عمران خان ریاست مدینہ کا نام بیچنا بند کریں

جاوید چوہدری نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار وزیراعظم عمران خان سے سوال کیا ہے کہ کیا آپ خود اور آپ کے ساتھی ریاست مدینہ کے معیار پر پورا اترتے ہیں؟ کیا آپ کی کابینہ کے دس بڑے وزراء ریاست مدینہ کی شہریت کے قابل ہیں؟ کیا آپ اپنی اور ان کی صداقت اور امانت کی قسم کھا سکتے ہیں؟ کیا ان کے دامن اتنے پوتر ہیں کہ انھیں نچوڑ کر فرشتے وضو کر سکیں؟ اگر اس کا جواب نہ میں ہے اور اگر آپ خود بھی ریاست مدینہ کے اسٹینڈرڈ پر پورے نہیں اترتے تو کیا پھر آپ سے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھوائی جا سکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر آپ کس کو دھوکا دے رہے ہیں؟
اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری عمران خان کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ کا نام لے کر آپ دراصل عوام کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ لہذا میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا اسلام میں سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کو رسول اللہﷺ کے نام پر عام لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ میری آپ سے درخواست ہے کہ ہم سب کی عزت، جان اور مال ہمارے آقا نبی اکرمؐ پر قربان، آپ پلیز ان کا نام لے کر لوگوں کودھوکا نہ دیں، اللہ کے عذاب سے ڈریں، کیونکہ ہم پہلے ہی اپنی اوقات سے زیادہ عذاب بھگت رہے ہیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ سیالکوٹ میں 3 دسمبر کو سری لنکن پروڈکشن مینیجر پریانتھا کمارا ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوا اور ہجوم نے اس کے بعد اس کی لاش کی بے حرمتی کی‘ لاش کو ڈنڈے‘ اینٹیں اور ٹھڈے بھی مارے گئے اور پٹرول چھڑک کر آگ بھی لگا دی گئی۔ آج اس واقعے کو کئی روز گزر چکے لیکن یہ افسوس بن کر آج بھی ہر پاکستانی کی روح میں سلگ رہا ہے۔ ہم سب اندر سے گھائل ہو چکے ہیں۔ ہماری پولیس نے اس واقعے کے بعد کمال کر دیا، 124لوگ گرفتار ہوئے، ان میں 34 بڑے مجرم ہیں، آٹھ مجرموں نے اپنی غلطی بھی مان لی اور یہ مرکزی مجرم بھی ڈکلیئر ہو چکے ہیں۔ مقدمہ عنقریب چلے گا اور سات آٹھ مجرموں کو بہت جلد سزائے موت بھی ہو جائے گی۔ حکومت اس معاملے میں بہت کلیئر ہے اور چاہتی ہے کہ کیس جلد سے جلد وائینڈ اپ ہو جائے تاکہ دنیا میں ثابت کیا جا سکے کہ پاکستان مکمل آزاد اور قانون پسند ملک ہے۔ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک بانانا اسٹیٹ نہیں ہے۔ یہ پیش رفت قابل تحسین ہے۔ ہم جتنا جلد بنانا اسٹیٹ کے ٹیگ سے نکل جائیں گے ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔
