نواز لیگ کا دوغلہ بیانیہ الٹا گلے پڑ گیا


مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپنائے گے مزاحمت اور مفاہمت کے دوغلے بیانیے تین برس تک کامیابی سے چلے لیکن اب یہ دورخی بیانیے پارٹی کا فائدہ کرنے کی بجائے نقصان کر رہے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کیا جائے تا کہ ن لیگ کے ووٹر کو مزید کنفیوژڈ ہونے سے بچایا جا سکے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) میں مفاہمت اور مزاحمت کے بیانیوں پر جماعت کے اندر تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہباز شریف کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جیلیں کاٹنے کے باوجود اب بھی اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ دوسری جانب مریم ن لیگ میں مزاحمت کا بیانیہ مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں اور انہیں اپنے والد نواز شریف کی تائید بھی حاصل کریں۔ آزاد کشمیر کے عام انتخابات اور سیالکوٹ میں پنجاب اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال ایک بار پھر زیرِ بحث ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ جماعت کس بیانیے کے ساتھ میدان میں اترے گی کیونکہ اگر اس نے مزاحمتی بیانیہ اپنائے رکھا تو اسٹیبلشمنٹ اسے اقتدار میں نہیں آنے دے گی۔ پارٹی صدر شہباز شریف نے ایک حالیہ انٹرویو میں دوبارہ سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا تو دوسری جانب پارٹی قائد نواز شریف نے ایک بار پھر مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کی بات کر دی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے کامیابی سے تین برس تک مزاحمت یا مفاہمت کی دو رخی پالیسی چلالی۔ لیکن اب وہ وقت قریب ہے کہ اسے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہو گا جس کے بارے میں پارٹی کو جلد فیصلہ کرنا پڑے گا۔ آزاد کشمیر انتخابات کی مہم میں مریم نواز نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلق پر سخت بیانات کا سلسلہ جاری رکھا جب کہ شہباز شریف نے اپنے انٹرویو میں مفاہمت کا پیغام دیتے ہوئے مل کر چلنے کی پیشکش کی۔ اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے 2018 کے انتخابی نتائج مسترد کیے تھے۔ لیکن اب اپنے انٹرویو میں شہباز شریف نے شکست کی وجہ پارٹی کی ناکام حکمتِ عملی کو قرار دے دیا۔
اس معاملے پر سینئر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے ایک عرصے سے قصداََ دونوں بیانیے اپنائے ہوئے ہیں۔ مزاحمت کے بیانیے کے ذریعے حکومت کو للکارا جاتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو سخت پیغامات دیے جاتے ہیں۔ ووٹرز کو امید اور کارکن کو جوش دلایا جاتا ہے۔ البتہ دوسری جانب جب نواز شریف کو بیرونِ ملک جانا ہوتا ہے یا آرمی چیف کو توسیع دینی ہوتی ہے تو مفاہمت کا بیانیہ سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن بہت عرصے تک دو کشیتوں کے سوار بن کر نہیں چلا جا سکتا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) نظریاتی سیاسی جماعت بننا چاہتی ہے تو پھر اسے مزاحمتی بیانیے کو لے کر چلنا ہو گا اور اس کے لیے پارٹی کی نشستوں کی تعداد کے تخمینوں سے بالاتر ہوکر فیصلے کرنے ہوں گے۔
انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ مسلم لیگ (ن) صرف ایک نظریاتی جماعت نہیں بلکہ انتخابی جماعت ہے اور انھیں اپنے بیانیے پر دوبارہ سوچنا پڑے گا اور تبدیلی لانی پڑے گی۔ آزاد کشمیر میں انتخابی نتائج کے بارے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے مزاحمتی بیانیے کی بنیاد پر پارٹی کو مضبوط کیا۔ ووٹرز کو اپنے ساتھ رکھا البتہ انتخابی سیاست میں ’فلوٹنگ ووٹ‘ بھی شامل ہوتا ہے اور وہ اس جماعت کو دیا جاتا ہے جس سے مستقبل قریب میں امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ برسرِ اقتدار آ کر ووٹ دینے والوں کے مسائل حل کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو نظریاتی ووٹ تو ملا۔ البتہ فلوٹنگ ووٹ اسے نہیں ملا۔ کیوں کہ ان کے مزاحمتی بیانیے کی وجہ سے وہ اقتدار میں جلد آتے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ سیالکوٹ کی نشست پر بھی اسی وجہ سے ان کو الیکشن میں شکست ہوئی۔
