عمران اتنے ہی بے اختیار تھے تو کرسی کو لات کیوں نہ ماری؟


اگر سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے دور اقتدار میں اتنے ہی بے بس اور لاچار تھے جتنا کہ وہ بتا رہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے تب اپنی کرسی کو لات مارتے ہوئے یہ کیوں نہ کہا کہ جہنم میں جائے تمہارا خیراتی اقتدار، اب میں حکومت میں تب ہی لوٹوں گا جب عوام مجھے اپنے کندھے پر بٹھا کے خود وزیراعظم ہاؤس کی چوکھٹ پر اتاریں گے۔ اپنی تازہ تحریر میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ 75 برس سے سنتے سنتے کان جھڑ گئے کہ پاکستان میں اب تک کوئی بھی وزیرِاعظم اپنی آئینی مدتِ اقتدار پوری نہیں کر پایا۔ ہر وزیرِاعظم جب پہلے دن کرسی پر بیٹھتا ہے تو اس سے زیادہ اہل، جانفشاں، زیرک، ذہین اور ملک کو بیک بینی و دو گوش مسائل کی دلدل سے نکالنے کی صلاحیت رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

اور جب اسے کسی بھی آئینی یا بالائے آئین حربے سے چلتا کیا جاتا ہے تو اس سے زیادہ نااہل، کرپٹ اور معیشت و نظام کی لٹیا ڈبونے والا کوئی اور نہیں ہوتا۔ ریاست کا وہی پبلسٹی اور مارکیٹنگ ونگ جو ہر نئے وزیراعظم کو ارسطوِ سے بھی سوا درجے اوپر کا ثابت کرتا ہے۔ تین سے چار برس بعد اسی ارسطوِ کی قانونی و غیر قانونی معزولی کے سمے اسے شیطان کا خالو قرار دینے میں لمحے بھر کی دیر نہیں لگاتا۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی سائنس بھی اس سوال کے جواب میں بغلیں جھانک رہی ہے کہ ’آئن سٹائن کے لیول کا دماغ‘ صرف تین سے چار برس وزیرِ اعظم کی کرسی پر بیٹھے بیٹھے کیسے ماؤف قرار پا جاتا ہے؟ اس کا بظاہر مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ یا تو اسے کرسی پر بٹھاتے ہوئے جھوٹ بولا گیا یا پھر ہٹاتے ہوئے سچ نہیں بتایا گیا۔ لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ دونوں بار سچ ہی بولا گیا تو ایسا کیوں ہے کہ جسے پہلی بار کرپٹ، نااہل اور کامن سینس سے عاری قرار دے کر معزول کیا گیا اسے چند برس کے وقفے کے بعد دوبارہ اسی کرسی پر بٹھا دیا گیا اور پھر نااہل و سازشی وغیرہ وغیرہ قرار دے کر ہٹا دیا گیا اور پھر ایمان دار فرض کر کے تیسری بار اقتدار تھما دیا گیا اور پھر چھین لیا گیا اور پھر بلاواسطہ انداز میں سونپ دیا گیا۔ پہلے نااہل سے اہل پھر نااہل اہل۔۔ یہ تو گنیز بُک میں درج ورلڈ ریکارڈز سے بھی اوپر کا معجزہ ہو گیا۔اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ اقتدار دینے اور لینے والا کوئی اور ہے اور الیکشن کی مشق اور عوامی طاقت کا احترام تیسرے درجے کے ڈرامے میں ڈالے گئے بے جان مناظر کے سوا عملاً کچھ نہیں۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ہم یہ مرثیہ اکثر سنتے ہیں کہ مجھے کرسی پر بٹھایا تو گیا تھا مگر میرے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔ چنانچہ جب میں نے انھیں ڈھیلا کرنے کی کوشش کی تو مجھے ڈنڈا ڈولی کر کے گھر بھیج دیا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ عمران خان جیسے وزرائے اعظم کو یہ بات تب ہی کیوں پتا چلتی ہے جب انہیں اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔

ہر وزیراعظم ناطاقتی و بے اختیاری کا اتیاچار مسلسل سہنے کے باوجود آخری گھنٹے تک آخر کس امید پر اپنی لولی کرسی کے ہتھے پکڑے رہتا ہے؟ اسے کیوں یقین ہوتا ہے کہ جو پچھلوں کے ساتھ ہوا وہ میرے ساتھ نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ کرسی سمیت محل کے باہر فٹ پاتھ پر نہ پھینک دیا جائے۔ یا تو وہ اس ادھاری عرصے میں اپنی تصوراتی بااختیار جنت میں مست رہتا ہے۔ عین ممکن ہے دماغ مسلسل کچکوکے لگاتا رہتا ہو کہ عہدے کا چپکا ہوا ٹیگ بھی اتار پھینک مگر دل کمینہ احتجاجاً استعفیٰ دے کر باہر نکلنے سے روکے رکھتا ہے۔ یا پھر اس کرسی گیر کو لگتا ہو گا کہ اگر جراتِ رندانہ سے کام لینے کا خطرہ مول لے لیا تو آگے کا ایک فیصد چانس بھی کہیں مارا نہ جائے۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اسی لیے ہم نے آج تک سابق وزرائے اعظم کا رونا دھونا تو خوب سنا مگر پچھلی ساڑھے سات دہائیوں میں ایک بھی مثال ایسی نہیں کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی لاچار کرسی کو لات مارتے ہوئے نعرہِ مستانہ بلند کیا ہو کہ جہنم میں جائے تمہاری خیراتی سرپرستی۔ میں اب تب ہی لوٹوں گا جب عوام اپنے کندھے پر بٹھا کے خود اس محل کی چوکھٹ پر اتاریں گے۔ اب تو مجھے اکثر لگنے لگا ہے کہ کسی بھی سیاستدان کو عوام اور جمہوری طاقت پر اتنا بھی یقین نہیں رہا جتنا عہدِ حاضر کے مولوی کو خدا پر ہے۔ عوامی طاقت آج محض تاش کا وہ پتہ بن چکی ہے جسے دکھا کر اپنی حیثیت جتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ کسی کو بھی اب کسی کا دیوانہ بننے یا زیادہ سنجیدہ لینے یا منہ سے جھاگ نکالنے یا ایک ٹانگ پر ناچنے کی ضرورت نہیں۔ یہ سیاست نہیں بلکہ سرکس ہے لہذا مفت کا سرکس دیکھیے اور لطف لیجیے۔

Back to top button