عمران خان نے از خود گرفتاری دینے کا فیصلہ کر لیا؟

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے واقعات کی گردشوں اور حالات کی صعوبتوں سے تنگ آکر ازخود گرفتاری دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ آنے والے چند دنوں میں اس فیصلے پر انتہائی غیر متوقع انداز میں عمل کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ یہ دعویٰ ان سے مسلسل ملاقاتیں رکھنے والے قریبی ذرائع کر رہے ہیں۔ اگر واقعاً ایسا ہی ہے تو اسے خارج از امکان ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی یکسر مسترد کیا جاسکتا ہے کیونکہ گزشتہ کئی ماہ سے وہ مسلسل جن حالات و واقعات سے دوچار ہیں ان میں گھرے ہوئے شخص سے کسی بھی انتہائی اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے۔
اگر انتہائی اختصار سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جنہیں بالخصوص سانحہ 9 مئی کے بعد اپنے سیاسی رفقاء قابل اعتماد ساتھیوں اہم شخصیات پارٹی کے رہنماؤں حتیٰ کہ کارکنوں کی سطح تک لاتعلقی اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سامنا ہے، ان کے تمام ساتھی ایک ایک کرکے انہیں خیرباد کہہ چکے ہیں اور باقی ماندہ کہہ رہے ہیں ۔ دوستی کے دعویداروں سے لیکر ماضی کے مہربانوں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنے کا عزم کرنے والے آج نہ صرف ان کے لئے اجنبی بن چکے ہیں بلکہ ان کے سامنے خم ٹھوک کر کھڑے ہیں۔
دوست دوست نہ رہے، وعدہ معاف گواہ بن گئے‘‘ چیئرمین تحریک انصاف کو گرفتاری کا یقین ہو چکا ہے، اب وہ قریبی ساتھیوں کے مشوروں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اب عمران خان نے از خود گرفتاری بارے غور کرنا شروع کر دیا ہے یہ بات قرین از قیاس دکھائی دیتی ہے کیونکہ بحران کے طوفانوں میں گھرے ہوئے شخص سے کسی بھی انتہائی اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے۔
خیال رہے کہ جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کی جانب سےاپنی سیاسی پارٹیوں کی تشکیل کے بعد عمران خان خو تازہ ترین جھٹکا اپنے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے سائفر بارے اعترافی بیان سے لگا ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کروایا ہے، سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے بیان کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا سائفر معاملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھا اور عمران خان نے یہ سارا ڈرامہ اپنی حکومت اور سیاست کو بچانے کیلئے رچایا۔
دوسری طرف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو سائفر کی تحقیقات کے معاملے پر 25 جولائی کو طلب کر لیا ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سابق سیکریٹری جنرل اسد عمر کو بھی 24 جنوری کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے عمران خان کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جو ان کی رہائشگاہ زمان پارک اور اسلام آباد میں بنی گالہ کے پتے پر جاری کیا گیا۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سائفر کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اسمتعمال کرنے پر تحقیقات جاری ہیں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جوائنٹ انکوائری ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔نوٹس کے مطابق جے آئی ٹی عمران خان کی جانب سے سائفر لہرا کر قومی سلامتی اور ریاستی مفادات کو خطرات میں ڈالنے کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔عمران خان کو کہا گیا ہے کہ 25 جولائی کو دن 12 بجے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر میں پیش ہوں، اور اپنے ساتھ متعلقہ دستاویزات اور شواہد بھی لے کر آئیں۔
دوسری جانب ایف آئی اے کی جوائنٹ انکوائری ٹیم نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سابق سیکریٹری جنرل اسد عمر کو بھی طلب کر لیا ہے۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے سائفر پبلک کرنے کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کو 24 جولائی کو طلب کیا ہے۔سائفر کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی ٹیم نے دونوں سیاسی رہنماؤں کو کہا ہے کہ تمام دستاویزات او شواہد بھی ساتھ لائیں۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے اسمتعمال کرنے کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
سائفر کھ معاملے پر ایف آئی اے میں طلبی کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سامنے حاضر ہوتے ہیں یا اس سے پہلے ہی خود کو گرفتاری کیلئے پیش کر دیتے ہیں۔یہ بات تو اب آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
