عالیہ رشید نے کس بات پر سکندر بخت کو شیٹ اپ کال دی؟

ایک نجی ٹی وی چینل پر تبصرے کے دوران سابق ٹیسٹ کرکٹر سکندر بخت جیو ٹی وی سے وابستہ سینئر سپورٹس جرنلسٹ اور تجزیہ کار عالیہ رشید پر غصے ہو کر چیخنے لگے جس کے بعد دونوں کے مابین ٹھیک ٹھاک تو تو میں میں ہوئی جس کا اختتام عالیہ رشید کی جانب سے سکندربخت کے لیے ایک شیٹ اپ کال پر ہوا۔ اس واقعے کے بعد سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا کرکٹ پر بات کرنے کا حق صرف مردوں کا ہی ہے؟
80 کی دہائی میں مرحوم منیر حسین نے کرکٹ پر ایک جریدہ ‘اخبار وطن’ شائع کرنا شروع کیا تھا جس میں کرکٹ سے زیادہ کرکٹرز پرمواد ہوتا تھا۔ اس سے قبل پاکستان سے کرکٹ پر اردو میں کوئی جریدہ نہیں تھا البتہ انگلش میں ریاض منصوری ‘کرکٹر’ نکال رہے تھے جو خاصا خشک سا کرکٹ پر رسالہ تھا اور عوام کے انگریزی سے نابلد ہونے کے باعث غیر معروف تھا ۔’اخبار وطن’ نے شروع دن سے ہی مقبولیت حاصل کرلی کیونکہ منیر حسین نے عوامی ذہنیت کو سامنے رکھ کر کرکٹ سے زیادہ کرکٹرز کی ذاتی زندگی اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں انٹرویو شامل کیے تو قارئین کی دلچسپی بڑھ گئی۔ ‘اخبار وطن’ نے جہاں نئی روایتوں کو جنم دیا وہیں اس نے سپورٹس صحافت کو نئے ناموں سے بھی روشناس کروایا۔ خاص طور پر اس فیلڈ میں خواتین کو لانے کا کریڈٹ منیر حسین کو جاتا ہے۔ ‘اخبار وطن’ نے کئی ایسی خواتین کو کرکٹ کا ماہر بنادیا جو شاید کبھی کرکٹ کے میدان میں نہ گئی ہوں لیکن کرکٹ کی باریکیوں کو ایسے سمجھایا کہ وہ کرکٹ پر اتھارٹی بن گئیں۔’اخبار وطن’ نے اس دور میں جن خواتین کو ماہر کرکٹ بنایا ان میں سب سے اوپر عالیہ رشید کا نام آتا ہے۔
عالیہ کی کرکٹ سے وابستگی اتنی ہوگئی تھی کہ ان کی تحریر اور تبصرے سن کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے کرکٹ باقاعدہ طور پر نہیں کھیلی ۔ عالیہ رشید کا ‘اخبار وطن’ سے شروع ہونے والا صحافتی سفر مختلف ٹی وی چینلز سے ہوتا ہوا آج بھی جاری ہے۔ اس سفر میں متعدد بار ایسے واقعات پیش آئے جہاں شاید ان کو صنف نازک سمجھتے ہوئے ان کی رائے کو کسی قابل نہ سمجھا گیا ہو لیکن گذشتہ دنوں جیو ٹی وی پر سابق ٹیسٹ کرکٹر سکندر بخت کے ان کے بارے میں ریمارکس نے یہ بحث چھیڑدی ہے کہ آیا کرکٹ کی باریکیاں صرف مرد کرکٹر جانتے ہیں اور خواتین کو کرکٹ پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں؟
ٹی وی چینل ‘جیو سپر’ کے ایک پروگرام میں جب خاتون اینکر نے سکندر بخت کے ساتھ عالیہ رشید کو لائن پر لیا اور سرفراز کی پرفارمنس کے بارے میں پوچھا تو عالیہ نے کہا کہ ‘آپ ایک ایسے کھلاڑی پر کیوں پروگرام کررہے ہیں جو ٹیم میں شامل ہی نہیں؟ آپ رضوان پر بات کریں جو اس وقت کھیل رہے ہیں۔’ اس بات پر سکندر بخت بھڑک اٹھے اور بولے ‘رضوان نے ایسا کیا کیا ہے کیا انہوں نے کوئی میچ جتوایا ہے؟ ہم کیوں رضوان پر بات کریں؟’ تاہم عالیہ نے رضوان کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ساری دنیا ان کی تعریف کررہی ہے اور سکندر آپ کو بھی اس موضوع پر ایمانداری سے بات کرنی چاہیے’۔ ان کی اس بات پر سکندر بخت مزید بھڑک اٹھے اور عالیہ سے اپنے الفاظ واپس لینے کا کہتے ہوئے چیخنے لگے۔
اگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو عالیہ کا موقف غلط نہیں ہے ان کا یہ کہنا صحیح نظر آتا ہے کہ رضوان اس وقت کھیل رہے تھے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے نہ کہ کسی تنازعے کا حصہ بنایا جائے۔ سرفراز احمد کی صلاحیت اور خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن وہ اب ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔
سکندر بخت کا یہ مؤقف بھی کمزور ہے کہ رضوان نے ایسا کیا کردیا ہے جو ان کی بات کریں۔ سب جانتے ہیں کہ رضوان ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد ٹیم میں آئے ہیں اور ابھی ان کا ہنی مون پریڈ بھی ختم نہیں ہوا ہے۔ صرف ساتویں ٹیسٹ کی بنیاد پر ان کی صلاحیتوں کا فیصلہ کرنے کی تو کسی عام تبصرہ نگار سے امید نہیں کی جاسکتی تو ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر اور ماہر مبصر سکندر بخت سے ایسا ہونا تو دور کی بات ہے۔ سکندر بخت اپنے موقف اور الفاظ سے ٹس سے مس نہیں ہوئے اور مزید جلتی پر تیل کا کام ان کے اس تبصرے نے کیا ہے کہ جس نے کبھی بیٹ نہ پکڑا ہو اور پیڈز نہ پہنے ہوں وہ ہمیں فٹ ورک سکھائیں گی؟ ان کا یہ تبصرہ نہ تو ان کے شایان شان تھا اور نہ دورحاضر کے مطابق۔
سکندر کی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے عالیہ رشید بھی بھڑک اٹھیں اور انہوں نے سکندر بخت کو دھو ڈالا۔ عالیہ نے کہا سچ تو یہ ہے کہ سکندر بخت ٹی وی پر بیٹھ کر صرف کرکٹرز کی عزتیں اچھالنا جانتے ہیں۔ یہ کبھی کسی کے بارے میں کوئی مثبت اور اچھی بات نہیں کرتے۔ عالیہ نے مزید کہا کہ سکندر بخت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ مجھے اس بات کا طعنہ دیں کہ میں نے کرکٹ نہیں کھیلی اور مجھے کرکٹ کا کچھ پتہ نہیں۔ اگر اسی اصول کو لے کر چلا جائے تو کیا جیو کے معروف کرکٹ ایکسپرٹس یحیی حسینی اور عبدالماجد بھٹی نے کبھی کرکٹ کھیلی ہے؟ عالیہ نے سکندر بخت کے متعصبانہ تبصرے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عورتوں کے حوالے سے اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ تاہم پروگرام کی ہوسٹ خاتون اینکر نے بڑی مشکل سے بریک لیکر عالیہ رشید کا غصہ ٹھنڈا کروایا۔
پروگرام کے بعد اس واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے سکندربخت نے تسلیم کیا کہ انہیں اپنے اعصاب قابو میں رکھنا چاہیے تھے۔ وہ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ انہوں نےخواتین تجزیہ کاروں کی مخالفت کی ہے اور کہا وہ کسی ایسی تجزیہ کار کا خیر مقدم کریں گے جو کرکٹ باقاعدہ کھیل چکی ہوں۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اگر ثنا میر بطور تجزیہ کار آجائیں تو میں اٹھ کر استقبال کروں گا۔’ اگر سکندر بخت کا یہ موقف درست مان لیا جائے تو پھر ایسے بہت سے تبصرہ نگار فارغ کرنا ہوں گے جو کبھی کسی اچھے طرز کی کرکٹ نہیں کھیل چکے ہیں لیکن کرکٹ پر ان کی معلومات اور باریکیاں کسی بھی انٹرنیشنل کرکٹر سے کم نہیں۔ ماضی میں جمشید مارکر، عمر قریشی، افتخار احمد، منیر حسین چشتی مجاہد وہ مایہ ناز تبصرہ نگار تھے جن سے کرکٹرز بھی مشورے لیتے تھے حالانکہ انہوں نے کبھی شاید بیٹ بھی نہ پکڑا ہو۔
اس وقت دنیا میں دس کے قریب خواتین کمنٹیٹر ہیں جن میں سے چند ایک ہی قابل ذکر کرکٹ کھیل سکی ہیں لیکن جو کرکٹ نہیں کھیلی ہیں۔ ان کا انہماک اور کرکٹ پر نظرکسی مرد تبصرہ نگار سے کم نہیں۔ پاکستان سے عالیہ رشید اور زینب عباس ان تجزیہ کاروں میں شامل ہیں جنہیں ان کی صلاحیتوں کی بنا پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹی وی چینلز کے ساتھ آئی سی سی نے بھی متعدد بار اپنے پریزینٹرز میں شامل کیا ہے۔ اس واقعے سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کرکٹ پر بات کرنے کا حق کس کا ہے؟ کیا وہ کرکٹرز جو کبھی انٹرنیشنل کرکٹ کھیل چکے ہوں یا پھر وہ جو صبح شام کرکٹ پر بات کرتے ہوں؟ اس کا جواب چاہے کچھ بھی ہو لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مردوں کو ترجیح دینے والے پاکستانی معاشرے میں اب بھی ایک خاتون کرکٹ تجزیہ کار کو وہ مقام حاصل نہیں جو ایک مرد تجزیہ نگار کو ہے۔
عالیہ رشید ہوں یا زینب عباس یا سویرا پاشا، کرکٹ پر گہری نظر کے باوجود شاید انہیں کبھی ماہر نہ سمجھا جائے ۔ویسے سکندر بخت کی اس بات کو درست مان لیا جائے کہ کرکٹر رضوان کی بات کیوں کریں؟ کیاانہوں نے کوئی میچ جتوایا ہے؟ تو یہی سوال سکندر سے بھی ہوسکتا ہے کہ آپ سے کیوں ماہرانہ رائے لی جائے کیا آپ نے کبھی پاکستان کو کوئی کرکٹ میچ جتوایا تھا؟
