کیا شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے محروم ہو گئے؟

اگلی وزارت عظمیٰ کے لئے مسلم لیگ نون کے امیدوار کی بحث چھڑ جانے کے بعد اب لیگی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر کسی انہونی کی وجہ سے انکی جماعت کے متفقہ امیدوار شہباز شریف میدان سے باہر ہو گئے تو ایسی صورت میں پارٹی کے امیدوار شاہد خاقان عباسی ہوں گے۔
سینئر صحافی انصار عباسی نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نون لیگی قیادت کو بالواسطہ ملنے والے پیغامات میں بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف وزارت عظمی کے لیے قابل قبول نہیں رہے۔ یاد رہے کہ اس وقت مریم نواز وزارت عظمیٰ کے عہدے کی دوڑ میں شالل نہیں ہیں چونکہ وہ نہ تو ممبر قومی اسمبلی ہیں اور نہ ہی الیکشن لڑ سکتی ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق شریف خاندان نے فیصلہ کیا تھا کہ اگلے عام الیکشن میں کامیابی کی صورت میں اگر فیملی سے کسی شخص کو وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد کرنا ہے تو وہ صرف شہباز شریف ہوں گے۔ شریف فیملی کے باہر سے اگر کوئی اولین چوائس ہے تو وہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اب مقتدر حلقوں کیلئے قابل قبول ہیں حالانکہ ماضی قریب میں انہیں مریم نواز کے مزاحمتی کیمپ کا حصہ تصور کیا جاتا تھا۔
نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی شہباز شریف کی نامزدگی بارے سوچ بڑی واضح ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ مریم ابھی اسمبلی سے باہر ہیں اور انکے پاس وقت بھی ہے لہذا وہ وزیراعظم بننے کے لیے انتظار کرسکتی ہیں۔ تاہم اب وزارت عظمی کے لئے شاہد خاقان عباسی کا نام سامنے آنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بالواسطہ پیغامات کے ذریعے نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ شہباز شریف قابلِ قبول نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعلی پنجاب کے خلاف چلنے والے کیسز میں تیزی آ گئی ہے اور اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ شاید انہیں تیسری مرتبہ بھی گرفتار کر لیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ مفاہمت کی سیاست کے باوجود شہباز شریف کو منفی فہرست میں کیوں رکھا گیا ہے، ممکن ہے کہ یہ سوچ آئندہ دنوں میں تبدیل ہو جائے۔
اس صورت حال میں نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو بطور وزیراعظم قبول نہ کرنا بڑی بدقسمتی ہو گی کیونکہ وہ نہ صرف مقتدر حلقوں کو قابل قبول ہیں بلکہ نواز شریف بھی انہیں ہی اس عہدے کیلئے موزوں سمجھتے ہیں۔
نون لیگی ذرائع کے مطابق انہیں شہبازشریف کے ناقابل قبول ہونے کا پیغام بالواسطہ طور پر ملا ہے لیکن وجہ نہیں بتائی گئی۔ لہذا اب متبادل کے نام پر شاہد خاقان عباسی کا نام دیا گیا ہے جو ماضی میں ایک حاضر سروس عسکری شخصیت کے ریٹائیرڈ عسکری سسر سے رابطے میں رہے ہیں۔ 2023 سے قبل عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے حکومت تبدیل کرنے کی تجویز بارے ذرائع کا کہنا تھا کہ نئے الیکشن سے پہلے نہ تو نون لیگ موجودہ ایوان کے ذریعے اپنی حکومت تشکیل دے گی اور نہ ہی کسی ’’وسیع تر انتظام‘‘ کا حصہ بنے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ نون لیگ نے 2023ء کے عام انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ حاصل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی نے بیان دیا تھا کہ شہباز شریف 2023ء کے عام انتخابات میں نون لیگ کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے متفقہ امیدوار ہوں گے اور مریم نواز ابھی دوڑ میں نہیں ہیں۔ تمام دوسری جانب نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر نے یہ بیان دے دیا کہ ان کے علم میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہے اور یہ کہ مریم نواز بھی وزارت عظمی کی امیدوار ہیں لیکن حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔ مریم کی نا اہلی بارے زبیر کا کہنا تھا کہ انہیں عدالتوں سے کلین چٹ مل سکتی ہے اور وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے سرفہرست امیدوار ہو سکتی ہیں۔ زبیر کا کہنا تھا کہ مریم نواز پرجوش اور عوام کیلئے ایک پرکشش رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم میں ن لیگ کی طرف سے باآسانی الیکشن جیتنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن ان کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔
