عمرانڈو وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی وفاق کیخلاف پہلی بغاوت؟

عمرانڈو وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاق کیخلاف پہلی بغاوت کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بغیر خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے وزیر اعظم کی اجازت کے بغیر نہ صرف چیف سیکرٹری ندیم اسلم چودھری کو تبدیل کر دیا ہے بلکہ وزیراعلیٰ نے شہاب علی شاہ کو چیف سیکرٹری تعینات کرنے کا اعلامیہ بھی جاری کردیا ہے۔حالانکہ کسی بھی صوبے کے چیف سیکرٹری یا آئی جی کی تبدیلی اور تبادلے کیلئے وزیر اعظم کی منظوری ناگزیر ہے۔صوبے کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا اقدام کبھی نہیں اٹھایا گیا، تاہم عمرانڈو وزیراعلیٰ علی امین اللّہ گنڈا پور نےنہ صرف خود سے چیف سیکرٹری کو ہٹادیا ہے بلکہ وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر نئے چیف سیکرٹری کو تعنیات بھی کر دیا ہے حالانکہ چیف سیکرٹری تعیناتی کے لیے وزیراعظم کی منظوری لازمی ہے۔
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت سے موجودہ چیف سیکرٹری کو تبدیل کرکے گریڈ 21 کے افسر شہاب علی شاہ کی بطور چیف سیکرٹری تعیناتی کی درخواست کی تھی۔ تاہم ماضی کی روایات کے برعکس علی امین نے تین ناموں کا پینل بھیجنے کے بجائے صرف ایک نام وفاقی حکومت کو بھجوایا تھا، حالانکہ کسی بھی صوبائی حکومت کی جانب سے چیف سیکرٹری یا آئی جی کی تعیناتی کیلئے تین ناموں پر مشتمل پینل وزیراعظم کو بھجوایا جاتا ہے اور تین میں سے کسی ایک افسر کو چیف سیکرٹری تعینات کرنا وزیراعظم کا استحقاق ہے۔ تاہم پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے وفاقی حکومت کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خواہش ظاہر کی ہے کہ موجودہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، گریڈ 21 کے افسر ندیم اسلم چوہدری کی خدمات جلد سے جلد خیبر پختونخواہ سے واپس لے لی جائیں۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ گریڈ 21 کے افسر شہاب علی شاہ جن کی خدمات اس وقت حکومت بلوچستان کے اختیار میں ہیں کو بطور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا صوبے کے بہترین مفاد میں تعینات کردیا جائے۔ تاہم اس خط پر وزیراعظم ہاؤس کے کسی بھی جواب سے پہلے ہی وزیراعلٰی خیبرپختونخوا نے چیف سیکرٹری کی تعیناتی کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے جو وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے مابین پہلے تنازع کی بنیاد بنتا دکھائی دیتا ہے۔
خیال رہے کہ موجودہ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نگراں حکومت کے دور میں تعینات ہوئے تھے جبکہ شہاب علی شاہ پی ٹی آئی حکومت میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سمیت مختلف عہدوں پر تعینات رہے ہیں۔
دوسری جانب جہاں ایک طرف وفاق اور خیبرپختونخوا میں تنازع کی بنیاد پڑی گئی ہے وہیں دوسری طرف خیبرپختونخوا حکومت داخلی اختلافات کا شکار ہوتی بھی دکھائی دیتی ہے۔
وزیراعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی کابینہ میں سینئیر رہنماؤں کو شامل نہ کرنے کے فیصلے پر سینئیر پارٹی ورکرزنے سوال اٹھانے شروع کر دئیے ہیں۔
خیال رہے کہ وزیراعلٰی علی امین گنڈا پور نے 6 مارچ کو کابینہ کے 15 صوبائی وزیروں کا اعلان کیا تھا جن میں چار تجربہ کار سابق صوبائی وزیر اور 11 نئے چہرے شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مشیروں کی فہرست میں سابق وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف کا نام شامل کیا گیا ہے، جبکہ معاون خصوصی میں سابق کابینہ کے دو اراکین کے نام شامل ہیں۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنماؤں میں سابق سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی، سابق صوبائی وزیر اکبر ایوب، انور زیب، محمد عارف، سابق مشیر شفیع اللہ، سابق معاون خصوصی عبدالمنعم اور تاج محمد ترند کو کابینہ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر اور موجودہ رکن صوبائی اسمبلی انور زیب کا کہنا ہے کہ ’باجوڑ میں ہم نے پی ٹی آئی کو کامیاب کیا، دو ایم این ایز اور تین ایم پی ایز پارٹی کو جتوا کر دیے مگر باجوڑ سے ایک رکن بھی کابینہ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’باجوڑ کو ایک وزارت ملنی چاہیے تھی۔ سینئیر رہنماوں کا نام آخر تک کابینہ میں شامل تھا مگر علم نہیں کیسے تبدیل ہوا۔‘
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت سازی پر ’سینئیر رہنما ناراض ضرور ہیں اور پارٹی کے اندر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں مگر وزیراعلیٰ نے سابق حکومت میں ناقص کارکردگی دکھانے والے وزراء کو کابینہ سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور مزید معاون خصوصی مقرر کریں گے جن میں نوجوان ایم پی ایز کو شامل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پی ٹی آئی کے معاشی امور کے ماہر مزمل اسلم کو مشیرخزانہ تعینات کیا جس پر پارٹی کے بعض رہنماؤں نے اعتراض اٹھایا۔سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ ان کا نام عمران خان نے مشیر کے لیے دیا تھا۔ جھگڑا نے گنڈاپور پر پیسے لے کر وزارتیں بانٹنے کا الزام بھی عائد کیا تھا تاہم بعد ازاں اپنے لیڈر عمران خان کی پیروی کرتے ہوئے اپنے دعوؤں سے یوٹرن لے لیا تھا اوف موقف اختیار کیا تھا کہ علی امین گنڈاپور نے جیل میں عمران خان سے ملاقات کر کے کابینہ کے اراکین کے نام فائنل کیے۔ یہ فیصلہ عمران خان کا ہے اورعلی امین گنڈاپور اس وقت کپتان ہیں اس لئے ہم ان کا فیصلہ قبول کرتے ہیں۔

Back to top button