عمران خان وزیر اعظم بننے کے بعد "لفافہ اعظم” کیسے بنے؟

سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ اپنے ناقد صحافیوں کو لفافہ کہنے والے سابق وزیر اعظم عمران خان اگر اپنے ہوشربا گھڑی سکینڈل کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پائے تو وہ آئیندہ کیلئے "لفافہ اعظم” کہلائیں گے۔ اپنے تازہ تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ 15 نومبر کی شب جیونیوز پر شاہ زیب خانزادہ کے شو میں وہ خریدار سامنے آگیا جس نے سعودی ولی عہد کی طرف سے عمران خان کو تحفے میں دی جانے والی گھڑی خریدی تھی۔ عمران کے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ خان صاحب نے جو بھی کیا قانون کے مطابق کیا لیکن سوال یہ ہے کہ خان صاحب نے ایک نہیں تین گھڑیاں بیچیں۔انہوں نے توشہ خانہ سے انگوٹھیاں، ہار، کف لنکس، آئی فون اور نجانے کیا کیا اونے پونے داموں خریدا اور پھر مہنگے داموں بیچ دیا حالانکہ تحفے بیچے نہیں جاتے۔ ایسے میں خان صاحب کو بتانا ہوگا کہ یہ سب تحفے کہاں گئے؟

حامد میر کے بقول، عمران خان اور انکے ساتھی اپنے ناقد صحافیوں کو لفافہ اور غدار کہتے رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی ایسے کسی الزام کا ثبوت نہیں دیا۔ دوسری جانب شاہزیب خانزادہ اس شخص کو سامنے لے آئے ہیں جسکے پاس عمران خان کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے تحفے میں دی جانے والی ایک گھڑی موجود ہے۔ لہٰذا خان صاحب کو جواب دینا ہو گا کہ یہ گھڑی عمر فاروق ظہور نامی ’’جرائم پیشہ‘‘ شخص کے پاس کس طرح پہنچی؟ فرح خان اور شہزاد اکبر کا دعویٰ ہے کہ وہ عمر فاروق ظہور کو کبھی نہیں ملے۔ اگر انکا دعوی سچ یو تو تو کیا عمران کو تحفے میں ملنے والی بیش قیمت گھڑی اڑ کر دبئی میں عمر فاروق ظہور کےگھر پہنچ گئی؟ خان صاحب کو اس اہم سوال کا جواب تو دینا ہی پڑے گا ورنہ وہ ‘‘ لفافۂ اعظم ‘‘کہلانے کے لیے تیار رہیں۔

گھڑی کے حوالے سے حامد میر ایک پرانا قصہ سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ دنیا کے مطلوب شخص کی کلائی پر بندھی گھڑی میری توجہ کا مرکز بن چکی تھی۔ یہ 1998 کا موسم گرما تھا، اسامہ بن لادن نے امریکہ پر حملوں کا فتویٰ جاری کیا تھا اور کچھ پاکستانی علماء بھی اس فتوے کی حمایت کر رہے تھے۔ پاکستانی اخبارات میں بھی اس فتوے پر بحث جاری تھی۔ قندھار ایئر پورٹ کے قریب اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ پر میں اس فتوے پر ان سے بحث کر رہا تھا۔ میرا سادہ سا سوال تھا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آپ ایسا حملہ کیسے کر سکتے ہیں جس میں بے گناہ غیر مسلموں کے مارے جانے کا خطرہ ہو؟ اسامہ بن لادن کے ساتھ ڈاکٹر ایمن الظواہری اور ابو حفظ المصری بھی موجود تھے یہ دراصل ایک اخبار کیلئے انٹرویو تھا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

میں بار بار سوال میں سے سوال نکال رہا تھا اور اسامہ بن لادن مختلف کتابوں میں سے حوالے نکال نکال کر مجھے دکھا رہے تھے۔ یہ نشست صبح ناشتے کے بعد شروع ہوئی، پھر ظہر کے وقت اسامہ کی گھڑی سے اذان سنائی دی۔ ہم سب نے نماز ادا کی، کھانے کی طلب نہیں تھی لیکن میزبان کے اصرار پر کھانے میں شریک ہونا پڑا اور دوبارہ نشست شروع ہو گئی۔ عصر کے وقت دوبارہ گھڑی میں سے اذان سنائی دی تو میں دلچسپی سے گھڑی کو دیکھنے لگا، اسامہ نے کلائی سے گھڑی اتاری اور بتایا کہ یہ عام سی واٹر پروف گھڑی ہے اور اذان کے اوقات بتاتی ہے پھر انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو پسند ہے تو آپ رکھ لیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں گھڑی استعمال نہیں کرتا کیونکہ بہت سی گھڑیاں گم کر چکا ہوں۔ یہ سن کر اسامہ بن لادن مسکرائے اور انہوں نے وہ گھڑی دوبارہ اپنی کلائی پر باندھ لی۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ اس واقعے کے تین سال بعد گیارہ ستمبر 2001ء کو میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ افغانستان سے ایک شخص مجھے ملنے آیا۔ اس نے مجھے ایک رقعہ دیا اور ساتھ میں ایک گھڑی دی میں نے گھڑی کو دیکھتے ہی پہچان لیا۔ مہمان نے کہا کہ شیخ کا پیغام ہے کہ گھڑی گم نہیں کرنی۔ رقعے میں اسامہ بن لادن کا ایک دستخط شدہ بیان تھا جس میں نائن الیون حملے کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس میں میرا کوئی ہاتھ نہیں لیکن میں حملہ آوروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ دو ماہ بعد جب نومبر 2001ء میں اسامہ بن لادن سے کابل میں آخری ملاقات ہوئی تو میری کلائی پر اپنی تحفہ دی گئی گھڑی دیکھ کر انہوں نے کہا کہ شکر ہے ابھی یہ گم نہیں ہوئی۔ اس انٹرویو میں ایک بار پھر میں نے شیخ اسامہ بن لادن سے تلخ سوالات پوچھے اور انہوں نے ہر سوال کا جواب دیا۔ یہ ان کا آخری انٹرویو تھا جس کے بعد دنیا بھر کے صحافیوں نے میرے بارے مختلف زاویوں سے تحقیقات کیں۔

