نواز شریف اور فوج کے مذاکرات میں تین ممالک ضامن بن گئے

لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں جن میں ضامن کا کردار تین غیر ملکی حکومتیں ادا کر رہی ہیں۔ مذاکرات کے یہ دور تیسرے، دوسرے اور پہلے، تینوں لیولز پر ہوئے۔ شریف خاندان اور مسلم لیگ میں نواز شریف‘ اسحاق ڈار اور حسین نواز کے علاوہ کوئی فرد ان مذاکرات کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ تاہم تین ملکوں نے اس میں اہم کردار ادا کیا جو کہ ان مذاکرات کے گارنٹر بھی ہیں۔
یہ دھماکہ خیز انکشاف سینیئر صحافی اور اینکر پرسن جاوید چوہدری نے اپنی تازہ تحریر میں کیا ہے۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے یہ اعتراف کہ نواز شریف کی نااہلی ختم کروانے اور انہیں پھر سے وزیراعظم بنوانے کے راستے نکالے جا رہے ہیں، ثابت کرتا ہے کہ وقت کے ساتھ اب سیاسی ہوائیں بھی بدل چکی ہیں اور کپتان کی مٹھی سے حکمرانی کی ریت تیزی سے پھسلتی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے مذاکرات کا آغاز پاکستان کو ایک ناکام ریاست بننے سے روکنے کیلئے کیا گیا۔ مذاکرات کی وجوہات بیان کرتے ہوئے جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ انکی تین بڑی وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ ملک کی نازل معاشی حالت ہے، پاکستان معاشی لحاظ سے حقیقتاً تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور یہاں سے واپسی کا کوئی چانس نظر نہیں آ رہا، ہم نے غیرملکی بینکوں سے قرضے تک لینا شروع کر دیے ہیں، ملک میں پہلی مرتبہ ڈیفنس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی قرضے لیے جا رہے ہیں، اگر خدانخواستہ اس صورت حال میں بھارت کی طرف سے کسی قسم کی جارحیت ہو جائے تو ملک کہاں کھڑا ہو گا؟ چناںچہ اس نازک وقت میں نواز شریف سے مذاکرات ضروری تھے۔ دوسری وجہ نواز شریف کا مضبوط مؤقف ہے جو اس بار پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کے پاس چند اہم ترین غیر سیاسی شخصیات کی خفیہ کالز اور وڈیوز کا ایک ٹھیک ٹھاک خزانہ بھی موجود ہے۔ اسکے علاوہ وہ درجنوں ایسے ریاستی رازوں سے بھی واقف ہیں جن کا انکشاف ریاست کو لے ڈوبے گا لہٰذا فیصلہ ساز قوتوں کو محسوس ہوا ہم نے اگر انھیں گنجائش نہ دی اور اپنے پرانے اقدامات ’’ان ڈو‘‘ یا ‘ریورس” نہ کیے تو ہماری آزمائش میں اضافہ ہو جائے گا۔ بقول جاوید، اسٹیبلشمنٹ کے نواز شریف سے مذاکرات کی تیسری وجہ حکومت کی خوف ناک نالائقیاں اور حماقتیں ہیں۔ عمران خان نے نادانی میں ملک کا سارا معاشی پہیہ روک دیا ہے، پاک چین سی پیک پراجیکٹ گیم چینجر تھا لیکن یہ حکومت کی بے وقوفیوں کی وجہ سے رک گیا، حکومت قوم کو بار بار تسلیاں دے رہی ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ سی پیک پر کام بہت سست ہو چکا ہے اور چین اب کپتان حکومت پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس نے ساڑھے تین برسوں میں مواصلات کے وفاقی وزیر مراد سعید کو ایک بار بھی چین کے دورے پر نہیں بلایا۔ تاہم نواز شریف کے ساتھ چین کے تعلقات اب بھی آئیڈیل ہیں اور اگر نواز شریف واپس آتے ہیں تو چین ہماری معیشت میں 35 بلین ڈالر ڈالنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔ یوں ہم معاشی گرداب سے نکل آئیں گے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ریاست بھی اچھی طرح جانتی ہے ہم اگر یہ ڈیل نہیں کرتے تو پھر ہمیں قرضوں سے جان چھڑانے کے لیے اپنے ایٹمی پروگرام سے محروم ہونا پڑے گا جو موت کے برابر ہوگا۔ انڈیا ہمیں اس کے بعد سانس تک نہیں لینے دے گا۔ لہٰذا نواز شریف سے مذاکرات ہوئے اور بات تقریباً فائنل ہو گئی مگر ایشو یہ تھا کہ اگر انہیں واپسی کا موقع دے دیا جاتا ہے، وہ الیکشن لڑتے ہیں اور چوتھی بار وزیراعظم بن جاتے ہیں تو کیا گارنٹی ہے کہ وہ بھائی لوگوں سے انتقام نہیں لیں گے؟ کیا ضمانت ہے کہ وہ جسٹس ثاقب نثار، دو سابق ڈی جی آئی ایس آئی، ایک ریٹائرڈ آرمی چیف اور عمران کے خلاف تحقیقاتی کمیشن نہیں بنائیں گے۔ یہ خدشات درست تھے لیکن دو دوست ملک نواز شریف کی گارنٹی دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ماک چاہتے ہیں کہ نواز شریف واپس آئیں، جیل جائیں، اور مقدمہ لڑیں۔ انھیں ’’فیئر ٹرائل‘‘ کا موقع دیا جائے اور کیس کا فیصلہ اس بار واٹس ایپ پر نہیں ہونا چاہیے۔ اسکے بعد الیکشن ہوں اور اگر عوام نواز شریف کو چوتھی بار وزیراعظم بنا دیتی ہے تو ان کے راستے میں کوئی دیوار کھڑی نہ کی جائے۔
بقول جاوید چوہدری، نواز شریف اور مذاکراتی ٹیم اس کے لیے راضی ہو چکے ہیں لیکن پارٹی اور خاندان کے چند لوگ میاں صاحب کو مشورہ دے رہے ہیں کہ آپ تب تک واپس نہ آئیں جب تک عدالت آپ کے کیس کا فیصلہ نہ سنا دے کیونکہ پچھلی بار بھی نواز شریف اور مریم نواز کو غلط سزا دی گئی تھی۔ نواز شریف کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ عالمی گارنٹیز کے باوجود 16 دسمبر 1971کو پاکستان ٹوٹ گیا تھا اور 27 دسمبر 2007 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا تھا۔ محترمہ بھی بین الاقوامی ضامنوں کی ضمانت پر ملک میں واپس آئی تھیں مگر ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ لیکن جاوید چوہدری کے بقول، نواز شریف اس کے باوجود رسک لینے کے لیے تیار ہیں۔ اب وہ کسی بھی وقت واپس آ سکتے ہیں۔ جنوری کا مہینہ انھیں سوٹ کرتا ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ وہ اگر جنوری میں آتے ہیں تو فروری اور مارچ کے مہینے تک ان کے مقدمات نبٹ جائیں گے اور اگر اس دوران تحریک عدم اعتماد نہیں ہوتی اور شہباز شریف وزیراعظم نہیں بنتے تو نواز شریف 23 مارچ کو لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔ اس دوران منی بجٹ بھی آ چکا ہو گا‘ آئی ایم ایف کے معاہدے کے خوف ناک نتائج بھی سامنے آ چکے ہوں گے اور پی ٹی آئی باقی صوبوں سے بھی بلدیاتی الیکشن ہار چکی ہو گی چناںچہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ اور 23 مارچ کو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کپتان حکومت کے خاتمے کے لیے کافی ہو گا۔
یہ نواز شریف کا فارمولا ہے لیکن سوال یہ ہے کیا عمران خان اس دوران ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے۔ بقول جاوید چودھری، ایسا نہیں ہو گا۔ عمران کے ہاتھ میں اس وقت بھی دو کارڈز موجود ہیں جو وہ ہارنے سے پہلے ضرور استعمال کریں گے۔ لیکن کیا انھیں کارڈ استعمال کرنے کا موقع مل سکے گا؟ یہ ایک بلین ڈالر کا سوال ہے جس کے جواب کے لیے ہمیں دو ہفتے انتظار کرنا ہو گا۔ ڈرامہ تقریباً ختم ہو چکا ہے بس پردہ گرنا باقی ہے، یہ پردہ کون گراتا ہے وہ ہاتھ چند دنوں میں سامنے آ جائیں گے لیکن نواز شریف بہرحال واپس آ رہے ہیں۔
