عالمی برادری کا ایران امریکہ تنازع بات چیت سے حل کرنے پر زور

عالمی برادری نے ایران اور امریکہ سے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق امریکہ ڈرون حملے میں قتل ہونیوالے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کے لیے ایران کی جانب سے عراق میں امریکی افواج کے اڈوں پر کیے گئے حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی برادری نے دونوں ملکوں سے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔
ایران نے القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں عراق میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغ دیے۔
اطلاعات کے مطابق تہران نے مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے عراق میں 2 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی، اتحادی افواج کے اہلکار رہتے ہیں جبکہ مذکورہ حملے میں ایران نے اپنی سرزمین سے ایک درجن سے زائد میزائل فائر کیے۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق میزائل حملے میں ’80 امریکی دہشت گرد‘ ہلاک ہوئے اور کوئی میزائل روکا نہیں جاسکا۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک ریب نے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عراقی فوجی اڈوں پر بیلسٹنگ میزائل حملوں میں ہلاکتوں کی رپورٹس پر شدید تحفظات ہیں، ہم ایران پر زور دیتے ہیں وہ ایسے غیرذمے دارانہ اور خطرناک حملے دوبارہ نہ کرے اور اس کے بجائے کشیدگی میں کمی کی کوشش کرے۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ سے صرف داعش اور دیگر دہشت گرد گروپوں کا فائدہ ہو گا۔
جرمنی نے عراق میں امریکا کے زیر استعمال فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایران کو انتباہ دیا ہے کہ وہ مزید کسی قسم کی کارروائی سے گریز کرے۔جرمنی کے وزیر دفاع اینگریت کریمپ کیرن بور نے کہا کہ ہم اس جارحیت کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور اب ایران کو چاہیے کہ وہ مزید اشتعال انگیزی سے گریز کرے۔
دوسری طرف روسی رکن پارلیمنٹ نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ تنازع سے جوہری جنگ چھڑ سکتی ہے۔روس کے ایوان بالا کے رکن ولادمیر زیباروو نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں سے خطے میں باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے اور اگر امریکا کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہے ہیں تو جوہری جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کیا۔
چین نے بھی ایرانی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں تناؤ کسی کے مفاد میں نہیں اور فریقین کو مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔چین نے کہا کہ وہ ایران امریکا تنازع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس اور پیچیدہ ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور گرگش نے کہا کہ خطے کو موجودہ کشیدہ صورتحال سے نکالنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں کمی عقلمندی اور انتہائی ضروری ہے اور استحکام کے حصول کے لیے سیاسی راستہ اختیار کیا جائے۔
ادھر ایران کے حملے کے بعد جاپان نے عالمی طاقتوں سے خطے میں کشیدہ صورتحال میں کمی پر زور دیا ہے اور موجودہ صورتحال میں جاپانی وزیر اعظم کی جانب سے سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کا دورہ منسوخ کیے جانے کا امکان ہے۔جاپانی کابینہ کے ترجمان یوسی ہائید سوگا نے کہا کہ جاپان تمام متعلقہ ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ جاپان خطے میں موجود اپنی ویسلز اور ئل ٹینکرز کی مدد کے لیے ایک وارشپ خلیجی ممالک کی جانب روانہ کر رہا ہے۔
پولینڈ نے تصدیق کی ہے کہ عراق پر ایرانی فضائی حملے میں پولش فوج کا کوئی بھی اہلکار ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
پولینڈ کی وزارت دفاع نے کہا کہ الاسد اور اربیل کے اڈوں پر راکٹ حملے میں کسی بھی پولش فوجی کو نقصان نہیں پہنچا اور ہم عراق میں پولش فوج کے کمانڈر سے مستقل رابطے میں ہیں۔
آسٹریلیا اور ڈنمارک نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے حملے میں عراق میں موجود ان کے کسی بھی دوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔ عراق میں آسٹریلیا کے تقریباً 300 اور ڈنمارک کے تقریباً 130فوجی موجود ہیں۔
نیوزی لینڈ نے بھی موجودہ کشیدہ صورتحال میں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔
