ترین کے ترجمان مزمل اسلم پر انسائیڈر ٹریڈنگ کے الزامات

اپنے باسز عمران خان اور شوکت ترین کی طرح پاکستان کو دنیا کا سستا ترین ملک قررا دینے والے ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم پر انسائیڈر ٹریڈنگ کے الزامات کا شکار ہو گئے ہیں جو کہ قانونی طور پر ایک سنگین جرم ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نجی ٹی وی کے پروگرام میں مسلسل چلغوزے کھاتے نظر آئے جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان پر سخت تنقید کی گئی اور یہ کہا گیا کہ پاکستان کو سستا ترین ملک قرار دینے والے مزمک خود 6000 روہے فی کلو بکنے والے مہنگا ترین ڈرائی فروٹ کھانے پر لگے ہوئے ہیں۔ مزمل اسلم وزارت خزانہ کے ترجمان بننے کے بعد سے حکومتی زبان بولتے نظر آتے ہیں اور مسلسل یہ دعوی کرتے ہیں کہ کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہونے کے حوالے سے پوری دنیا اس وقت مشکل میں ہے پر پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس اکتوبر کے اوائل میں مزمل اسلم کو وزیر خزانہ شوکت ترین کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق مزمل اسلم کا اعزازی بنیادوں پر تقرر کیا گیا اور وہ کوئی تنخواہ اور مراعات نہیں لیں گے۔ انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والے مزمل اسلم اکنامکس، ریسرچ، بزنس ڈیولپمینٹ اور فنانشل کیپٹل مارکیٹ کے شعبے میں دس سالہ تجربہ کے حامل ہیں۔ مزمل اسلم نے کراچی سے بیچلرز اور ماسٹرز کے بعد برطانیہ کی باتھ یونیورسٹی سے ایم ایس سی اکنامکس کی ڈگری لی۔ وہ کے اے ایس بی سیکورٹیز لمیٹڈ کے ساتھ ہیڈ آف بزنس ڈویلپمنٹ کے طور پر منسلک رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مزمل اسلم نے جے ایس گلوبل کیپیٹل لمیٹڈ کے ساتھ بھی بطور ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ، سنیئر اکانومسٹ اور ہیڈ آف بزنس ڈیولپمینٹ کام کیا ہے۔ وزارت خزانہ کا ترجمان مقرر کئے جانے سے پہلے وہ انویسٹمنٹ اینڈ فنانس سیکیورٹیز کے ساتھ بطور چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر منسلک تھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹھیکے پر مشیر خزانہ بنائے جانے والے شوکت ترین نے ایسے شخص کو وزارت خزانہ کا ترجمان بنا کر اہم ترین معلومات تک رسائی دے دی ہے جس پر انسائیڈر ٹریڈنگ کے الزامات لگ رہے ہیں۔ لہذا کہا جا رہا ہے کہ موصوف بلاوجہ مفت میں وزارت خزانہ کی ترجمانی نہیں کر رہے۔
ناقدین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ تو مفت میں چائے بھی نہیں پلاتے لہذا مفت میں وزارت خزانہ کی ترجمانی کرنا دور کی بات ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ مزمل اسلم دراصل انسائڈر کے ذریعے مال بنا رہے ہیں اس لئے مفت کے ترجمان بننے پر راضی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی وزارت کا ترجمان ہونا ایک سرکاری نوکری ہے جس کے لئے باقاعدہ اشتہار دیا جاتا ہے اور پھر موزوں امیدوار کا چناو ہوتا ہے لیکن مزمل اسلم کے کیس میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور شوکت ترین نے انہیں براہ راست ترجمان مقرر کردیا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ وزارت خزانہ ایسی وزارت ہے جس میں اگر کسی شخص کو اندر کی معلومات تک رسائی حاصل ہو جائیں تو ان کی بنیاد پر آسانی سے انسائیڈر ٹریڈنگ کی جاسکتی ہے جو کہ عالمی سطح پر مانا گیا جرم ہے۔ اور مزمل اسلم بھی سٹاک مارکیٹ سے وابستہ ہونے کے باعث لمبا ہی مال بنا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 2017 میں سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے ان سائیڈ ٹریڈنگ میں ملوث ہونے پر ایک بینک افسر کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر کیا تھا۔ کراچی میں سیشن کورٹ کی عدالت میں دائر مقدمے میں ایس ای سی پی نے موقف اپنایا تھا کہ سید مصباح الدین رضوی بینک کے سکیورٹی اور کپیٹل مارکیٹ کے محکمہ کا سربراہ تھا، وہ بینک کی جانب سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے اور حصص کا لین دین کرنے کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ لیکن ایس ای سی پی کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے یہ شخض بینک کی جانب سے سرمایہ کاری کے لئے کئے جانے والے فیصلوں سے آگاہ رہتا تھا۔ چنانچہ اپنی آفیشل ذمہ داریوں کی وجہ سے، بینک کے ضوابط کے مطابق مصباح کے لئے سٹاک مارکیٹ میں لین دین کرنا ممنو ع تھا۔ تاہم یہ شخض اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر وسیع پیمانے پر ان سائیڈ ٹریڈنگ میں ملوث پایا گیا۔ ناقدین کے نزدیک اہم سوال یہ ہے کہ شوکر ترین کو ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ ایک اسٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار کو، جسے اسٹاک مارکیٹ کے تما بڑے کھلاڑیوں تک رسائی ہے، یکایک وزارت خزانہ کا ترجمان بنا دیا گیا۔ ناقدین پوچھتے ہیں کیا مزمل اسلم قوم کو بتائیں گے کہ ترجمان بننے سے پہلے کیا وہ اسٹاک مارکیٹ میں خود براہ راست یا بالواسطہ ٹریڈنگ نہیں کرتے تھے؟ یہ بھی بتایا جائے کہ کیا وہ اب بھی اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کرتے ہیں یا نہیں؟ مذید یہ کہ کیا وہ اہنے ترجمان بننے سے پہلے اور بعد کے اثاثوں کی تفصیل بتائیں گے؟ تاہم مزمل اسلم نے اب تک نہ تو خود پر لگنے والے ان الزامات کی تردید کی ہے اور نہ ہی وزارت خزانہ کی جانب سے کوئی موقف سامنے آیا ہے۔
