عامر لیاقت حسین ایک مرتبہ پھر تنازعے کا شکار

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور رنگیلے ٹی وی اینکر عامر لیاقت کی ایک لڑائی جھگڑے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ ٹریفک پولیس اہلکاروں سے الجھ رہے ہیں اور پاگلوں کی طرح چیخ رہے ہیں۔ تاہم بعد ازاں عامر نے الٹا ٹریفک پولیس اہلکاروں پر رشوت بٹورنے کا الزام عائد کر دیا جسے رد کرتے ہوئے ٹریفک اہلکاروں نے ان پر دھمکیاں دینے، بدتمیزی کرنے اور جھوٹے الزام لگانے کا الزام عائد کیا ہے۔
عامر لیاقت نے اگلے روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ ایک ٹریفک پولیس اہلکار پر خوب گرج رہے تھے۔ اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ ’اپنے حلقے میں پولیس کی پیدا گیری نہیں چلنے دوں گا، عوام کو روک روک کر پیسے مانگ رہے تھے، منہ کھلا ہوا ہے ان کا لاک ڈاؤن میں۔ مین نے پورا دن کئی ٹریفک پولیس اور پولیس کے اہلکاروں کو رشوت مانگتے ہوئے پکڑا ہے۔‘ عامر لیاقت کی اس پوسٹ پر کراچی سے تعلق رکھنے والے کچھ صارفین ان کے ہم خیال دکھائی دیے تو کچھ نے عامر کے تلخ رویے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
لیکن ایس پی ٹریفک ایسٹ کراچی نے اس معاملے پر وضاحتی بیان میں بتایا ہے کہ ’یکم اگست کی سہ پہر تقریباً 4 بجکر 32 منٹ پر فیروز آباد ٹریفک سیکشن کی حدود شارع قائدین پر ہیڈ کانسٹیبل سید یاسر عباس اپنی ڈیوٹی پر مامور تھے کہ اسی اثناء میں ایک گاڑی نمبر BD-9930 آ کر رکی جس میں تین افراد سوار تھے۔ ان میں سے ایک نے ہیڈ کانسٹیبل کو کہا کہ تم مجھے جانتے ہو اس علاقے کا ایم این اے عامر لیاقت ہوں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تم لوگوں کو تنگ کر رہے ہو ان سے پیسے بٹورتے ہو اور اسی دوران بدتمیزی بھی کرنے لگے۔’
ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ’اس دوران ریکارڈ کیپرشاہد میراں بھی اسی مقام پر آ گئے اور انہوں نے شور شرابا دیکھا تو عامر لیاقت سے دریافت کیا کہ کیا ہوا ہے؟ تو عامر لیاقت نے ان سے بھی انتہائی ناشائستہ اور غلیظ زبان استعمال کی اور ان سے ایس او پیز پر عمل کرنے کا پوچھا جس پر ریکارڈ کیپر نے اپنا کرونا ویکسینیشن کارڈ دکھایا، تو اس پر بھی اعتراض لگاتے ہوئے چلے گئے۔‘
ایس پی ٹریفک ایسٹ کراچی کا کہنا ہے کہ ’مذکورہ وقوعہ کے ساتھ ایک اور واقعہ منسلک ہے۔ ٹریفک پولیس کی ریپیڈ کاروں نے ساڑھے چار بجے نرسری برج کے مقام پر موٹر سائیکل سوار تین افراد کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر روکا۔‘ بیان کے مطابق ’موٹر سائیکل سوار نے پہلے طارق روڈ ٹریفک سیکشن کا چالان دکھایا جس پر سب انسپکٹر محمد اشرف نے ان موٹر سائیکل سواروں کو جانے دیا۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’اتنے میں پیچھے سے ایک گاڑی آکر رکی جس میں تین افراد سوار تھے وہ طیش میں باہر آئے جس میں ایک شخص نے سرکاری کار کی ڈگی پر مکے مارنے شروع کیے اور اپنے آپ کو عامر لیاقت ظاہر کیا۔‘ ایس پی ٹریفک پولیس نے بتایا کہ ’ان کی اس حرکت پر افسر نے کار سے باہر اترنے کی کوشش کی تو انہوں نے اور ان کے دیگر ساتھیوں نے مکے مارے اور دھکے دیے اور کار سے اترنے نہیں دیا اور ہم پر مختلف الزامات لگائے اور بدتمیزی کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مذکورہ شخص نے کہا کہ علاقے سے دفع ہو جاؤ ورنہ میں تمھیں نوکری سے برخواست کرا دوں گا جس پر مذکورہ افسر نے صبر و تحمل سے کام لیا اور وہ روانہ ہوگئے۔‘
تاہم عامر لیاقت نے اس اعلامیے کو ’جھوٹا‘ قرار دیتے ہوئے ایک اور ویڈیو شیئر کی ہے جس کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’دیکھیے کہ گاڑی آرام سے گزر گئی اور میں کہتا رہ گیا کہ پکڑو جو پیسے جیب میں ڈال کر چلتے بنے اور اہلکار کہہ رہا ہے یہ اس علاقے کی گاڑی نہیں ،یہی تو کہا تھا مراد علی شاہ یا کسی کے باپ کی نہیں عمران خان کی حکومت ہے۔‘
عامر لیاقت کی جانب سے جب ویڈیو شیئر کی گئی تو کراچی سے تعلق رکھنے والے کئی صارفین ان متفق دکھائی دیے اور بعض نے ان کے رویے کو ’نامناسب‘ قرار دیا۔ عبدالحسیب نامی صارف نے لکھا کہ ’تم تو ڈرامے بازیاں کر کے پیسے کما لیتے ہو رشوت لے رہے ہیں تو کوئی ثبوت بھی دے دیتے اور اگر ثبوت تھے تو سڑک پہ ناچنے کی بجائے قانونی طریقے سے اس اہل کار کو نوٹس بھیجتے اور نوکری سے فارغ کرتے۔‘ سید عارف نامی صارف نے لکھا کہ ’جب یونیفارم والوں کو اپنے یونیفارم کی عزت نہیں تو عوام کیوں کر کرے گی؟ عوام تو اب بھی بہت عزت کرتی ہے۔ جس دن کراچی میں عوام جاگ گئی ان کو چھپنے کی بھی جگہ نہیں ملے گی۔ کراچی دبئی بنا ہوا ہے ان رشوت خوروں کے لیے۔‘ ایک اور صارف عمران اکرم نے لکھا کہ ’عامر بھائی کام تو اچھا کیا ہے مگر کیا غلط طریقے سے۔ یہ سرکاری وردی ہے اور ہر کوئی اس کو نہیں پہن سکتا۔ آپ نے ایم این اے ہونے کا غلط فائدہ اٹھایا۔ کوئی دوسرا سویلین ایسا کرتا تو وہ حوالات میں ہوتا لیکن پاکستان میں قانون کی حکمرانی اگر ہوتی تو نہ ہم روتے نہ آپ کو یہ شعبدہ کرنا پڑتا۔‘
