عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں بچ جائیں گے یا گھر جائیں گے؟

وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے خلاف پچھلے چھ برسوں سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ساکھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے اس الزام کو تقویت مل رہی ہے کہ پچھلے چیف الیکشن کمشنر کی طرح راجہ سکندر سلطان بھی نادیدہ قوتوں کے دباؤ میں ہیں۔ یاد رہے کہ یہ کیس پچھلے چیف الیکشن کمشنر کے دور میں دائر کیا گیا تھا لیکن لیکن درجنوں سماعتوں کے باوجود ان کے چار سالہ دور میں اس کا فیصلہ نہ کیا جا سکا۔ راجہ سکندر سلطان کو بھی چیف الیکشن کمشنر تعینات ہوئے ایک برس ہونے کو ہے لیکن ان کے دور میں بھی درجنوں سماعتوں کے باوجود یہ تاثر ملتا ہے کہ اس کیس کو بلاوجہ لٹکایا جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم اتحاد میں شامل اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ‘کسی کو NRO نہیں دوں گا’ کی گردان کرنے والے عمران خان کو پچھلے چھ برس سے فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن نے این آر او دے رکھا ہے جو کہ انصاف کے دوہرے معیار اور الیکشن کمیشن پر موجود دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ اپوزیشن کے لئے اس کیس کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ قانونی ماہرین کے خیال میں اگر تحریک انصاف پر غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک سے فنڈنگ لینے کا الزام ثابت ہو جائے تو نہ صرف کہ حکمران جماعت پر پابندی لگ جائے گی بلکہ وزیراعظم عمران خان بھی فارغ ہو جائیں گے۔ اس حقیقت سے وزیراعظم بھی واقف ہیں اور اسی لیے وہ اس کیس کا فیصلہ نہیں ہونے دے رہے۔
یاد رہے کہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن اکبر ایس بابر نے پارٹی کی اندرونی مالی بے ظابطگیوں کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی جس میں انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ پارٹی کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈز موصول ہوئے اور مبینہ طور پر دو آف شور کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں ملین ڈالرز ہنڈی کے ذریعے پارٹی کے بینک اکاونٹس میں منتقل کیے گئے۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے بیرون ملک سے فنڈز اکٹھا کرنے والے بینک اکاونٹس کو بھی الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھا۔ 14 نومبر 2014 کو اکبر ایس بابر نے پارٹی فنڈز میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی و بیرونی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست الیکشن کمیشن میں جمع کروائی تو جواب میں تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی چھان بین کرنے کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا۔ الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر 2015 کو تحریک انصاف کے فنڈز کی چھان بین کے بارے میں اعتراض مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ الیکشن کمیشن پارٹی فنڈز چھان بین کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔
26 نومبر 2015 کو تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کرتے ہوئے اکبر ایس بابر کے مدعی بننے کو بھی چیلنج کر دیا۔ ہائی کورٹ میں یہ معاملہ تقریباً ڈیڑھ سال زیر سماعت رہا اور 17 فروری 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کے خلاف درخواست مسترد کردی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے ڈائریکٹر جنرل لا ونگ اور الیکشن کمیشن کے آڈیٹر جنرل کے افسران پر مشمل ایک کمیٹی قائم کی۔ اب پچھلے کئی مہینوں سے یہ معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان تشکیل کردہ سکروٹنی کمیٹی کے پاس زیر سماعت تھا۔ تاہم جنوری کے پہلے ہفتے میں پہلی مرتبہ تحریک انصاف کے وکیل شاہ خاور نے باقاعدہ طور پر سکروٹنی کمیٹی کے سامنے بالواسطہ طور پر یہ الزام تسلیم کیا کہ ان کی جماعت کو غیر قانونی ذرائع سے فنڈنگ ہوئی تھی۔ تاہم انہوں نے موقف اختیار کیا کہ یہ فنڈز وصول کرنے کی ذمہ داری پارٹی پر نہیں بلکہ ان دونوں امریکی ایجنٹس پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ فنڈ اکٹھا کیا۔ لیکن دوسری طرف اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ پارٹی فنڈنگ کے تمام معاملات عمران خان اور ان کی جماعت کے چیف آرگنائزر دیکھ رہے ہیں اور ان فنڈز کی وصولی کی تمام ذمہ داری ان دونوں حضرات پر عائد ہوتی ہے۔ اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ ویسے بھی جن دو امریکی ایجنٹوں کا شاہ خاور نے بتایا ہے وہ دراصل دو غیر ملکی کمپنیاں ہیں جو کہ امریکہ میں عمران خان کے دستخطوں سے اوپن ہوئیں۔