حامد میر کہتے ہیں اس دوران مالدیپ کے دو صحافی محمد شاہیب اور احمد ظہیر بھی مجھ تک پہنچ گئے۔ ان کی تحقیقات کا مرکز وہ گھڑی تھی جو اسامہ بن لادن نے مجھے دی تھی میں نے انہیں سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ انہوں نے اس گھڑی کی تصاویر بنا لیں۔ جب ان کا انٹرویو تصاویر کےساتھ مالدیپ کے ایک انگریزی اخبار میں شائع ہوا تو میرے لئے نئی مصیبت کھڑی ہوگئی۔ لوگ دور دور سے یہ گھڑی دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ پچھلے سال نائن الیون حملوں کے 20 برس پورے ہونے سے کچھ عرصہ قبل مجھے کینیڈا کے ایک میوزیم نے کہا کہ آپ اسامہ بن لادن کی گھڑی ہمیں فروخت کر دیں، میں نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ یہ ایک تحفہ یے جسے میں فروخت نہیں کر سکتا۔ میوزیم والوں نے اس گھڑی بارے جامع ریسرچ کر رکھی تھی انہوں نے گھڑی کا ماڈل اور دیگر تفصیلات بتاکر کہا کہ یہ بہ مشکل چند ہزار روپے کی چیز ہے، ہم آپ کو جو قیمت ادا کریں گے وہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میں نے بڑی شائستگی سے انہیں اپنی معاشرتی روایات کے متعلق بتایا اور کہا کہ تحفہ واقعی معمولی ہے لیکن تحفے بیچے نہیں جاتے۔ کینیڈا کے میوزیم کی جانب سے رابطہ کرنے والی خاتون وکیل نے کہا کہ آپ کا تحفہ ہے لہذا آپ کی مرضی، لیکن میرا رابطہ نمبر اور ای میل ضرور محفوظ کر لیں۔ آپ کا جب بھی گھڑی بیچنے کا موڈ بنے تو ہم سے ضرور رابطہ کیجئے گا۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ اس سال فروری میں کینیڈین خاتون وکیل نے دوبارہ مجھ سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا آپ نے یہ خبر سنی ہے کہ آپ کے وزیر اعظم نے سعودی کرائون پرنس سلمان کی طرف سے تحفے میں دی جانے والی ایک گھڑی بیچ دی ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ جی ہاں مجھے پتہ ہے۔ خاتون نے بڑے شائستہ لہجے میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو کہتے تھے کہ تحفے بیچنا آپکی معاشرتی روایات کے خلاف ہے تو پھر آپ کے وزیراعظم نے تحفہ کیوں بیچا؟ میں نے خاتون کے شائستہ طنز کا تلخ انداز میں جواب دیا تو وی فوری معذرت کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ دیکھئے آپ کے وزیراعظم نے جو بھی کیا یے، قانون کے مطابق کیا ہے۔

ہم بھی اسامہ کی گھڑی خریدنے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کر کے آپ کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں، آپ کو جو بھی رقم ملے اسے آپ فوری طور پر انکم ٹیکس اتھارٹیز کے سامنے ڈیکلیئر کردیجئے گا، اپنے وزیراعظم کی طرح تین سال بعد ڈیکلیئر نہ کیجئے گا، آپ کو کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ میں نے جواب میں خاتون وکیل سے پوچھا کہ کیا میں یہ گھڑی آپ کو میوزیم میں رکھنے کے لیے مفت عطیہ کر سکتا ہوں اور کیا آپ مجھے تحریری ضمانت دیں گی کہ یہ گھڑی آگے کسی اور کو فروخت نہیں ہو گی؟ خاتون نے کہا کہ میں جلد آپ کو دوبارہ کال کروں گی لیکن پھر ان کی کال نہیں آئی۔

Back to top button