لیکن جاوید کہتے ہیں کہ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور میں ریاست سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں: آپ دل پر ہاتھ رکھ کرجواب دیں، کیا پریانتھا کمارا کو قتل کرنے والے لوگ عام فیکٹری مزدور تھے؟ کیا وہ کسی مذہبی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ سری لنکن فیکٹری مینجر کو قتل کرنے والے اب اپنے کیے کی سزا بھی پائیں گے اور انھیں یہ سزا ملنی بھی چاہیے لیکن سوال یہ ہے ’کہ مجرم اگر عام غریب مزدور نہ ہوتے اور ان کا تعلق کسی مذہبی سیاسی جماعت کے ساتھ ہوتا تو کیا ریاست کا ردعمل اس وقت بھی یہی ہوتا؟ کیا یہ انھیں بھی اسی طرح گرفتار کرتی؟ کیا ان کے خلاف بھی اسی طرح مقدمے بنتے اور کیا انھیں بھی اسی طرح گرفتار کر کے جلد سے جلد کیفرکردار تک پہنچایا جاتا یا پھر ان کی گرفتاری کے بعد جی ٹی روڈ پر دھرنا ہوتا؟
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ پولیس کے سات آٹھ لوگوں کو بھی سری لنکن پریانتھا کمارا کی طرح قتل کر کے کھیتوں میں پھینک دیا جاتا اور ریاست نہ صرف ان کے ساتھ خفیہ معاہدہ کر لیتی بلکہ انھیں فورتھ شیڈول سے نکال کر انھیں سیاسی جماعت بھی مان لیا جاتااور ریاست اپنے تمام الزامات بھی واپس لے لیتی؟‘‘ آپ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے اور آپ اگر جواب دے ہی رہے ہیں تو میں یہ بھی پوچھ لیتا ہوں، یہ 124 لوگ آج حوالات میں ہیں تو کیا اس کی وجہ یہ نہیں کسی سیاسی اور مذہبی جماعت نے ابھی تک انھیں اون نہیں کیا۔ یہ اگر انھیں ’’عاشق رسولؐ‘‘ مان لیتی تو کیا پھر بھی ان کے ساتھ یہی سلوک ہوتا؟ کیا پھر بھی ریاست میں انھیں گرفتار کرنے کی ہمت ہوتی؟ آپ یقین کریں یہ سوال پاکستان کا مستقبل ہیں۔ ہم نے جس دن ان سوالوں کا جواب تلاش کر لیا، یہ ملک اس دن اپنے قدموں پر کھڑاہو جائے گا۔
جاوید چوہدری کے بقول ملک کی اصل حالت یہ ہے کہ فیصل آباد کے الائیڈ اسپتال کی دو کرسچین نرسز پر9 اپریل 2021 کو توہین کا الزام لگا۔ ہجوم نے انھیں گھیر لیا، اسپتال کی انتظامیہ نے بڑی مشکل سے ان کی جان بچا کر پولیس کے حوالے کیا، یہ اب جیل میں الگ تھلگ کمرے میں بند ہیں اور 8 ماہ میں کوئی جج ان کا کیس سننے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ انھیں وکیل تک نہیں مل رہا اور پولیس کا کوئی اہلکار ان کا چالان بھی تیار کرنے کے لیے راضی نہیں لہٰذا آپ پھرخود سوچیے خوف کے اس عالم میں یہ ریاست کیسے چلے گی؟ جاوئد کہتے ہیں کہ میں اس سوال کے ساتھ ساتھ مدت سے چند اور سوال بھی پوچھنا چاہتا ہوں، میرے یہ سوال علماء کرام سے ہیں اور میں یہ صرف اور صرف اپنے نالج کے لیے پوچھنا چاہتا ہوں۔ ہم اگر رسول اللہﷺ جیسی ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں تو کیا یہ ہم جیسے گناہ گار بنا سکتے ہیں؟ رسول اللہﷺ فخر کائنات ہیں‘ ان جیسی ریاست قائم کرنا تو دور ہمیں تو یہ سوچنے سے پہلے بھی اپنی سوچ کو ہزاروں مرتبہ عرق گلاب سے غسل دینا چاہیے، پھر بھی شاید ہی ہماری سوچ کا وضو مکمل ہو سکے گا لہٰذا میری علماء کرام سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر ریاست مدینہ کی تشریح کر دیں اور وزیراعظم صاحب کو بھی بتا دیں تاکہ یہ جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھیں تو یہ اپنی ذات میں کلیئر ہوں، کیوں؟ کیوں کہ مجھے خطرہ ہے یہ ریاست بنانے کے بعد کہیں یہ نہ سوچ رہے ہوں ہم نے اس ریاست پر تختی کس کی لگانی ہے؟