یاد رہے کہ سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے آرٹیکل 13 کے تحت مالی سال کے اختتام سے 60 روز کے اندر الیکشن کمیشن میں اپنے بینک اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹ جمع کروانا ہوتی ہے جس میں سالانہ آمدن اور اخراجات، حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع، اثاثے اور واجبات شامل ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پارٹی سربراہ الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانے کا پابند ہوتا ہے جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ اس نے تمام مالی تفصیلات درست فراہم کی ہیں اور کوئی فنڈ ممنوعہ ذرائع سے حاصل شدہ نہیں ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی شق (15) کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی ایسی سیاسی جماعت کو تحلیل کرنے کا ڈیکلئیریشن جاری کر سکتی ہے جو کہ غیر قانونی فنڈز کے ذریعے قائم کی گئی ہو یا اس کے قیام کا مقصد پاکستان کی خود مختاری یا سالمیت کے خلاف کام کرنا ہو۔
یاد رہے کہ اکبر ایس احمد نے اپنے تازہ ترین انٹرویو میں یہ الزام لگایا ہے کہ عمران خان کی جماعت کو نہ صرف بھارت سے فنڈنگ ملی ہے بلکہ اسے یہودی لابی نے بھی پیسے دیے ہیں لہذا یہ معاملہ اب قومی سلامتی کا ایشو بن چکا ہے جس پر مزید تاخیر کرنے کی بجائے فوری فیصلہ سنایا جانا چاہیے کہ پاکستان کا کوئی بڑا نقصان نہ ہو جائے۔
دوسری طرف قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت پر غیر قانونی ذرائع سے فارن فنڈنگ وصول کرنے کا الزام ثابت ہو جانے کے بعد اس کی تحلیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق ڈیکلئیریشن جاری ہونے کے 15 روز کے اندر ہی یہ معاملہ سپریم کورٹ بھیجا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ برقرار رکھنے کی صورت میں پارٹی تحلیل قرار دے دی جاتی ہے۔ قانون کے مطابق سیاسی جماعت تحلیل ہونے کی صورت میں اس جماعت کے تمام صوبائی اور وفاقی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت بھی منسوخ ہو جاتی ہے۔
سابق وزیر قانون خالد رانجھا کہتے ہیں بیرون ملک فنڈنگ کے ساتھ ایک سنگین نوعیت کا معاملہ اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنے کا ہے۔ ’اگر کوئی چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے تو یہ بددیانتی ہے اور اسکے نتائج قانون کے مطابق آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر تو واضح ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر کوئی چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے تو آرٹیکل 61 اور 62 کے تحت بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔ سینئیر قانون دان اکرم شیخ کہتے ہیں پولیٹیکل پارٹیز آرڈر اور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2017 کے تحت کوئی غیر ملکی شہری یا غیر ملکی کمپنی کا سیاسی جماعت کو فنڈز فراہم کرنا ممنوعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے فارن فنڈز کے حوالے سے جو سرٹیفیکٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروایا ہے اسکی بنیاد پر بھی انکے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جاری فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے سوال اٹھایا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کیوں اور کس کے کہنے پر گھبرا رہا ہے، کیوں گریز کر رہا ہے، کمیشن کیوں نہیں اس پر فیصلہ کر رہا ہے جبکہ عمران خان کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہے۔ نواز شریف نے عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں فیصلے میں چھ سال کی تاخیر پر استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کیوں اس معاملے پر فیصلہ نہیں کر رہا ہے جبکہ ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔
عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا ہے کہ ’عمران خان مجرم ہے، اور وہ اپنے جرم کو ایجنٹوں کے سر ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان نے اپنے 15 مشکوک اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے اور ای سی پی کو دی گئی رپورٹ میں انکی تفصیلات شامل ہی نہیں کیں جو کہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
نواز شریف نے سوال پوچھا کہ کیا اس طرح کے’مشکوک اور غیر شفاف اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کے زمرے میں نہیں اتے۔ انہوں نے کہا کہ ’عمران خان میں شفافیت کا وجود ہی نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک شرمناک کہانی ہے اور عمران خان جو یہ کہتے تھکتا نہیں تھا کہ احتساب ان سے شروع کیا جائے، اب سرپرستوں سے مل کر انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
ان کے مطابق اس مقدمے میں کل 70 سماعتیں ہو چکی ہیں۔ تحریک انصاف نے 30 بار اس مقدمے میں التوا حاصل کیا ہے جبکہ آٹھ بار وکیل بدلے ہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان اور تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈز لے کر کھا پی لیے اور ان سے بنگلے، زمینیں اور جائیدادیں بنا لیں۔ لہذا اب جب یہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ رکوانے کی خاطر کبھی الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں چلے جاتے ہیں اور کبھی فنڈ لینے کی ذمہ داری اپنے ایجنٹس پر ڈال دیتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر یہی کیس میرے خلاف درج ہوا ہوتا تو اس کا فیصلہ چھ برس پہلے ہی آچکا ہونا تھا لیکن پاکستان میں انصاف کے دوہرے معیار ہیں اور جو لوگ اور ادارے دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو برسراقتدار آئے ہیں وہ اب اس کیس میں اس کو بچانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
