عمران خان نے نیب کی ساکھ کس طرح برباد کی؟


اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے نیب کو سیاسی انجینئرنگ کا حکومتی ٹول قرار دیے جانے کے باوجود کپتان حکومت نہ تو اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نظر آتی ہے اور نہ ہی حکومتی ٹٹو کا کردار ادا کرنے والا قومی احتساب بیورو اپنی تباہ شدہ ساکھ بحال کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ حکومت نے اپنے مفادات کی نگہبانی کرنے والے نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو بھی ان کی مدت پوری ہوجانے کے باوجود قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان کے عہدے پر برقرار رکھا ہوا ہے.
ناقدین کہتے ہیں کہ عجب بات ہے جتنا زور وزیراعظم عمران خان کرپٹ عناصر کے بے لاگ احتساب پر دیتے ہیں اس سے زیادہ زور وہ اس ادارے کی ساکھ کا جنازہ نکالنے پر لگاتے نظر آتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلے ساڑھے تین برسوں میں نیب کسی بھی اپوزیشن لیڈر کے خلاف قائم کوئی بھی کرپشن کیس ثابت نہیں کر پایا۔ وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کو بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں گرفتار کیا جاتا ہے اور پھر وہ عدالتوں سے ضمانت حاصل کر لیتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیب کے حالیہ آرڈیننس وزیراعظم کی مرضی ہی سے تیار کروا کر پاس کروائے گئے ہیں لیکن وہ آرڈیننس یقینی طور پر غیر جانبدارانہ احتساب کے لیے تیار نہیں کیے گئے بلکہ اس ادارے کو سیاست کے کھیل میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے لائے گئے ہیں۔ اس صورت حال میں عدلیہ کی یہ آبزرویشن درست لگتی ہے کہ نیب صرف سیاسی انجینرنگ کے لیے ہی استعمال ہورہا ہے۔
سنیئر صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ نیب کا ادارہ وزیراعظم عمران خان کے فلیگ شپ منصوبے کا سرکردہ ادارہ تھا لیکن اب وہ اپنی پرانی کمزوریوں کے بوجھ تلے دبا ہوا دکھائی دیتا ہے، حالانکہ اس کی اہمیت آنے والے دنوں میں پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر بہت زیادہ بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ انکا کہنا یے کہ جو نئی سیاسی کہانیاں گردش کر رہی ہیں ان میں سے ایک نواز شریف کی وطن واپسی کی بھی ہے۔ اس کے ساتھ جڑی ہوئی سپریم کورٹ بار کونسل کی مجوزہ پٹیشن کسی بھی شخص کی عمر بھر کی نااہلی کے خلاف ہے۔ اس میں بھی نیب کا ایک اہم کردار ہوگا۔ اس وقت سب سے متنازعہ معاملہ نیب کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کا ہے۔ موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال اکتوبر 2021 میں اپنی معیاد پوری کر چکے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے نئے چیئرمین کی تعیناتی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔ حکومت نے جو حالیہ متنازعہ آرڈیننس پاس کیا اس کے تحت صدر عارف علوی کو وزیراعظم اور حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف سے نئے چیئرمین کے نام کے حوالے سے مشورہ کرنا لازمی ہے۔ اس حوالے سے اگر اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کے درمیان معاملات طے نہ پائے تو پھر نئے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے ایک بارہ رکنی کمیٹی بنے گی جو چیئرمین کے نئے ناموں پر غور کرے گی۔ لہذا یہ معاملہ کوئی جلد حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
ایسے میں بقول نسیم زہرہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم اور ان کے قریبی مشیر نیب کا نیا چیئرمین چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ خبر یہ ہے کہ وزیراعظم کے کچھ قریبی مشیر وں کی رائے یہ ہے کہ موجودہ چیئرمین کی مدت کسی بہانے مزید بڑھا دی جائے۔ بقول نسیم، یہ کوئی حیران کن بات نہیں کیوں کہ موجودہ چیئرمین نے جہاں اپوزیشن کے خلاف بہت سے کیسز داغے ہیں وہاں اس نے عمران خان سمیت اہم ترئن حکومتی شخصیات پر معاملات کو کچھ ڈھیلے پن، کچھ سستی سے ہی آگے بڑھایا ہے۔ مثلا وفاقی وزیر خسرو بختیار، غلام سرور کے خلاف نیب مقدمات کھلے ہیں ان پر ایکشن اس تیزی کے ساتھ نہیں ہو رہا جیسا کہ اپوزیشن کے مقدمات میں ہو رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نیب کی کارکردگی پر پاکستان کی عدالتیں، سیاست دان اور غیرجانبدار تجزیہ نگار تواتر کے ساتھ تنقید کرتے رہے ہیں۔ یہ کچھ عجب نہیں کہ وزیراعظم کے کچھ اصول پسند مشیر بھی اس تنقید کی تائید کرتے ہیں۔
لیکن اس سب کے باوجود حکومت نہ صرف نیب کے چیئرمین کی تعیناتی کے معاملے کو طول دیتی ہوئی نظر آ رہی ہے بلکہ نیب کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے اس نے چیئرمین کو ہٹانے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ پہلے نیب کے چیئرمین کو سپریم جوڈیشل کونسل ہی نکال سکتی تھی لیکن اب صدر ان کو برطرف کر سکتے ہیں۔ صدر مملکت کے معنی دراصل میں وزیراعظم ہیں کیوں کہ صدر حقیقی اور سیاسی طور پر وزیراعظم کے کہنے پر ہی اہم فیصلے کرتے ہیں۔ نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے احتساب کا جو طریقہ کار اپنایا ہوا ہے اس میں عمران خان اس مہم کی قیادت خود ذاتی طور پر کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ احتساب کی اس مہم میں پاکستانی عوام اور پاکستان نے کیا حاصل کیا ہے؟ احتساب کی اہمیت پر جتنا اصرار کیا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن سوال تو طریقہ کار کا رہا ہے۔ نیب کتنی اہلیت کے ساتھ کتنی غیر جانبداری کے ساتھ اور کتنے انصاف کے ساتھ کام کر رہا ہے؟ معاملہ نواز شریف یا آصف زرداری کا ہرگز نہیں۔ جو لوگ حکومت میں آتے ہیں جو اختیارات استعمال کرتے ہیں چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہوں یا یقینی طور پر کسی بھی ادارے سے ہیں چاہے فوج، عدلیہ ہو احتساب تو سب کا ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان کی عدلیہ بشمول اعلی عدلیہ سپریم کورٹ نے بارہا کہا ہے کہ سعد رفیق اور خاقان عباسی سمیت بیسیوں کیسز میں اہم شواہد مہیا نہیں کر سکا ہے۔ عدالت کا برہم ہو کر یہ بھی کہنا تھا کہ لگتا ہے آپ شاید نیب کیسز کو سیاسی انجینرنگ یعنی سیاسی توڑ پھوڑ اور جوڑ توڑ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہی سچ ہے جبھی تو حکومت نیب کے معاملات ٹھیک کرنے کی بجائے ان کو مزید الجھا رہی ہے جس سے حکومت کے ساتھ ساتھ نیب کی ساکھ بھی صفر رہ گئی ہے۔

Back to top button