عثمان بزدار کو تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پنجاب میں وزیراعلی عثمان بزدار کا متبادل لانے کے معاملے پر پہلی مرتبہ سنجیدہ ترین مشورہ سازی شروع ہو چکی ہے اور علیم خان، اسلم اقبال، ہاشم جواں بخت اور محسن لغاری تحریک انصاف کے اندر سے ہی وزارت اعلی کے متبادل ہیں۔ تاہم ان چاروں میں سے کوئی بھی تب تک وزیراعلی نہیں بن سکتا جب تک گجرات کے چودھری اس کی حمایت نہ کریں لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کہ گجرات کے چوہدری بھی خود کو وزارت اعلیٰ کا اہل اور حقدار سمجھتے ہیں۔
جولائی کا مہینہ پاکستان میں بارشوں کے موسم کا ہوتا ہے، مون سون گردو غبار کو بٹھا دیتی ہے، بارش تیز ہو تو کئی جھونپڑیاں اور مکان بہا کر لے جاتی ہے۔ توقع کے عین مطابق جولائی میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ سیاسی موسم میں تبدیلی کی افواہیں زوروں پر ہیں، فی الحال گھٹا ٹوپ سیاہ بادل شمالی علاقوں سے پنجاب کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان سیاہ بادلوں میں سے بار بار بجلیاں چمک رہی ہیں، گویا اس بار پنجاب میں بارش برسی تو خوب برسے گی اور بہت سا خس و خاشاک بہا کر لے جائے گی۔
ملک کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے بی بی سی کے لیے اپنی تازہ ترین تحریر میں لکھا یے کہ پنجاب میں وزیراعلی عثمان بزدار کے متبادل پر سنجیدہ گفتگو شروع ہو چکی ہے۔ علیم خان، اسلم اقبال، ہاشم جواں بخت اور محسن لغاری تحریک انصاف کے اندر سے متبادل ہو سکتے ہیں لیکن گجرات کے چودھریوں کے حوالے سے ابھی تک ابہام ہے، ظاہر ہے کہ ان کے اس دعوے میں وزن ہے کہ انھوں نے پنجاب کو بہتر طور پر چلا کر دکھا دیا تھا اور اگر انھیں دوبارہ موقع دیا گیا تو وہ اور بھی بہتر طور پر چلا سکتے ہیں۔ مگر اس حوالے مسئلہ یہ ہو گا کہ عمران خان چودھری پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کی مخالفت کریں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اکثریت تو تحریک انصاف کی ہے، ایسے میں اتحادی ق لیگ کو پنجاب میں زمام اقتدار دینے کا مطلب منظور وٹو ٹائپ کا وزیر لانا ہے جس کا مطلب پنجاب سے تحریک انصاف کی چھٹی ہو گا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق دوسری طرف گجرات کے چودھری سمجھتے ہیں کہ ن لیگ کی سیاست کا مقابلہ ان کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ گجرات کے چودھریوں اور عمران خان میں اس حوالے سے شدید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ تحریک انصاف کے اندر سے پنجاب میں چاروں متبادل ناموں کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ کی قابلیت اور اہلیت کے حوالے سے حکمران پارٹی کے خواب مکمل طور پر بکھرتے ہوئے نظر آئے ہیں اور اب لاتعلقی کا معاملہ بہت قریب ہے۔ دوسری طرف علیم خان آج کل بار بار وزیر اعظم سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور تیزی سے اس خلا کو دور کر رہے ہیں جو ان پر نیب مقدمات کے دوران عمران خان اور اُن کے درمیان پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بڑے بزنس مین ہیں، پہلے بھی وزیر رہے ہیں، تجربہ کار ہیں اور تحریک انصاف پنجاب میں ان کا بڑا قد کاٹھ ہے۔
