عمران جیل میں ٹوٹ چکے, رہائی کیلئے NRO لینے والے ہیں؟

عمران خان کو اگرچہ جیل میں تمام ’’سہولیات‘‘ فراہم کی گئی ہیں لیکن اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، وہ سرکاری افسران کو کھلم کھلا سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں یہی وہ مرحلہ ہے جس کا طاقت ور حلقوں کو انتظار تھا اب شاید عمران خان کیلئے زیادہ دیر جیل کاٹنا مشکل ہو جائے اور این آر او مانگ لیں.ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی نواز رضا نے اپنی ایک تحریر میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ 2023عمران خان کے لئے بھاری ثابت ہوا وہ شخص جس نے اپنی 28سالہ سیاسی زندگی میں جیل کا دروازہ تک نہیں دیکھا تھا آج جیل میں ہے۔ انکے 2024ء میں بھی باہر آنے کے امکانات نظر نہیں آتے لہٰذا آنے والے دنوں کے بارے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی زندگی کا مشکل ترین وقت گزا رے گی۔2023ء کا پورا سال شدید ترین محاذ آرائی کی سیاست کی نذر ہو گیا بلکہ محاذ آرائی نے دشمنی کی شکل اختیار کر لی۔ 9مئی 2023ء کے سانحے نے ہمارے سیاسی اسٹرکچر کو نقصان پہنچایا ہے 2018میں جو شخص اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کا ’’لاڈلا‘‘ تھا ،وہ اپنے غیر سیاسی طرز عمل کے باعث جیل کی ہوا کھا رہا ہے۔ 9مئی2023 کے سانحہ نے بڑے بڑے جغادری لیڈروں کو عمران خان سے دور کر دیا،بظاہر پی ٹی آئی کا شیرازہ قائم ہے لیکن عملاً پارٹی ٹوٹ چکی ہے، عام انتخابا ت میں بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے باوجود امیدواروں کی کمی نہیں، پی ٹی آئی کے امیدوار انتخابی مہم میں حصہ لینے کی بجائے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ نواز رضا کا کہنا ھے کہ 2024عام انتخابات کا سال ہےکاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد منظوری اور مسترد کئے جانے کا مرحلہ مکمل ہونے کو ہے پی ٹی آئی کے 2620 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جن میں چند بڑے لیڈروں سمیت 1996امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے، اس لحاظ سے پی ٹی آئی بڑی تعداد میں کاغذات نامزدگی منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے، کچھ بڑے لیڈروں کے مسترد کئے گئے کاغذات نامزدگی اپیل میں منظور ہو گئے ہیں لیکن عمران خان اور شاہ محمود قریشی اور کچھ دیگر لیڈروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے پر شور شرابہ جاری ہے اور طے شدہ حکمت عملی کے تحت عام انتخابات کی شفافیت کو مشکوک بنایا جا رہا ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی جماعت یا جماعتوں پر مشتمل حکومت کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہو گا پی ٹی آئی کو اس بات کی خوش فہمی ہے کہ الیکشن ڈے پر اس کا ووٹر نکلے گا اور حیران کن نتائج دے گا۔ اس میں شک و شبہ نہیں کہ ملک میں ایک بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے ووٹرز موجود ہیں سیاسی حلقوں میں سوال زیر بحث ہے کہ کیا سوشل میڈیا پر عمران کی جنگ لڑنے والا گرم لحاف اوڑھے ووٹر مبینہ دھاندلی کیخلاف کسی ملک گیر تحریک کا حصہ بننے کا عزم و حوصلہ رکھتا ہے؟
نواز رضا کہتے ہیں کہ اگرچہ پوری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے لیکن پاکستان میں مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے شہباز شریف حکومت کی سب سے بڑی ناکامی مہنگائی پر کنٹرول کرنے میں ناکامی تھی مہنگائی نے ایک جماعت کے سوا تمام سیاسی جماعتوں کے لئے الیکشن مشکل بنا دیا ہے مہنگائی کی بنیاد رکھنے والا لیڈر ’’ہیرو‘‘ بن بیٹھا ہے شہباز شریف کی ’’اسپیڈ‘‘ کام نہ آئی 2023ء مسلم لیگ (ن) بالخصوص اور حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے لئے بالعموم مسائل و مشکلات کا سال ثابت ہوا2024میں بھی پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں رہے گا آئی ایم ایف کے قرضے اتارنےکیلئے مزید قرضے لینا پڑیں گے جب تک پاکستان کی درآمدات اور بر آمدات میں توازن پیدا نہیں ہوتا پاکستان کی معیشت مستحکم نہیں ہو گی ۔ عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو بڑے درپیش چیلنج مہنگائی پر کنٹرول کرنا، معیشت کو مستحکم بنیادوں پر معیشت استوار کرنا اور دہشت گردی کے ھوں گے ۔ 2024کو مفاہمت اور رواداری کے سال طور پر منانا چاہیے چونکہ عمران خان کے لئے موجودہ سیٹ اپ میں گنجائش کم ہو گئی ہے لہٰذا انہیں مین اسٹریم میں رہنے کے لئے برداشت کی پالیسی اپنانا ہو گی یہ اسی صورت میں ممکن ہےکہ عمران خان بھی 8فروری 2024کو الیکشن کے بعد بننے والی حکومت کو اسی طرح قبول کر لیں جس طرح جولائی2018 کے انتخابات میں بڑے پیمانے ہونے والی دھاندلیوں کے خلاف تحریک چلانے سے گریز کیا گیا تھا۔ جمہوریت کو طاقت ور حلقوں کی گرفت سے نکالنے اور جمہوری نظام کے استحکام کے لئے مل جل کر کام کرنا ہو گا ۔
