عام انتخابات، آئین کے دو آرٹیکلز آپس میں ٹکرا گئے؟

ملک میں مردم شماری کی منظوری کے بعدالیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ کے اعلان کے بعد ایک اور آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں کرانے اور انتخابات میں ممکنہ تاخیر پر پاکستان میں مختلف حلقوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ملک کی بعض سیاسی جماعتیں 90 روز میں الیکشن کی خواہاں ہیں جب ماہرین اس معاملے میں ایک اور آئینی بحران کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد احمد کہتے ہیں کہ اس وقت جو صورتِ حال ہے اس میں ایک طرح سے آئینی بحران پیدا ہو چکا ہے آئین کے دو آرٹیکلز آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔اُن کے بقول آئین کا آرٹیکل 51 کہتا ہے کہ ایک بار نئی مردم شماری کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے تو اس کے بعد الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں کروانے کا پابند ہے۔اُن کے بقول دوسری طرف آئین کا آرٹیکل 224 کہتا ہے کہ انتخابات اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 دن کے اندر ہونا ہے۔ اب ایسے معاملے میں سپریم کورٹ ہی کوئی فیصلہ کر سکتی ہے کہ آئین کے کس آرٹیکل پر عملدرآمد مقدم ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی ملاقات کے بعد سامنے آیا جس کے آدھے گھنٹے بعد الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔کنور دلشاد کہتے ہیں کہ اس بارے میں الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ، کسی نے بھی کوئی وضاحت نہیں دی کہ ان دونوں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی تھی۔اُن کے بقول اس سے پہلے حکومت نے اسمبلی تحلیل ہونے سے تین دن قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا اور اس میں نئی حلقہ بندیوں کے تحت الیکشن کروانے کا اعلان کیا اور اب اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ اس صورتحال بارے کیا حکم دیتی ہے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 17 اگست کو ایک پریس ریلیز جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج شائع ہونے کے بعد کمیشن، آئین کے تحت نئی حلقہ بندیاں کرانے کا پابند ہے۔الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں موجودہ حلقہ بندیوں کو منجمد کر دیا ہے جب کہ 21 اگست تک چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں حلقہ بندیوں کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد 14 دسمبر کو نتائج جاری کیے جائیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف سمیت کچھ سیاسی جماعتوں نے اس معاملے پر سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن نے بھی الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔
دوسری جانب نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہونے ہیں یا اس کے بعد، اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔ الیکشن کب ہونے ہیں یہ ہماری نہیں الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے۔ الیکشن کمیشن انتخابات کی جو تاریخ دے گا اس پر نگراں حکومت کی طرف سے انتظامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے نئی حلقہ بندیوں کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب اس سے پہلے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے ملاقات کی خبریں سامنے آئیں تھیں۔اگرچہ سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی لیکن ان خبروں کی تردید بھی نہیں کی گئی تھی۔میڈیا پر آنے والی اطلاعات کے مطابق دو گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں نئی مردم شماری اور عام انتخابات کے جلد انعقاد پر بات چیت کی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کو سپریم کورٹ کے روبرو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔پی ٹی آئی ترجمان حسن رؤف کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا جاری کردہ حلقہ بندیوں کا شیڈول بدنیتی پر مبنی اور آئین سے کھلا انحراف ہے۔ان کے بقول قومی اسمبلی کی قبل از وقت تحلیل کی صورت میں آئین دو ٹوک انداز میں الیکشن کمیشن کو 90 روز کے اندر انتخابات کے انعقاد کا پابند بناتا ہے۔
پاکستان بار کونسل نے بھی انتخابات 90 روز سے زائد وقت تک ملتوی ہونے پر شدید تنقید کی ہے۔بار کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 روز کے اندر انتخابات ضروری ہیں۔
