ظہیر الاسلام آئی ایس آئی کے متنازع ترین چیف کیوں ہیں؟

پاکستانی تاریخ کے متنازعہ اور طاقتور ترین آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت اختیار نہیں کی لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ظہیرالاسلام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ عمران اور ان کی تحریک انصاف کو آئی ایس آئی نے تیسری آپشن کے طور پر میدان میں اتارا تھا۔ راولپنڈی میں تحریک انصاف کے ایک امیدوار کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو کئی مرتبہ اقتدار میں لا لا کر تھک چکے تھے لہٰذا اسٹیبلشمنٹ نے تیسری آپشن آزمانے کا فیصلہ کیا تھا۔
ظہیر الاسلام کو اس لیے آئی ایس آئی کا متنازعہ ترین چیف کہا جاتا ہے کہ ان کے دور میں نواز شریف حکومت کے خلاف بار بار سازش ہوئی اور عمران نے اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر ڈی چوک میں دھرنا بھی دیا۔ نواز شریف نے بھی ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ظہیرالاسلام کے دور میں ان سے استعفیٰ مانگا گیا تھا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد سپریم کورٹ کے ذریعے انہیں نااہل کروا دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ظہیرالاسلام اپنے دور میں تب کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بھی زیادہ طاقتور تھے اور ان کی سیاسی تربیت لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے کی تھی۔ پاشا کے دور میں سینئر صحاف سلیم شہزاد کا قتل کیا گیا تھا جبکہ ظہیر الاسلام کے دور میں حامد میر کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ظہیر الاسلام کے مبینہ حکم پر سینئر صحافی حامد میر کو کراچی میں 6 گولیاں ماری گئی تھیں لیکن وہ معجزاتی طور پر زندہ بچ گئے۔ یہ اور بات کہ نواز شریف حکومت کی جانب سے اس قاتلانہ حملے کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن کی رپورٹ آج دن تک سامنے نہیں آ پائی۔
اپنی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبروں پر رد عمل دیتے ہوئے ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ میں نے ابھی اس میں باقاعدہ شمولیت اختیار نہیں کی لیکن مستقبل کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے بتایا کہ میں نے چند دن قبل اپنے آبائی گاؤں کہوٹہ میں بااثر مقامی شخصیات سے ملاقات کی تھی، اس کا مقصد راولپنڈی سے پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 7 پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا جس اجلاس میں پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ ہوا، اس میں وہ بھی شریک تھے چنانچہ انہوں نے ہی اس کا اعلان کیا۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام نے کہا کہ ان کی عمران سے کوئی حالیہ ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب سے عمران وزیر اعظم بنے تب سے تو ہم بالکل بھی نہیں ملے،
ظہیر الاسلام نے کہا کہ میں سب کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ میں کوئی سیاست دان نہیں ہوں بلکہ سچ میں ایک نیوٹرل ہوں۔ ظہیر کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ امیدوار کون ہے۔ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کس نظام کو ووٹ دینا ہے اور یہی نظام ہمیں تحریک انصاف میں نظر آتا ہے۔
خیال رہے کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام 2012ء میں آئی ایس آئی کے سربراہ بنے تھے۔ ان کا تعلق پاک فوج کے 55ویں لانگ کورس اور پنجاب رجمنٹ سے تھا۔ 2010ء ان کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ اس کے بعد تھری سٹار جنرل کے طور انہوں نے دوس سال یعنی 2012ء تک کور کی کمان کی اور پھر آئندہ 2 سالوں تک پاک فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں تعینات ہوئے۔ اس سے قبل وہ مری کے جی او سی رہے اور سیاچن میں بریگیڈ بھی کمانڈ کی۔ ان کے والد بھی پنجاب رجمنٹ سے تعلق رکھتے تھے۔
ظہیر بعض کتابوں کی زینت بھی بنے جن میں سابق آرمی چیف آصف نواز کے بھائی شجاع نواز کی کتاب ’دی بیٹل فار پاکستان‘ بھی شامل ہے۔ اس کتاب کے صفحہ 262 میں پاکستان میں امریکہ کے سابق سفیر رچرڈ اولسن سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے شجاع نواز لکھتے ہیں کہ امریکی سفیر نے انھیں بتایا کہ ’ستمبر 2014 میں ہمیں اطلاع ملی کہ جنرل ظہیر الاسلام پاکستان میں فوجی بغاوت کا منصوبہ بنا رہے ہیں مگر اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس منصوبے کو پنپنے نہیں دیا اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جنرل ظہیر کور کمانڈرز سے بھی رابطے رکھے ہوئے تھے اور اگر انھیں راحیل شریف کی حمایت ہوتی تو حکومت کا تختہ الٹ چکا ہوتا۔‘
اسی بارے میں 2015 میں بی بی سی کو ایک انٹرویو میں مسلم لیگ نون کے رہنما اور اس وقت نواز شریف کی کابینہ کے اہم رکن مشاہد اللہ خان نے ظہیر کے کردار سے متعلق اہم انکشافات کیے تھے۔انھوں نے کہا تھا کہ 2014 میں اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ ظہیر الاسلام نے ایک سازش تیار کی تھی جس کے ذریعے وہ فوجی اور سول قیادت کو ہٹا کر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
مشاہد کے بقول سازش کا انکشاف تب ہوا جب سویلین انٹیلی جنس ادارے انٹیلی جنس بیورو نے لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی ٹیلی فونک گفتگو ٹیپ کی جس میں وہ مختلف لوگوں کو ہدایات دے رہے تھے کہ دھرنے کے دوران کس طرح افراتفری پھیلانی ہے اور وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ 28 اگست کی شام وزیراعظم نواز شریف نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے دوران یہ آڈیو ٹیپ انھیں سنائی۔ راحیل شریف یہ ٹیپ سن کر حیران رہ گئے۔ انھوں نے اسی وقت جنرل ظہیر الاسلام کو اسی میٹنگ میں وزیر اعظم کے سامنے طلب کر کے وہی ٹیپ دوبارہ چلوائی اور ان سے پوچھا کہ کیا یہ آواز آپ ہی کی ہے اور جنرل ظہیر کی جانب سے اس تصدیق کے بعد کہ یہ آواز انہی کی ہے، جنرل راحیل نے جنرل عباسی کو میٹنگ سے چلے جانے کو کہا۔
مشاہد اللہ خان نے بتایا تھا کہ کئی بہت مؤثر اور سینئر جرنیل اس سازش میں ملوث تھے، جن میں لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام بھی شامل ہیں لیکن جنرل راحیل شریف اور فوج ایک ادارے کے طور پر اس سازش میں شامل نہیں تھی۔
