رفیق حریری قتل کیس، حزب اللہ کے رکن سلیم عیاش پر فرد جرم عائد

نیدر لینڈ کے شہر دی ہیگ میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والے عدالتی ٹریبونل نے فیصلہ دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے قتل میں عسکری گروپ حزب اللہ کی قیادت یا شام کی حکومت کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری 14 فروری 2005 کو بیروت میں ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک وین رفیق حریری کے قافلے کے قریب دھماکے سے پھٹ گئی تھی۔اس حملے میں حریری کے علاوہ مزید 21 افراد ہلاک اور 226 زخمی ہو گئے تھے۔ان الزامات کے تحت چار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن کا تعلق حزب اللہ سے ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ یا شامی حکومت کا یہ مقصد ہو سکتا تھا کہ رفیق حریری اور ان کے ساتھیوں کو راستے سے ہٹایا جائے۔ لیکن ایسے شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ حزب اللہ کی قیادت اس کارروائی میں ملوث تھی۔خصوصی عدالت کے جج ڈیوڈ ری نے 2600 صفحات پر مشتمل فیصلے کا خلاصہ پڑھ کر سنایا، جس میں کہا ہے کہ یہ شواہد بھی نہیں ملے کہ شام کی حکومت اس قتل میں براہ راست ملوث تھی۔البتہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حزب اللہ کے دو اراکین سے متعلق یہ شواہد ملے ہیں کہ اُن کے موبائل فون اس کارروائی کے دوران استعمال ہوئے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی عدالت نے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل میں ملوث شدت پسند تنظیم حزب اللہ کے چار ارکان میں سے ایک پر فرد جرم عائد کر دی ہے جبکہ دیگر تین ارکان کو بری کر دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سلیم جمیل عیاش کو ٹرک بم حملے کی سازش کرنے کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے۔ججز کا کہنا تھا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلیم جمیل عیاش کے پاس ان چھ میں سے ایک موبائل فون تھا جو حملے میں ملوث ٹیم نے استعمال کیا تھا۔جج میکلائن بریڈی نے دو ہزار چھ سو صفحات پر مشتمل فیصلہ پڑھتے ہوئے بتایا کہ ‘ثبوت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر عیاش کی حزب اللہ سے وابستگی تھی۔

یاد رہے کہ 14 فروری 2005 کو بیروت میں ہونے والے ایک ٹرک بم حملے میں رفیق حریری کے علاوہ 21 افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ فیصلہ تقریباً دو ہفتے کی تاخیر سے سنایا گیا ہے جو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے ایک دوسرے تباہ کن دھماکے کے متاثرین کے ساتھ اظہار عقیدت کے طور پر کی گئی تھی۔لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایمونیم نائٹریٹ کے باعث ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 180 افراد ہلاک جبکہ چھ ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
پریزائیڈنگ جج ڈیوڈ ری نے سماعت شروع ہونے سے قبل دھماکے کے متاثرین، ان کے اہل خانہ اور دھماکے کے نتیجے میں بے گھر ہوجانے والوں کے ساتھ اظہار ہمدردی میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا کہا۔

حریری لبنان کے سب سے نمایاں سنی رہنما تھے جبکہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ شیعہ مسلمانوں کی تنظیم ہے۔
یہ مقدمہ اس خود کش حملے میں مبینہ طور پر ملوث حزب اللہ کے چار ارکان کے کردار سے متعلق ہے جس کے نتیجے میں حریری اور 21 دیگر افراد ہلاک جبکہ 226 زخمی ہوگئے تھے۔یہ کیس اس حملے کے منصوبہ سازوں کے موبائل سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔
2014 میں شروع ہونے والے اس ٹرائل کے دوران ٹریبیونل نے نیدرلینڈز میں 297 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ابتدائی طور پر اس کیس میں پانچ ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جن کا تعلق حزب اللہ تنظیم سے تھا۔ حزب اللہ کے اعلیٰ عسکری کمانڈرز میں سے ایک کمانڈر مصطفیٰ بدالدین کے خلاف مقدمہ 2016 میں شام میں ان کے قتل کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔
