عمران خان نے تحریک انصاف کو دہشت گرد تنظیم کیسے بنایا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ دہشت گردی انتہاپسندی سے جنم لیتی ہے۔عمران خان نے پی ٹی آئی کو ایک انتہا پسند جماعت بنا دیا تھا۔ وہ صرف اپنے آپ کو فرشتہ اور باقی سب لیڈروں کو چور، ڈاکو اور منافق کہتے رہے۔ اب ایک طرف پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ اس کے خلاف ریاستی دہشت گردی ہورہی ہے اور دوسری طرف حکومت اور پی ٹی آئی کے نقاد کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں رہی بلکہ 9مئی کے بعد دہشت گرد جماعت بن گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سلیم صافی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ المیہ یہ ہے کہ پاکستان نے ریاستی سطح پر دہشت گردی کی واضح تعریف نہیں کی لیکن گزشتہ بائیس سال میں بہت سارے لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر مارا گیا، غائب کرایا گیا یا پھر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اسی طرح میں جب حکومت اور ریاستی اداروں نے چاہا اپنے کسی نقاد پر انسداد دہشت گردی کا مقدمہ قائم کردیا اور دوسری طرف بہت سارے لوگ جودہشت گرد کی تعریف پر پورا اترتے تھے، انہیں اس لئے آزادی کے ساتھ گھومنے دیا گیا کہ وہ ریاست یا حکومت کے لاڈلے تھے۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ عمران خان وہ سیاستدان ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ اپنے سیاسی مخالفین پر دہشت گردی اور غداری کے فتوے لگائے اور ان کی حکومت میں سب سے زیادہ سیاسی مخالفین ریاستی اداروں کی مدد سے گرفتار ہوئے۔ اسی طرح ریاستی اداروں پر جائز تنقید کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم ہوئے لیکن مکافات عمل کے قانون کے تحت 9مئی کو عمران خان کی جماعت کے لوگ نہ صرف سیکورٹی فورسز کی تنصیبات پر حملہ آور ہوئے بلکہ شہدا کی یادگاروں اور ایم ایم عالم کے جہاز تک کو جلا ڈالا۔ اب پی ٹی آئی کے مخالفین اس کو دہشت گرد جماعت کا طعنہ دے رہےہیں تو دوسری طرف عمران خان اور ان کےساتھی بار بار یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ ہم دہشت گرد کیسے ہوسکتے ہیں؟۔ جب عمران خان کی حکومت میں پی ٹی آئی کے وزرا اور بالخصوص پختون وزرا پختون تحفظ موومنٹ کے عہدیداروں کو ملک دشمن قرار دیتے تھے یا پھر مسنگ پرسنز کیلئے آواز اٹھانے والوں کو دہشت گردی سے جوڑتے تھے تو نہ صرف ان کے اس رویے پر میڈیا میں شدید تنقید کی گئی بلکہ خلوتوں میں بھی ان کو سمجھایا جاتا رہا کہ آپ لوگ دلیل سے ان کے رویے یا بات کو غلط کہیں لیکن کسی جنرل یا کرنل کی خوشی کیلئے انہیں غدار اور ملک دشمن یا بیرونی ایجنٹ کے القابات سے یاد نہ کریں۔ اب ایک طرف پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ اس کے خلاف ریاستی دہشت گردی ہورہی ہے اور دوسری طرف حکومت اور پی ٹی آئی کے نقاد کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں رہی بلکہ 9مئی کے بعد دہشت گرد جماعت بن گئی ہے . سوال یہ ہے کہ دہشت گرد کون ہے؟
