KPKحکومت میں اربوں روپے کے گھپلے، عالمی اداروں نے فنڈنگ روک دی

خیبر پختونخوا میں جاری بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے سامنے آنے والی آڈٹ رپورٹس اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے صوبائی حکومت کو ایک نئی آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔ مختلف رپورٹس میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں، مشکوک ادائیگیوں اور مالی شفافیت سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں، جس کے بعد عالمی مالیاتی اداروں نے جواب طلبی کا عمل مزید سخت کرتے ہوئے حساب کتاب دینے تک مزید فنڈز جاری کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
ناقدین کے مطابق تحریک انصاف نے اپنے سیاسی سفر کے دوران کرپشن کے خلاف جدوجہد کو بنیادی نعرہ بنایا تھا اور خیبر پختونخوا کو شفاف طرز حکمرانی کا ماڈل قرار دیا جاتا رہا۔ تاہم حالیہ آڈٹ رپورٹس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور مالی نظم و نسق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ توجہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے چلنے والے "کے پی سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ” پر مرکوز ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پشاور، ایبٹ آباد، کوہاٹ، مردان اور مینگورہ سمیت بڑے شہروں میں شہری سہولیات، انفراسٹرکچر اور بلدیاتی خدمات کو بہتر بنانا تھا۔ تاہم آڈٹ رپورٹس میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی مشکوک ادائیگیوں، خریداری کے عمل میں خلاف ورزیوں، انجینئرنگ قواعد کی عدم پابندی اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔
صوبائی اسمبلی کے بعض اراکین نے بھی اس منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو باضابطہ شکایات پیش کی تھیں۔ بعد ازاں سیکورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس، ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں اور مالی ریکارڈ میں تضادات سے متعلق مزید سوالات سامنے آئے۔اسی طرح ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری تعلیمی منصوبوں میں بھی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے۔ بعض رپورٹس کے مطابق منصوبے کے اکاؤنٹس سے جعلی چیکس کے ذریعے کروڑوں روپے نکالے جانے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی اداروں اور فارنزک آڈٹ کی سفارش کی گئی۔تعلیم اور انفراسٹرکچر کے علاوہ غذائی تحفظ سے متعلق منصوبوں میں بھی خریداری کے طریقہ کار اور مالی نظم و نسق پر اعتراضات سامنے آئے۔ ان معاملات نے عالمی مالیاتی اداروں کو مزید محتاط بنا دیا ہے، کیونکہ وہ اپنے فنڈز کے شفاف استعمال کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اصل تشویش صرف مبینہ مالی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے ممکنہ اثرات بھی انتہائی اہم ہیں۔ اگر عالمی مالیاتی ادارے یہ محسوس کریں کہ ان کے فراہم کردہ وسائل شفاف طریقے سے استعمال نہیں ہو رہے تو مستقبل کے ترقیاتی منصوبے، قرضے اور مالی معاونت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر صوبے کے انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور بلدیاتی ترقی کے منصوبوں پر پڑ سکتا ہے۔آڈٹ رپورٹس میں زکوٰۃ فنڈز کے استعمال سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بعض مالی ریکارڈز کے جائزے کے دوران مستحقین کے لیے مختص رقوم کے استعمال پر اعتراضات سامنے آئے، جن کی مزید جانچ کی سفارش کی گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس صورتحال نے خیبر پختونخوا حکومت کے لیے دوہرا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب عوام کو یہ یقین دلانا بھی لازم ہے کہ ترقیاتی فنڈز شفاف انداز میں استعمال ہو رہے ہیں۔ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت بین الاقوامی ادارے اب مالی شفافیت، فارنزک آڈٹ اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کے واضح ثبوت چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ تمام اعتراضات کا تسلی بخش جواب دے اور احتساب کے عمل کو مؤثر بنائے۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ اس پورے معاملے کا حتمی فیصلہ تحقیقات، آڈٹ رپورٹس اور قانونی کارروائیوں کے نتائج پر منحصر ہوگا۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد کا برقرار رہنا صوبے کی معاشی ترقی اور مستقبل کے منصوبوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کو شفافیت، جوابدہی اور مالی نظم و ضبط کے حوالے سے غیر معمولی امتحان کا سامنا ہے۔
