پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ پر برطانیہ میں تحقیقات شروع

شوکت خانم ہسپتال کے لیے خیرات کے نام پر اکٹھے کیے گئے فنڈز تحریک انصاف کے پاکستانی بینک اکاؤنٹس میں بھجوانے کے الزام پر برطانیہ میں پاکستانی خیراتی اداروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ برطانوی چیریٹی کمیشن اور برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اس معاملے کی تحقیقات کریں گے، اطلاعات کے مطابق پاکستان میں قائم شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے نام پر برطانیہ میں اکٹھے ہونے والے فنڈز پچھلے کئی برسوں سے پاکستان میں تحریک انصاف کے مختلف بینک اکاؤنٹس میں بھجوائے جا رہے تھے جنہیں عمران خان سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں سینکڑوں خیراتی ادارے ایسے ہیں جنھوں نے تحریک انصاف کو فنڈز ٹرانسفر کیے ہیں، لیکن جب سے فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ آیا ہے، برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور چیریٹی کنٹرول کرنے والے اداروں کو ان فنڈز کے غلط استعمال بارے پانچ شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ ان شکایات میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہاں خیرات کے نام پر جمع کردہ عطیات کو بعد میں پاکستان بھجوایا گیا اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ الزام بھی لگایا گیا یے کہ پاکستان میں منتخب حکومت کو ڈی ریل کرنے کیلئے فارن فنڈنگ کی استعمال کی گئی۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں ایسے ہزاروں پاکستانی ہیں جو ان خیراتی اداروں کو عطیات دیتے تھے، ان شکایات کے بعد عطیات دینے والے پاکستانیوں کے خلاف بھی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں، ان سے عطیات کے حوالے سے باز پرس کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے حریفوں نے فارن فنڈنگ کے معاملے کو انگلینڈ میں مزید اُبھانے میں کردار ادا کیا ہے جسکے نتیجے میں نیشنل کرائم ایجنسی میں شکایات کا اندراج کیا گیا ہے، رپورٹس کے مطابق ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کے ملکیتی ووٹن کرکٹ کلب میں کھیلے گئے میچ اور جمع ہونے والی آمدنی کے ریکارڈ پر بھی باز پرس کی جائے گی۔ واضح رہے کہ تحریکِ انصاف کی فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے میں جہاں یہ کہا گیا ہے کہ عمران خان کی جماعت پر بیرونِ ملک سے ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں وہیں اس نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا سیاسی جماعتوں کے لیے ہر قسم کے غیر ملکی فنڈز ممنوعہ ہیں۔ یاد رہے کہ آٹھ سال تک تحریک انصاف کے خلاف ‘فارن یا ممنوعہ فنڈنگ’ کا کیس الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت رہا۔ تحریک انصاف کی طرف سے کبھی الیکشن کمیشن کے دائرہ سماعت کے اختیار کو چیلنج کیا گیا اور کبھی الیکشن کمیشن کے احکامات کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے پہلے حکم امتناعی حاصل کیا گیا اور پھر عدالت کی طرف سے یہ حکم امتناعی خارج بھی کیا گیا۔
ممنوعہ فنڈنگ اور فارن فنڈنگ کا معاملہ سنہ 1962 سے ہی پاکستان کی سیاست میں شامل رہا ہے۔ اس دور میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ بنایا گیا جس کے بعد فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کو روک دیا گیا۔
اسی ایکٹ کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائے گئے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ 2002 میں بھی برقرار رکھا گیا یہاں تک ہی نہیں بلکہ الیکشن ایکٹ 2017 میں بھی اس قانون کو برقرار رکھا گیا۔ الیکشن کمیشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 204 کے سب سیکشن 3 کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کو بلواسطہ یا بلاواسطہ حاصل ہونے والے فنڈز جو کسی غیر ملکی حکومت، ملٹی نیشنل یا پرائیویٹ کمپنی یا فرد سے حاصل کیے گئے ہوں وہ ممنوعہ فنڈز کے زمرے میں آتے ہیں۔
الیکشن ایکٹ کے تحت اگر کوئی ملک یا اسکا کوئی ادارہ کسی دوسرے ملک کی سیاسی جماعت کو مالی مدد فراہم کرتا ہے اور اس کے ثبوت بھی الیکشن کمیشن کو مل جاتے ہیں تو ایسی فنڈنگ کا الزام ثابت ہونے پر الیکشن کمیشن کے پاس ایسی جماعت کی رجسٹریشن کو منسوخ کرنے اور ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات بھیجنے کا اختیار ہے۔
الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف سمیت ملک کی چار بڑی سیاسی جماعتوں کے خلاف مبینہ طور پر ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیے گئے فنڈز سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہو رہی ہے، دیگر جماعتوں میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام ف بھی شامل ہیں۔