سلیم صافی کہتے ہیں کہ دہشت گردی انتہاپسندی سے جنم لیتی ہے۔ سادہ الفاظ میں انتہا پسندی کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صرف اپنی بات کو درست کہیں اور باقی ہر کسی کی بات کو غلط کہیں۔ صرف یہ نہیں بلکہ اپنی بات یا نظریے میں کسی غلطی کے امکان کو تسلیم نہ کریں اور مخالف بات یا نظریے میں صداقت کے امکان کو تسلیم نہ کریں۔ یعنی صرف اپنی پارٹی، اپنے لیڈر اور اپنے نظریے کو درست اور باقیوں کو مکمل طور پر باطل سمجھنا اور اس میں کسی شک کے امکان کو تسلیم نہ کرنا انتہا پسندی ہے۔ اب اس حوالے سے دیکھا جائے تو عمران خان نے پی ٹی آئی کو ایک انتہا پسند جماعت بنا دیا تھا۔ وہ صرف اپنے آپ کو فرشتہ اور باقی سب لیڈروں کو چور، ڈاکو اور منافق کہتے رہے۔ اسی طرح ان کے پیروکار بھی اپنے لیڈر کے ہاں کسی غلطی کے امکان کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور کسی اور مخالف لیڈر کے ہاں کسی خوبی کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ عمران خان مخالف سیاسی جماعتوں کو سیاسی جماعتیں اور سیاسی لیڈروں کو سیاسی لیڈر تسلیم کرنے کوبھی تیار نہیں تھے۔ اپنی حکومت میں بھی وہ یہ کہتے رہے کہ میں ان چوروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا اور نہ کبھی ان کے ساتھ بیٹھے جبکہ حکومت سے نکلنے کے بعد بھی کہتے رہے کہ مخالف، سیاسی لیڈر چور ہیں اور چوروں سے میری بات نہیں ہو سکتی۔ یوں پی ٹی آئی کو دھیرے دھیرے عمران خان نے انتہا پسند جماعت بنا دیا تھا۔
سلیم صافی بتاتے ہیں کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کتابی تعریفوں کا جائزہ لیں تو سادہ ترین الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ صرف اپنی بات، اپنے نظریے، اپنی پارٹی اور اپنے مسلک کو ہی درست سمجھنا اور باقی سب کو غلط سمجھنا انتہا پسندی ہے اور پھر طاقت خواہ وہ عوامی ہو یا بندوق کی ، اس کے ذریعے اپنے نظریے کو مسلط کروانا دہشت گردی ہے۔ بظاہر تو تحریک طالبان پاکستان کا مقصد بھی انتہائی نیک یعنی اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کے شکوے بھی جائز ہیں اور بظاہر بلوچ عسکریت پسند اگر اپنا حق مانگتے ہیں تو اس حد تک ان کی بات بھی درست ہے لیکن ہماری ریاست انہیں دہشت گرد اس لئے کہتی ہے کہ وہ طاقت کے بل پر اسلام نافذ کرنا یا پھر بلوچستان کے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اب جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے تو یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ عمران خان صرف اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہیں اور باقی سیاسی جماعتوں کو سیاسی جماعتیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے 2014 میں بھی دھرنوں جس کے اسکرپٹ میں سو سے زائد بندوں کو مروانا شامل تھا کے ذریعے اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پھر لاک ڈائون کے ذریعے اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ اقتدار میں آنے کے بعد مخالفین کو جیلوں میں ڈال کر اور قوانین کا خوف دلا کر انہوں نے اپنے نقادوں کو دبانے کی کوشش کی۔اقتدار سے محرومی کے بعد بھی وہ عدالتی یا پارلیمانی طریقے کی بجائے عوامی طاقت سے حکومت اور ریاستی اداروں کو خوفزدہ کر کے اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان نے پولیس افسران کو بھی دھمکیاں دیں اور ججز کو بھی۔ اپنے ساتھ ہجوم لا کر عدالتوں کو بھی خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ 9مئی کو انہوں نے اپنے پیروکاروں کے ذریعے ملک بھر میں فوجی تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں کو نشانہ بنا کر اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ گویا پروپیگنڈا کر کے صرف اپنے آپ کو حق اور باقی سب کو باطل کہنا یا پھر عوامی طاقت کے ذریعے مخالفین کو خوف میں مبتلا کرکے اپنی بات منوانا ان کا بنیادی فلسفہ ہے۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ پی ٹی آئی دہشت گرد تنظیم ہے یا سیاسی؟
