سستی بجلی، رعایتی آٹے اور خصوصی مراعات کے باوجود آزاد کشمیر سراپا احتجاج کیوں؟

پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی، عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور اس پر عائد پابندی کے بعد ایک اہم سوال قومی بحث کا موضوع بن گیا ہے: کیا آزاد کشمیر کے عوام واقعی بنیادی حقوق سے محروم ہیں یا پھر موجودہ احتجاج سیاسی مطالبات کے گرد گھوم رہا ہے؟ اس بحث کے دوران ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ آزاد کشمیر کے باسیوں کو پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں متعدد خصوصی مراعات حاصل ہیں۔ بجلی اور آٹے پر دی جانے والی سبسڈیز اس کی نمایاں مثال ہیں۔

خیال رہے کہ آزاد جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جسے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت حاصل ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران پاکستان نے نہ صرف کشمیر کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کیا بلکہ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی، بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے لیے بھی اربوں روپے فراہم کیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بہت سے مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب آزاد کشمیر کے عوام کو پاکستان کے دیگر شہریوں کے مقابلے میں زیادہ مراعات حاصل ہیں تو پھر احتجاج اور حقوق کی تحریکوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟اس بحث کو اس وقت مزید تقویت ملی جب مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام نسبتاً زیادہ سکون، آزادی اور بہتر ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک ایسی سیاست دان کا یہ اعتراف، جو بھارتی آئین کے تحت سیاست کرتی رہی ہیں، اپنی جگہ ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو آزاد کشمیر کے عوام کو بجلی کے شعبے میں غیر معمولی رعایت حاصل ہے۔ ایک سے سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین صرف تین روپے فی یونٹ ادا کرتے ہیں، جبکہ ایک سو سے تین سو یونٹ تک نرخ پانچ روپے اور اس سے زائد استعمال پر صرف چھ روپے فی یونٹ مقرر ہیں۔ پاکستان کے دیگر صوبوں میں یہی بجلی کئی گنا زیادہ نرخوں پر دستیاب ہے، جہاں صارفین کو ٹیکسوں اور سرچارجز سمیت پچیس سے پچاس روپے یا اس سے بھی زیادہ فی یونٹ ادا کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح کاروباری سرگرمیوں کے لیے بجلی کے نرخ بھی آزاد کشمیر میں انتہائی کم ہیں۔ دکانوں اور کاروباری مراکز کے لیے بجلی دس سے پندرہ روپے فی یونٹ تک دستیاب ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں یہی نرخ چالیس سے ساٹھ روپے فی یونٹ تک پہنچ جاتے ہیں۔

آٹے کی سبسڈی بھی آزاد کشمیر کے عوام کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔ چالیس کلوگرام آٹے کا تھیلا تقریباً دو ہزار روپے میں فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں یہی تھیلا ساڑھے تین ہزار سے ساڑھے چار ہزار روپے یا اس سے زائد قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ اس فرق کو برقرار رکھنے کے لیے وفاقی حکومت اربوں روپے کی سبسڈی فراہم کرتی ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔صرف یہی نہیں، آزاد کشمیر کا اپنا ٹیکس نظام بھی موجود ہے۔ مقامی سطح پر جمع ہونے والے کئی محصولات خطے کے اندر ہی استعمال ہوتے ہیں جبکہ بڑے ترقیاتی منصوبوں، شاہراہوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کے لیے مالی وسائل وفاقی حکومت فراہم کرتی ہے۔ یوں ایک طرف مقامی آمدنی خطے کے اندر رہتی ہے اور دوسری جانب بڑے ترقیاتی اخراجات بھی وفاق برداشت کرتا ہے۔

آزاد کشمیر کے عوام کو تعلیم اور روزگار کے میدان میں بھی خصوصی مواقع حاصل ہیں۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجوں، انجینئرنگ اداروں اور وفاقی ملازمتوں میں ان کے لیے مخصوص کوٹہ موجود ہے۔ اس کے ساتھ وہ اوپن میرٹ پر بھی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ فوج، سول سروسز اور دیگر قومی اداروں میں بھی کشمیری نوجوانوں کو بھرپور مواقع میسر ہیں۔ تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ چونکہ منگلا ڈیم اور دیگر آبی منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی میں آزاد کشمیر کا بڑا کردار ہے، اس لیے مقامی آبادی کو خصوصی رعایتیں ملنا ان کا حق ہے۔ تاہم ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہی اصول اپنایا جائے تو سندھ، جو ملک کی گیس پیداوار کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے، اور خیبر پختونخوا، جو پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، انہیں بھی اسی نوعیت کی اضافی مراعات ملنی چاہئیں۔

ناقدین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ موجودہ تنازع صرف معاشی سہولتوں تک محدود نہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی مطالبات سیاسی اور آئینی نوعیت کے ہیں، جن میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بحث اب سبسڈی اور مراعات سے آگے بڑھ کر سیاسی نمائندگی، اختیارات اور آئینی ڈھانچے تک پہنچ چکی ہے۔تاہم ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ جب پاکستان شدید معاشی مشکلات کے باوجود آزاد کشمیر کو خصوصی مالی معاونت، رعایتی بجلی، سستا آٹا، ترقیاتی فنڈز، تعلیمی مواقع اور روزگار کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے تو کیا احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مکالمے اور سیاسی عمل کو ترجیح نہیں دینی چاہیے؟ مبصرین کے بقول آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ حقوق اور مراعات دونوں اپنی جگہ اہم ہیں۔ ریاستی استحکام، قومی یکجہتی اور عوامی فلاح کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کا حل تصادم کے بجائے مذاکرات، آئینی طریقہ کار اور سیاسی بصیرت کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ یہی راستہ خطے میں پائیدار امن، ترقی اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

Back to top button