طالبان پاکستان کے لیے دوہری مصیبت کیسے بننے والے ہیں؟

افغانستان میں طالبان کی کامیابی سے پاکستان کے لیے دوہری مصیبت کھڑی ہوگئی ہے۔ اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر افغان طالبان 2001 کی طرح پھر سے ناکام ہوئے تو امریکا دوبارہ اسکا مدعا پاکستان پر ڈال دے گا۔ دوسری مصیبت یہ ہے کہ اگر اس مرتبہ طالبان کامیاب ہو گئے تو پھر طالبان ماڈل کو پاکستان آتے ہوئے دیر نہیں لگے گی۔
سنیئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے تازہ تجزیئے میں کہتے ہیں کہ پاکستان میں افغان طالبان کے لاکھوں بلکہ کروڑوں چاہنے والے موجود ہیں اور یہ اگر افغانستان میں کام یاب ہو گئے تو ان کے شاگرد پاکستان میں بھی ان کے جھنڈے لہرانا شروع کردیں گے۔ یہ سلسلہ اگر ایک بار چل پڑا تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ تب ہماری کیا حالت ہو جائے گی۔ چنانچہ ہمیں افغانستان کی صورت حال پر خوش نہیں ہونا چاہیے۔ یہ چھری اور خربوزے کا کھیل ہے جس میں پاکستان کو بہرحال نقصان ہو گا۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ہمیں سرحد پار نظر رکھنا ہو گی، چین ہو، روس ہو یا پھر ترکی، ازبکستان، ایران اور تاجکستان ہو، یہ سارے ملک دم سادھ کر افغانستان کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ جانتے ہیں 2021 کے طالبان کے پاس 2001کے مقابلے میں اسلحہ بھی ہے، پیسہ بھی اور سپر پاور کو ہرانے کا غروربھی لہٰذا یہ پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔ یہ ان سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہازا جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ہمیں بھی بچنا ہوگا۔ طالبان کی کام یابی اور ناکامی ہمارے لیے دونوں ہی خطرناک ثابت ہوں گی۔
وہ مذیدکہتے ہیں کہ آج افغانستان میں عوام اور عالمی برادری کو متاثر کرنے کے لیے اچھے فیصلے کر رہے ہیں لیکن یہ ماضی میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے برے سلوک اور اعلی قیادت کو نشانہ بنانے کی وجہ سے ناراض ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہونے کی صورت میں ہمیں شروع میں ریلیف ملے گا۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ادوار میں بھارت نے افغانستان میں اپنے پنجے گاڑھ رکھے تھے اور یہ وہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کراتا تھا۔ طالبان کے بعد یہ سلسلہ رک جائے گا اور ہمیں سانس لینے کا موقع مل جائے گا لیکن یہ صورت حال زیادہ دنوں تک نہیں چل سکے گی کیونکہ طالبان بھی ہمارے لیے بھارت سے چھوٹا خطرہ نہیں ہیں۔ یہ دنیا کی دوسری سپر پاور کو شکست دے کراقتدار میں آئے ہیں۔ لہٰذا مستقبل میں ان کا اعتماد آسمان کو چھوئے گا۔ یہ 20 برسوں کے دوران پاکستان کے رویے سے بھی خوش نہیں تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے ان کے ہزاروں ساتھی پکڑ کر امریکا کے حوالے کیے تھے اور ان ساتھیوں میں سفیر ملا عبدالسلام ضعیف جیسے لوگ بھی شامل تھے جنہیں ننگا کرکے امریکیوں کے حوالے کیا گیا اس واقعے کے حوالے سے ملا ضعیف نے اپنی سوانح عمری میں سب کچھ کھل کر لکھ دیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں پاکستان کے اس غیر سفارتی اقدام پر کس قدر افسوس ہے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم طالبان کو افغان حکومت سے لین دین کے لیے بھی استعمال کرتے رہے اور ہم نے آخر میں انھیں باندھ کر امریکا کے سامنے بھی بٹھا دیا لہٰذا یہ اندر سے ہمارے ساتھ ناراض ہیں۔ ان کے بقول طالبان میں اس وقت چار لوگ بہت اہم ہیں۔ پہلی شخصیت کا نام ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہے یہ قندہار کے رہنے والے ہیں۔ یہ طالبان کے پہلے دور میں زیادہ اہم نہیں تھے‘ ملا عمر کے انتقال کے بعد ملا اختر منصور نے طالبان کی قیادت سنبھالی‘ ملا ہبیت اللہ ان کے قریب تھے لہٰذا انھوں نے انھیں اپنا نائب بنا لیا ملا ہیبت اللہ کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں مدرسہ خیرالمدارس چلاتے تھے۔ یہ خود بھی شیخ الحدیث ہیں اور دینی اور دنیاوی دونوں علوم کے ماہر ہیں۔ ان سے پہلے کے طالبان امیر ملا اختر منصور 22 مئی 2016 کو ایران سے لوٹتے ہوئے کوئٹہ میں امریکی ڈرون کا شکار بن گئے تھے۔ ان کے بعد ملا ہیبت اللہ اخوانزادہ طالبان کے امیر بن گئے اور یہ آج تک ان کے امیر ہیں۔
جاوید کے مطابق طالبان کی دوسری اہم ترین شخصیت ملا عبدالغنی برادر ہیں‘ ملا برادر نے 1990 کی دہائی میں تحریک طالبان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ ملا عمر کے ساتھی بھی تھے اور ہرات اور نیمروز کے گورنر بھی رہے، نائن الیون کے بعد کراچی میں چھپ گئے۔ پاکستانی ایجنسیوں نے انھیں 2010میں گرفتار کیا اور یہ اس کے بعد آٹھ سال ہماری مختلف جیلوں میں محبوس رہے۔ امریکا نے 2018 میں طالبان سے بات چیت کا فیصلہ کیا تو ہم نے سی آئی اے کی درخواست پر ملا عبدالغنی برادر کو رہا کر دیا اور یہ دوحا چلے گئے، یہ وہاں مسلسل امریکا سے مذاکرات کرتے رہے۔ شنید ہے امریکا سے حتمی مذاکرات بھی ملا برادر نے کیے تھے۔ یہ اب قندہار اور 11 ستمبر 2001کے بعد کابل میں بیٹھ کر اپنے وعدے پورے کریں گے لیکن آپ یہ یاد رکھیں ملا برادر دینی اور دنیاوی دونوں قسم کے علوم سے محروم ہیں۔ ان کا ایکسپوژر بھی نہیں یہ زندگی میں صرف ایک بار افغانستان سے نکلے تھے اور ان کا واحد سفر پاکستان تک تھا اور یہ اس کے بعد 2018 تک پاکستانی جیلوں میں محبوس رہے، یعنی ان کا ٹوٹل ورلڈ ویو دوحا تک محدود ہے۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ملا برادر کے بعد ملا عمر کے صاحب زادے ملا یعقوب اہم ترین شخصیت ہیں۔ یہ طالبان کے آرمی چیف اور ملا ہیبت اللہ اخوانزادہ کے شاگرد ہیں، ان کی زندگی کا زیادہ حصہ بھی پاکستان میں زیر زمین گزرا تھا۔ طالبان نے ان کی قیادت میں افغانستان پر قبضہ کیا اور یہ آنے والے دنوں میں افغانستان کی مضبوط اور بااثر ترین شخصیت ہوں گے۔ ان کے بعد جلال الدین حقانی کے صاحب زادے سراج الدین حقانی آتے ہیں یہ عرف عام میں خلیفہ کہلاتے ہیں اور یہ طالبان کے داخلہ امور کے انچارج ہیں یہ بھی طویل عرصہ پاکستان میں رہے، روانی کے ساتھ اردو بولتے ہیں اور پاکستان میں کاروبار بھی کرتے ہیں۔ یہ آج افغانستان میں عوام اور عالمی برادری کو متاثر کرنے کے لیے اچھے فیصلے کر رہے ہیں۔انھوں نے ٹیلی ویژن کو بھی تسلیم کرلیا اور یہ خواتین کو تعلیم اور کام کی سہولت بھی دے رہے ہیں لیکن یہ زیادہ دنوں تک اس اسپرٹ کوقائم نہیں رکھ سکیں گے‘ کیوں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ خواتین کے بارے میں ان کا رویہ ہے‘ آپ پوری تحریک طالبان اٹھا کر دیکھ لیں‘ آپ کو آج تک اس میں کوئی خاتون نظر نہیں آئے گی۔ دوحا میں بھی کوئی خاتون ان کے دفتر میں کام نہیں کرتی تھی‘ یہ لوگ اگر چاہتے تو یہ اپنی خواتین کو ٹرینڈ کر سکتے تھے لیکن کیوں کہ ان کی فلاسفی میں خواتین کی گنجائش موجود نہیں لہٰذا ان کی تحریک ہو یا پھر دفتر آپ کو اس میں کوئی خاتون نظر نہیں آتی اور یہ مائنڈ سیٹ جلد یا بدیر آپ کو افغانستان میں دکھائی دے گا۔ جاوید کہتے ہیں کہ دوسری بات یہ ہے کہ طالبان نے اقتدار میں آتے ہی افغانستان کا پرچم اتار دیا اور اس کی جگہ تحریک طالبان کا پارٹی پرچم لہرا دیا۔ گویا طالبان یہ تک نہیں جانتے کہ پرچم کسی حکومت کا نہیں ہوتا بلکہ ملک کا ہوتا ہے اور یہ اتارا نہیں جاتا۔ ان لوگوں کو مینجمنٹ اور سسٹم کی ٹریننگ بھی نہیں ہے چناں چہ یہ بہت جلد بحران پیدا کر دینگے اور پاکستان کے لیے اس بحران سے بچنا مشکل ہو جائے گا۔
