جن میں حافظ گل بہادر گروپ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک صادق نور گروپ بھی اس علاقے میں متحرک ہے جو بظاہر حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ منسلک ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کے بارے میں کچھ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔
شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں میں طالبان کے حافط گل بہادر گروپ کی اپنی ایک اہمیت رہی ہے۔

اس قبائلی علاقے میں سنہ 2014 میں بڑا فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جسے آپریشن ’ضرب عضب‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس آپریشن سے پہلے حافظ گل بہادر گروپ حکومت کا حمایتی گروپ سمجھا جاتا تھا اور ایسی اطلاعات تھیں کہ یہ گروپ طالبان کے اندر پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے خلاف تھا۔ اس گروپ کے بارے میں تجزیہ کار یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ’گُڈ طالبان‘ تھے جو اب ‘بیڈ طالبان’ بن گے ہیں۔

Back to top button