پنجاب کے بعد کے پی کے میں بھی PTI کی بربادی

نو مئی کے شرپسندانہ واقعات کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے پارٹی چھوڑنے یا سیاست سے الگ ہونے سے متعلق پریس کانفرنسز کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کے اہم رہنما اور عمران خان کے قریبی ساتھی پرویز خٹک نے بھی پارٹی عہدہ چھوڑ دیا ہے۔یکم جون کی شب ایک مختصر پریس کانفرنس میں پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ وہ کئی روز سے ملکی حالات دیکھ رہے ہیں اور نو مئی کے واقعات کی مذمت کر چکے ہیں۔

نو مئی کے واقعات کے بعد پنجاب اور سندھ سے پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کی تعداد زیادہ تھی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے رہنما فی الحال خاموش ہیں۔ لیکن پرویز خٹک کی پریس کانفرنس کے بعد اب یہاں بھی صورتِ حال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔اگرچہ جماعت سے الگ ہونے والے متعدد رہنماؤں نے بتایا ہے کہ ان کا پی ‘ٹی آئی سے الگ ہونے کا فیصلہ رضاکارانہ ہے لیکن بعض تجزیہ کاروں کی رائے اس سے مختلف ہے ۔

پرویز خٹک کی جانب سے پارٹی عہدے چھوڑنے کے بعد یہ سوال جنم لے رہا ہے کیا پی ٹی آئی اپنا گڑھ سمجھے جانے والے خیبرپختونخوا میں اپنی سیاسی قوت برقرار رکھ سکے گی یا نہیں؟پرویز خٹک کی پریس کانفرنس کے دوران سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی قریب بیٹھے دکھائی دیے، تاہم اُنہوں نے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

اس حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی کہتے ہیں کہ اسد قیصر کی بھی پریس کانفرنس کے دوران موجودگی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ بھی مستقبل قریب میں کوئی بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔سلیم صافی کے بقول مقتدر حلقے سمجھتے ہیں کہ عمران خان ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ لہذٰا پرویز خٹک، اسد قیصر اور محمود خان جیسے لوگوں کے لیے اس لڑائی میں عمران خان کا ساتھ دینا ممکن نظر نہیں آتا۔

سلیم صافی نے یاد دلایا کہ زیر عتاب رہنے کے باوجود پرویز خٹک آخری وقت تک عمران خان کے ساتھ وفادار رہے ہیں۔ ان کے بقول عمران خان کی مقتدر ادارے کے ساتھ محاذ آرائی کے باعث انہوں نے پارٹی کی صوبائی صدارت سے علیحدگی اختیار کی۔دوسری جانب ذرائع کا دعوی ہے کہ پرویز خٹک اور اسد قیصر مستقبل کا سیاسی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آپس میں صلاح مشوروں کا سلسلہ جاری رکھےہوئے ہیں ۔

تاہم سلیم صافی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چھوڑنے والوں پر کسی ایک سیاسی جماعت میں شامل ہونے کی پابندی نہیں ہے۔اُن کے بقول پی ٹی آئی چھوڑنے والے جہانگیر ترین گروپ کی نئی مجوزہ پارٹی کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔اُن کے بقول بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں ایک دھڑا اب بھی عمران خان کے ساتھ وفادار ہے، لیکن آنے والے دنوں میں ہی پتا چلے گا کہ اُونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

سلیم صافی کے بقول چوہدری شجاعت حسین کی پاکستان مسلم لیگ (ق) بھی اب منظم ہو رہی ہے تاہم جہانگیر ترین گروپ اور مسلم لیگ (ق) کے مستقبل کا دارومدار اسٹیبلشمنٹ کی منشا پر ہی ہو گا۔دوسری جانب شاہ محمود قریشی کے بارے میں اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ خود فوری رہا نہیں ہونا چاہتے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ سے کہہ رہے ہیں کہ جب تک عمران خان گرفتار نہیں ہو جاتے میں باہر نہیں جاؤں گا۔ میں تب جیل سے باہر جاؤں گا جب میں عمران خان کا جانشین بن چکا ہوں گا۔ اگر آپ عمران خان کو گرفتار کر لیتے ہیں تو پارٹی کا سربراہ میں بن جاؤں گا اور باہر جا کر پوری کی پوری پارٹی آپ کے حوالے کر دوں گا

دوسری طرف خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان اور سابق صوبائی وزیر شوکت علی یوسف زئی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، لہذٰا اسے ایسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس سیاسی بحران کو ختم کیا جا سکتا ہے۔اُن کے بقول عمران خان سمیت تمام قیادت مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر حکومت تیار دکھائی نہیں دیتی۔شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک نے پارٹی عہدہ چھوڑا ہے، لیکن وہ اب بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔خیال رہے کہ پرویز خٹک اور اسد قیصر کے علاوہ سابق گورنر شاہ فرمان، سابق وزیرِ اعلٰی محمود خان، سابق وزرا عاطف خان، مراد سعید، سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی جیسے اہم رہنما نو مئی کے واقعات کے بعد سے روپوش ہیں۔

پشاور کے سینئر صحافی عرفان خان کہتے ہیں کہ پرویز خٹک کی جانب سے پارٹی عہدہ چھوڑنے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں خیبرپختونخوا سے پارٹی رہنما اور کارکن بھی کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ عرفان خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو خیبرپختونخوا میں اپنی پارٹی مقبولیت پر بڑا مان ہے، لیکن اب بظاہر یہاں بھی ہواؤں کا رُخ بدل رہا ہے۔اُن کے بقول اسد قیصر، سابق گورنر شاہ فرمان، سابق صوبائی وزرا عاطف خان ،شوکت یوسف زئی اور کامران بنگش جیسے نظرہاتی کارکن اب بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف 2013 کے انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ 2018 کے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی صوبے میں دو تہائی اکثریت سے اقتدار میں آئی تھی۔

Back to top button