تاہم تجزیہ نگار کے مطابق ان پر نیب مقدمات کا داغ ہے اور دوسری طرف چودھری بھی انھیں آسانی سے قبول نہیں کریں گے کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتبار اور اعتماد نہیں کرتے۔ وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت صاحب فکر و نظر مخدوم رکن الدین کے صاحبزادے اور خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی ہیں۔ باہر کے پڑھے لکھے قابل اور اپنے موضوعات پر دسترس رکھتے ہیں، شوگر سکینڈل نے مخدومز کو نقصان پہنچایا ورنہ ان کا چانس سب سے زیادہ ہوتا۔
علیم خان ایک تو انھیں خاطر میں نہیں لاتے، دوسرا ان کا سیاسی اور جسمانی قد بھی ان سے بڑا ہے۔ علیم خان کو بزدار صاحب کے اسی حسد و عناد نے نیب سے گرفتار کروایا تھا۔ میاں اسلم اقبال بھی بزدار صاحب کی ’گڈ بکس‘ میں نہیں ہیں، لاہور کے مقبول آرائیں کی نقل و حرکت سے وزیر اعلیٰ کو شک ہوتا تھا کہ کہیں اسلم اقبال وزیر اعلیٰ بننے کے لیے لابنگ تو نہیں کر رہے۔ اسلم اقبال لاہور میں ایک بیکری چین کے مالک ہیں۔ ان کے بھائیوں کا شہر میں وسیع حلقہ اثر ہے۔ عمران خان بزدار سے مایوس ہوئے تو بھی بزدار مکمل طور پر بے اثر نہیں ہوں گے، ان سے متبادل کے بارے میں رائے لی جائے گی تو وہ علیم خان اور اسلم اقبال کےخلاف ہی رائے دیں گے۔چوتھے متبادل محسن لغاری ہیں۔ اعداد و شمار کے ماہر، بہترین مقرر، زراعت پر اتھارٹی اور صوبائی وزیر آب پاشی۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اگلا امیدوار شہری پنجاب اور لاہور سے ہو گا، اگر ایسا ہوا تو پھر علیم خان اور اسلم اقبال میں سے ایک کو چُنا جا سکتا ہے، اور اگر بزدار کا متبادل جنوبی پنجاب سے ہی ڈھونڈنا ہوا تو پھر ہاشم جواں بخت اور محسن لغاری میں سے ایک ہو گا۔ ہوسکتا ہے کہ محسن لغاری ’ڈارک ہارس‘ ثابت ہوں، چودھری برادران اس کی مخالفت نہ کریں اور بزدار بھی ان کی حمایت کریں تو محسن لغاری کی لاٹری نکل سکتی ہے۔ لاتعلقی کے اس موسم میں یہ سب تو اندازے ہیں، جب تبدیلی کا موسم قریب آتا ہے تو مینڈکوں کی پنیری میں کئی نئے امیدوار پھدک کر باہر آ جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سید ذوالفقار بخاری المعروف زلفی بخاری نے لاہور کا دورہ کیا، افواہ یہ تھی کہ وہ اپنے کزن یاور بخاری کو متبادل بنانے کے امکانات کا جائزہ لینے آئے تھے۔ تاہم یاور کا سیاسی قد کاٹھ اتنا نہیں ہے کہ ان کو وزیر اعلی کے عہدے پر فائز کیا جائے۔
اب پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے چودھریوں کے ساتھ کیا انڈر سٹینڈنگ ہوتی ہے اگلے امیدوار کے چناؤ کے لیے یہ اہم ترین عنصر ہو گا۔ اعلان لاتعلقی چاہے والد کی طرف سے بیٹے کی ہو، معاشرے کا فرد سے ہو یا فرد کا معاشرے سے، لیڈر کا اپنے وسیم اکرم پلس سے ہو یا سیاسی کارکنوں کا اپنے لیڈر سے ہو یا صحافیوں اور دانشوروں کا اپنے ماضی کے خیالات سے، انتہائی افسوسناک ہوتا ہے۔ لاتعلقی مشکل ترین فیصلہ ہوتا ہے اور یہ تبھی کیا جاتا ہے جب امیدیں دم توڑ جاتی ہیں توقعات ختم ہو جاتی ہیں۔ سیاست کے حوالے سے آج کل ایسا ہی وقت ہے، اُمیدیں ہوا ہو گئی ہیں، نئی امیدیں پیدا ہونے میں ابھی وقت لگے گا، اس وقت تک لا تعلقی کے اعلانات ہوتے رہیں گے۔
