طیارہ حادثہ؛ کاک پٹ وائس ریکارڈر سے اہم معلومات مل گئیں

یورپی طیارہ ساز کمپنی ائیربس نے کہا ہے کہ کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے طیارے کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر سے تحقیقات کے لیے اہم معلومات ملی ہیں۔
خیال رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کا لاہور سے کراچی آنے والا اے- 320 طیارہ لینڈنگ سے چند سیکنڈ قبل حادثے کا شکار ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے سمیت 97 افراد جاں بحق جب کہ دو افراد معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔
حادثے کی تحقیقات میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سمیت اے-320 طیارہ بنانے والی یورپی کمپنی ائیربس کے ماہرین بھی حصہ لے رہے ہیں۔ائیر بس کے چیف پروڈکٹ سیفٹی آفیسریانک مالینج کی جانب سے پی آئی اے سمیت اے-320 استعمال کرنے والی تمام ائیرلائنز کو خط لکھا گیا ہے جس میں طیارہ حادثے کی تحقیقات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات میں پاکستانی ائیرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے نمائندے بھی شریک ہیں، ہم تفتیشی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں۔
ائیر بس کے مطابق تباہ شدہ جہاز کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کا تجزیہ کیا گیا اور سناگیا ہے، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر سے تحقیقات کے لیے اہم معلومات ملی ہیں۔خط کے متن کے مطابق ائیربس کے پاس اس مرحلے میں آپریٹرز کے لیےکوئی خاص حفاظتی سفارشات نہیں ہیں۔
دوسری طرف حادثے کا شکار ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے طیارے کی تحقیقات کرنے والے فرانسیسی تفتیش کاروں نے اعلان کیا ہے کہ بدقسمت پرواز کے بلیک باکس کی ڈی کوڈنگ اور ڈاؤن لوڈنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔
فرانسیسی بیورو آف انکوائری اینڈ اینالسز فار سول ایوی ایشن سیفٹی (بی ای اے) نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ پی کے-8303 کے بلیک باکس کے 2 اجزاء کاکپٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایف ڈی آر) کی ڈی کوڈنگ اور اس کے ڈیٹا کی ڈاؤن لوڈنگ’ختم ہوگئی ہے، (جس کا) تجزیہ جاری رہے گا‘۔ بیورو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) بعد کی تاریخ میں ڈاؤن لوڈ کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر/ پاکستان کے اے اے آئی بی کی تحقیقات/ان کی طرف سے موجودہ رابطوں پر ایک ابتدائی بیان جاری کرے گا۔
خیال رہے کہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 22 جون کو پارلیمان میں پیش کی جائے گی۔
یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔
اس حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت تحقیقات کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔
ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کر رہے ہیں جب کہ ٹیم کے دیگر اراکین میں اے اے آئی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، پاک فضائیہ کامرہ کے سیفٹی بورڈ کے انویسٹی گیٹر گروپ کیپٹن توقیر اور بورڈ کے جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ناصر مجید شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طیارہ ساز کمپنی ایئربس کے ماہرین کی خصوصی ٹیم بھی پاکستان میں موجود ہے جو ایئرکرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے آئی آئی بی) کے حکام کے ساتھ اس حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کررہی ہے۔ اس کے علاوہ تباہ ہونے والے طیارے اے 320 کو تیار کرنے والے کمپنی ایئر بس نے 11 اے اے آئی بی کے تفتیش کاروں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے 11 رکنی ٹیم پاکستان بھجوائی تھی۔
حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایئربس کی تحقیقاتی ٹیم نے مسلسل 3 روز جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں شواہد اکٹھے کیے جب کہ رن وے اور ایئر پورٹ کے احاطے کا بھی جائزہ لیا تھا۔ بعدازاں ٹیم اے اے آئی بی کے صدر ایئر کموڈور عثمان غنی کے ہمراہ طیارے کے بلیک باکس کے 2 اجزا کاکپٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر لے کر فرانس واپس چلی گئی تھی جہاں اس پر کام جاری ہے۔
