عدالت کی وجہ سے گھریلو صارفین کو گیس دینے سے قاصر ہیں
حکومت نے گھریلو صارفین کو گیس کی عدم دستیابی کی وجہ عدالتی احکامات کو قرار دے دیا ہے، وفاقی وزیر حماد اظہر کے مطابق عدالتی حکم امتناع کے باعث گیس کی طلب پوری نہیں کر پا رہے۔
وفاقی وزیر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی مقدار وہی ہے جو زمین سے نکل رہی ہے جس کا سردیوں میں اس طرح انتظام کیا جاتا ہے کہ کابینہ کے مطابق جو کم ترجیحی شعبے ہیں۔
حماد اظہر نے بتایا کہ رواں برس سندھ ہائیکورٹ نے ایک حکم امتناع دیا ہے جس میں سوئی سدرن گیس کمپنی کو عام صنعتوں اور کیپٹیو پاور پلانٹس کی گیس منقطع کرنے سے روک دیا۔
اوزیر توانائی نے کہا کہ گیس کی کمی پر ہر طرح کی بات چیت ہو رہی ہے کہ ایسا کیوں ہے اور اسے سمجھنا پڑے گا کہ گزشتہ کئی برسوں سے ہر سردیوں میں گیس کی کمی کیوں ہوجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کے گیس کے ذخائر میں سالانہ 9 فیصد کمی آرہی ہے اس طرح گزشتہ 2 برسوں میں 18 فیصد کی کمی ہوگئی ہے، جتنی گیس ہمیں سسٹم سے دو سال پہلے مل رہی تھی وہ آج ہمیں 18 سے 20 فیصد کم گیس دے رہا ہے جبکہ گھریلو اور صنعتی طلب بڑھتی جارہی ہے۔
