عمران خان نے عاصم منیرکو بطورDG ISIکیوں ہٹایا تھا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو عمران خان نے وقت سے پہلے ان کے عہدے سے اس لئے ہٹا دیا تھا کیونکہ انہوں نے خان صاحب کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور بشری بی بی کی سہیلی فرح گوگی کی کرپشن کے ثبوت فراہم کیے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ سید عاصم منیر نے مانیکا فیملی‘ فرح گوگی‘ احسن جمیل گجر اور عثمان بزدار کے معاملات‘ پیسے کے لین دین‘ تقرریوں میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کی تمام تفصیلات ثبوتوں کے ساتھ وزیر اعظم کو پیش کی تھیں لیکن کوئی ایکشن لینے کی بجائے وزیراعظم الٹا ڈی جی ائی ایس آئی سے ناراض ہو گئے اور آرمی چیف سے ان کے تبادلے کا مطالبہ کر دیا۔ جنرل باجوہ نے انھیں سمجھایا کہ سر، عاصم منیر ایک کیریئر آفیسر ہیں۔ ان کی ایمان داری اور پروفیشنل ازم کی قسم کھائی جا سکتی ہے اور جو انہوں نے کہا وہ ان کا فرض تھا جو انھوں نے ایمانداری سے ادا کیا کیا ہے۔ لیکن بقول جاوید چودھری، عمران کا کہنا تھا کہ وہ میرے گھر کے بارے میں بدگمانی پھیلا رہے ہیں اور خاتون اول کے دوستوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ چنانچہ وزیر اعظم کے مطالبے پر جنرل عاصم منیر کو وقت سے پہلے ہی ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا کر کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کر دیا گیا۔ عاصم کی جگہ عمران کی خواہش پر فیض حمید کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیا گیا۔
جاوید چوہدری اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں: دنیا میں کیا ہو رہا ہے‘ ملک میں کیا ہو رہا ہے‘ کون کس کا بیڑہ غرق کر رہا ہے اور کل اس ملک کا کیا بنے گا؟ ان تمام ایشوز پر ہم پنجابیوں کا ایک ہی جواب ہوتا ہے سانو۔۔ کی اور ہم پنجابی کیونکہ اس ملک کا ساٹھ فیصد ہیں چناںچہ پاکستان اس وقت ہمارے اسی رویہ کی وجہ سے ایک خوف ناک کھنڈر بن چکا ہے اور پنجاب اس کھنڈر کا کھنڈر اعظم ہے‘ ہم پنجابیوں نے سانو۔۔کی کی فلاسفی سے سب سے زیادہ پنجاب کابیڑا غرق کیا‘۔
وہ بتاتے ہیں کہ عثمان بزدار دراصل احسن جمیل گجر اور فرح گوگی کی مشترکہ دریافت تھے‘ احسن جمیل انھیں اگست 2018 میں اپنی گاڑی پر بنی گالا لے کر گئے تھے اور عمران خان سے انکا انٹرویو کرایا تھا‘ میٹنگ میں وہ جہانگیر ترین بھی شامل تھے جو انھیں پی ٹی آئی میں لے کر آئے تھے لیکن عثمان بزدار اور جہانگیر ترین دونوں نے اس وقت ایک دوسرے کو پہچانا تک نہیں تھا‘ بہرحال بزدار کی عمران خان سے چند منٹوں کی ملاقات ہوئی اور اس طلسماتی ملاقات میں پنجاب کے 12 کروڑ لوگوں کے مقدر کا فیصلہ ہو گیا۔ عثمان بزدار کو واپس لے جانے کی ذمے داری بھی احسن جمیل کے کندھوں پر تھی‘ یہ دونوں بنی گالا سے نکلے تو احسن جمیل نے بزدار سے کہا ’’چلیں میں آپ کو گلوریا جینز سے کیپو چینو پلاتا ہوں‘‘۔ لیکن پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ گلوریا جینز کو بھی نہیں جانتے تھے اور کیپو چینو سے بھی واقف نہیں تھے۔ بہرحال سانو۔۔کی۔ کچھ روز بعد ہی عثمان بزدار ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ بن گئے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف بننے سے قبل عمران سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی‘ باجوہ صاحب بس اتنا جانتے تھے کہ عمران خان کے پاس دنیا کے 200 ماہرین ہیں جو آ کر ملک کی تقدیر بدل دیں گے‘ فوج کو بھی ان پر یقین تھا‘ یہ یقین اور یہ احساس بہرحال چلتا رہا اور 2018 کے الیکشن ہو گئے‘ اسٹیبلشمنٹ مانتی ہے ہم نے الیکشنز میں عمران کی سپورٹ کی لیکن موصعف اسکے باوجود اکثریت حاصل نہ کر سکے۔ مجبوراً دوسری سیاسی جماعتوں کو ان کے ساتھ بٹھانا اور چلانا پڑ گیا اور یوں حکومت کا سارا بوجھ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آ گیا‘ وزیراعظم بننے سے چند دن قبل آرمی چیف اور جنرل فیض حمید عمران خان سے ملاقات کے لیے بنی گالا گئے‘ یہ ویٹنگ روم میں انتظار کر رہے تھے اور عمران جاگنگ ٹراؤزر کے ساتھ پشاوری چپل پہن کر اندر داخل ہو گئے‘ دونوں فوجی افسران مستقبل کے وزیر اعظم کو دیکھ کر پریشان ہوگئے۔ ملاقات کے بعد جب دونوں باہر نکلے تو فیض حمید نے پوچھا ’’کیا ہم ان کو وزیر اعظم بنانے کی کوشش رہے ہیں؟‘‘ آرمی چیف نے ان کی طرف دیکھا اور خاموش ہو گئے‘ بہرحال عمران وزیر اعظم بنوانے دیے گے۔ اس کے بعد سعودی شہزادے ہوں یا یورپ اور امریکا کے وزراء ہوں، ان سب کو بنی گالا میں دھوپ میں بھی بیٹھنا پڑا، ٹراؤزر اور پشاوری چپل کا امتزاج بھی دیکھنا پڑا اور وزیراعظم کا انتظار بھی کرنا پڑا۔ بہرحال سانو۔۔ کی‘ ہم عثمان بزدار کی طرف آتے ہیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پہلا اختلاف عثمان بزدار کی تعیناتی پر ہوا تھا‘ فوج پنجاب جیسے صوبے کو بزدار جیسے اناڑی کے ہاتھ میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی لیکن وزیراعظم نہیں مانے اور پونے چار سال اپنی ضد پر ڈٹے رہے‘ آرمی چیف اور فیض حمید دونوں انھیں بار بار سمجھاتے رہے‘ انھیں یہ تک بتایا گیا پنجاب میں آپ کی پارٹی ٹوٹ چکی ہے‘ آپ نے اگرصورت حال کنٹرول نہ کی تو پنجاب کے ساتھ وفاق بھی آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا‘ وزیر اعظم کو کرپشن کے ثبوت بھی دیے گئے لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اس زمانے میں لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ جب انہوں نے عثمان بزدار اور فرح گوگی کی کرپشن کے ثبوت وزیر اعظم کو دیے تو انہیں فارغ کر کے فیض حمید کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی لگا دیا گیا۔ چنانچہ پنجاب کی صورت حال جوں کی توں رہی۔ اس دوران وزیر اعظم کو جب بھی سچ بتایا گیا، ان کا جواب تھا سانو ۔۔کی۔
بقول جاوید چودھری، اسی دوران فروری 2021 آ گیا‘ سینیٹ میں حفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی کا الیکشن آ گیا۔ پی ٹی آئی کے ارکان حفیظ شیخ کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وزیر اعظم نے حسب معمول یہ ذمے داری اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر ڈال دی‘ اس وقت افغانستان میں تبدیلی آ رہی تھی۔امریکی فوجیں واپس جا رہی تھیں اور ملک ایف اے ٹی ایف میں بھی پھنسا ہوا تھا لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کے پاس سیاسی خرافات کے لیے وقت نہیں تھا‘ تب فیض حمید نے مشورہ دیا کہ ہمیں خود کو مکمل طور پر سیاست سے الگ کرلینا چاہیے‘ اور یہ الیکشن حکومت کو خود لڑنا چاہیے چناں چہ حکومت کو فیصلے سے مطلع کر دیا گیا‘ وزیراعظم کو بتایاگیا آپ کی پارٹی پنجاب سے فارغ ہو رہی ہے‘ یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے‘ آپ کو اسے سنبھالنا ہو گا‘ وزیراعظم کو یہ مشورہ تک دیا گیا کہ آپ 12 بجے دفتر آتے ہیں اور پانچ بجے واپس چلے جاتے ہیں۔ آپ ایک گھنٹہ پہلے آ جایا کریں یا ایک گھنٹہ دفتر میں مزید رک جایا کریں اور اپنے اتحادیوں‘ ایم این ایز اور ایم پی ایز سے مل لیا کریں اور ان کی بات سن لیا کریں تاکہ آپکی پارٹی اور حکومت کو تقویت ملے گی۔ لیکن وزیراعظم نے یہ مشورہ نہیں مانا۔ یہ کشمکش چلتی رہی۔ معاملہ جب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گیا اور وزیراعظم کو محسوس ہوا کہ مجھے اب بزدار کی قربانی دینا پڑے گی تو علیم خان کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ ہو گیا۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے سکھ کا سانس لیا‘ علیم خان کو اطلاع کر دی گئی اور انھیں اسلام آباد بھی بلا لیا گیا۔ اگلی صبح جب علیم خان عمران سے ملاقات کے لئے پہنچے تو خان صاحب نے پوچھا‘ خیریت ہے، تم اسلام آباد کیوں آ گئے۔ چنانچہ علیم خان غصے میں واپس آ کر بطور سینئیر وزیر مستعفی ہو گئے۔ یوں اس بار بھی معاملہ سانو ۔۔کی پر آ کر ختم ہوگیا۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد میرا خیال تھا پنجاب میں اب استحکام آ جائے گا، مگر افسوس کہ آنے والے دن پچھلے دنوں سے زیادہ بدتر ثابت ہوئے اور پنجاب چار ماہ سے سیاسی جنگ کا میدان بنا ہوا ہے‘ پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بن چکے ہیں لیکن یہ کتنے دن ٹکتے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا کیوں کہ عمران نے ق لیگ کے دس ارکان کو وزارتیں نہ دے کر انھیں چوہدری شجاعت حسین کی طرف دھکیل دیا ہے جبکہ پی ڈی ایم نے چوہدری شجاعت کو پیش کش کر دی ہے کہ آپ اپنے دس ارکان کو واپس لے آئیں، آپ جس کو کہیں گے ہم اسے وزیراعلیٰ بنا دیں گے۔ گویا پنجاب کی قسمت ہی خراب ہے‘ اور یہ ایک بار پھر سیاسی افراتفری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر اس افراتفری کو نہ روکا گیا تو ثابت ہو جائے گا کہ پورا ملک چار سال سے سانو۔۔کی پر چل رہا ہے‘ معیشت تباہ ہو جائے‘ اسٹاک ایکسچینج بیٹھ جائے‘ ملک سیاسی تنہائی کا شکار ہو جائے یا روز لشکر ملک بند کر دیں‘ سیاست دانوں سے لے کرعدلیہ تک تمام مقتدر طاقتوں کا صرف ایک ہی ایکسپریشن ہوتا ہے سانو ۔۔ کی اور آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے اس سانو۔۔ کی کے ساتھ پاکستان مزید کتنی دیر چل سکے گا؟۔
