طالبان کی واپسی سے خیبر پختونخوا اور وزیرستان والے پریشان

تحریک طالبان سے وابستہ دہشتگردوں کی افغانستان سے واپسی کے بعد سوات، وزیرستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں دہشت گردانہ کارروائیوں سے خوف و ہراس کی فضا پھیل چکی ہے اور عوام کی بڑی تعداد قیام امن کیلئے سڑکوں پر نکل آئی ہے، مظاہرین کا کہنا ہے کہ طویل خونریزی، تباہی کے بعد حالات ساز گار ہوئے ہیں اور ہم دوبارہ ماضی میں نہیں جانا چاہتے۔ طالبان کی واپسی کے بعد ان علاقوں کے مکین خوفزدہ ہیں، کالے شیشوں والی گاڑیاں کھلے عام گھوم رہی ہیں، لوگوں کو دوبارہ سے بھتے کی پرچیاں اور دھمکیاں مل رہی ہیں، بھتہ نہ دینے والوں کو اغوا کیا جا رہا ہے، پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملے ہو رہے ہیں ، تاہم سیکیورٹی ادارے بے بس ہیں اور اپنے بنکرز میں بند ہو کر بیٹھے ہیں۔ ایسے میں عوام کا کہنا ہے کہ وہ امن کے حصول کے لیے احتجاج بھی نہ کریں تو اور کیا کریں؟
جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پختون امن پاسون نامی تنظیم کے زیر اہتمام ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک مقامی افراد کی جانب سے صرف ایک ہی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انکا کہنا یے کہ انھیں خطے میں ’نا سڑک چاہیے نہ کچھ اور، انہیں صرف امن چاہیے۔ سوات میں احتجاجی مظاہروں کے بعد یہ سلسلہ جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں بھی پھیل گیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایاز وزیر کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں اب تک مقامی قبائلی رہنما شامل نہیں ہوئے، لیکن جلد ہی وہ بھی علاقے کے علماء کرام کے ساتھ ان احتجاجی مظاہروں کا حصہ بن جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اور وزیرستان میں افغانستان سے واپس آنے والے تحریک طالبان کے دہشتگرد دوبارہ سے امن و امان کی صورتحال خراب کر رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق ان علاقوں کے ڈاکٹرز، اساتذہ اور دیگر سرمایہ دار اب دوسرے علاقوں کی جانب ہجرت کر ریے ہیں، لوگوں کو امن عامہ کے علاوہ صحت اور تعلیم کا مسائل بھی در پیش ہے، لوگ اب شام کے بعد گھروں سے نہیں نکلتے، وانا بازار جو رات 10 بجے تک کھلا رہتا تھا اب وہ چار بجے بند ہو جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما امان اللہ خان نے بتایا کہ انگور اڈے پر پہلے اچھا کاروبار ہوتا تھا لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ لوگ کھانے پینے کر ترس گے ہیں، وزیرستان میں خوف کی فضا ہے، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جیلوں سے قیدیوں کی رہا ہونے والوں میں بڑی تعداد ایسے شدت پسندوں کی تھی جن کا تعلق وزیرستان اور قریبی علاقوں سے تھا، وہ لوگ اب واپس اپنے علاقوں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور اپنی دہشت گردانہ کاروائیاں بھی دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