دوسری جانب نواز شریف نے الیکشنز میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو پانچ لاکھ ووٹ اور چھ نشستیں ملیں۔ جب کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو چھ لاکھ ووٹ اور 26 نشستیں ملیں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ تحریکِ انصاف کی ایسی فتح پر کون یقین کرے گا؟ نواز شریف نے مزید کہا کہ کشمیر اور سیالکوٹ کے نتائج جس طرح حاصل کیے گئے اُس کا تذکرہ اِن انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی منظرِ عام پر آنا شروع ہو گیا تھا۔ باقی آنے والے دنوں میں اور بے نقاب ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ جدوجہد محض چند نشستوں کی ہار جیت کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ آئین شکنوں کی غلامی سے نجات کے لیے ہے۔ اور اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتا کیے بغیر تاریخ کی درست سمت میں کھڑے نظر آنے کے لیے ہے۔
نواز شریف کے اس بیان کے بارے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ابھی شاید مفاہمتی بیانیہ اپنانے کا وقت نہیں آیا۔ کسی بھی جماعت کی حتمی خواہش اقتدار میں آنا ہی ہوتی ہے اور حالیہ مزاحمتی بیانات بھی اسی کا حصہ ہیں۔ وقت آنے پر اس میں تبدیلی آئے گی اور اس کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم تجزیہ کار اور سینئر صحافی سلیم بخاری کہتے ہیں کہ نواز شریف کا بیان ہی مسلم لیگ (ن) کا اصل بیانیہ ہے۔ نواز شریف بضد ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بنائے بغیر کوئی جماعت حکومت نہیں چلا سکتی۔ بدقسمتی سے ملک میں شراکتِ اقتدار تو ہوئی البتہ انتقال اقتدار نہیں ہوا۔ نواز شریف 10 برس سے یہ بیانیہ لے کر چل رہے ہیں کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ فوج کے ساتھ مفاہمت کرکے اقتدار حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد کا ذکر کرتے ہوئے سلیم بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل ہونے کا مقصد بھی یہی تھا۔ البتہ اس کو بھی توڑ دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے البتہ گورننس کے مسائل کی وجہ سے اس ایک پیج پر ہونے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔
سلیم بخاری کے مطابق نواز شریف کا مزاحمتی بیان شہباز شریف کا مفاہمت کا بیانیہ رد کرتا ہے۔ جب پوچھا گیا کہ انتخابی سیاست میں مسلم لیگ کا بیانیہ کیا ہو گا تو سلیم بخاری نے کہا۔کہ انتخابی سیاست بھی اسی بیانیہ کی مدد سے جیتی جا سکتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ تین برس میں 11 ضمنی الیکشن ہوئے اور نو نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی، خیبر پختونخوا میں بھی اسے کامیابی ملی۔ مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک اب تک اگر ایک جگہ پر ہے اور تقسیم نہیں ہوا تو وہ صرف مریم کے مزاحمتی بیانیے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ شہباز شریف تو نوازشریف کے وطن واپس آنے پر ایئر پورٹ تک بھی نہیں پہنچ سکے تھے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ نواز شریف حکومت کو موقع دے رہے ہیں۔ ان کے لیے پنجاب میں اقتدار حاصل کرنا کوئی مشکل نہ تھا لیکن نواز شریف اس حکومت کی حقیقت کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اپنے مزاحمتی بیانیے کو لے کر چل رہے ہیں اور انتخابات تک مسلم لیگ (ن) اسی بیانیے کے ساتھ چلتی ہوئی نظر آ رہی ہے کیونکہ یہ جیت کا بیانیہ ہے۔

Back to top button